اللّٰه کے اچهے بندوں کے صفات



حدیث :

عن ابن عمر قال :خطبنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبةً   ذرفت منہا العیون ووجلت منہاالقلوب فکان مما ضبطت منہا:ایہاالناس ان افضل الناس عبداً من تواضع عن رفعة ،وزہد عن رغبة،وانصف عن قوة،وحلم عن قدرتہ [1]

ترجمہ :

ابن عمر سے روایت ہے کہ پیغمبر(ص) نے ہمارے لئے خطبہ بیان فرمایاجس سے ہماری آنکھوں میں آنسوں آگئے اور دل لرز گئے اس خطبہ کا کچھ حصہ میںنے یاد کرلیا جو یہ ہے:”اے لوگو! اللہ کا بہترین بندہ   وہ ہے جوبلندی پر ہوتے ہوئے انکساری برتے،دنیا سے لگاؤ ہوتے ہوئے بھی زہد اختیار کرے، قوت کے ہوتے ہوئے انصاف کرے اور قدرت کے ہوتے ہوئے حلم و بردباری سے کام لے۔

حدیث کی تشریح :

حدیث کے اس حصہ سے جو اہم مسلہ ابھر کر سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ تر گناہ کبھی قدرت نہ ہونے کی بنا پر ہوتا ہے اور کبھی گناہ میںدلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے، جیسے کسی کو شراب اصلاً پسند نہ ہو یا پسند تو ہو مگر پینے پر قادر نہ ہو یا شراب نوشی کے مقدمات اسے مہیہ نہ ہو یا اس کے نقصانات کی وجہ سے نہ پیتا ہو۔جس چیز کو قدرت نہ ہونے کی بناپر چھوڑ دیا جائے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ انسان قدرت کے ہوتے ہوئے گناہ نہ کرے اورپیغمبر(ص) کے فرمان کے مطابق سماج میں اونچے مقام پر ہوتے ہوئے بھی انکسار ہو [2]

ترک گناہ کے سلسلے میں لوگوں کی کئی قسمیں ہیں ایک گروہ ایسا ہے جو،کچھ گناہوں سے ذاتی طور پر نفرت کرتا ہے اور ان کو انجام نہیں دیتا لہٰذا ہر انسان کو اپنے مقام پر سوچناچاہئے کہ وہ کس حرام کی طرف مائل ہے تاکہ اس کو ترک کرسکے۔ البتہ اپنے آپ کو پہچاننا کوئی آسان کام نہیں ہے کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان میں کچھ صفات پائے جاتے ہیں مگر ساٹھ سال کا سن ہوجانے پر بھی انسان ان سے بے خبر رہتا ہے ۔کیونکہ کوئی بھی انسان اپنے آپ کو تنقید کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ معنوی افعال کے میدا ن میں ترقی کرے اور   اونچے مقام پر پہونچے   تو اسے چاہئے کہ اپنے آپ کو   تنقیدی نگاہ سے دیکھے تاکہ اپنی کمزوریوںکو جان سکے۔اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اپنی کمزوریوں کو جاننے کے لئے دشمن اور تنقید کرنے والے (نہ کہ عیبوںکو چھپانے والے )دلسوز دوست کا سہارا لو۔اور ان سب سے بہتر یہ ہے کہ انسان اپنے اوپر خود تنقید کرے اگر انسان یہ جان لے کہ وہ کن گناہوںکی طرف مائل ہوتاہے ،اس میں کہاں لغزش پائی جاتی ہے اور شیطان کن وسائل   و جذبات کے ذریعہ اس کے وجود سے فائدہ اٹھاتا ہے تو وہ کبھی بھی شیطان کے جال میں نہیں پھنس سکتا۔

اسی وجہ سے پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا کہ:”سب سے بہتر انسان وہ ہے جو رغبت کے ہوتے ہوئے زاہد ہو،قدرت کے ہوتے ہوئے منصف ہو اور عظمت کے ساتھ متواضع ہو “

یہ پیغام سب کے لئے ہے خاص طور پر اہل علم افراد کے لئے اس لئے کہ علماء عوام کے پیشوا ہوتے ہیں اور پیشوا کو چاہئے کہ دوسر لوگوں کو تعلیم دینے سے پہلے اپنی تربیت آپ کرے۔ انسان کامقام جتنازیادہ بلند ہوتا ہے اس کی لغزشیں بھی اتنی ہی بڑی ہوتی ہیں اور جو کام جتنازیادہ حساس ہوتا ہے اس میں خطرے بھی اتنے ہی زیاد ہوتے ہیں”المخلصون فی خطرعظیم“ مخلص افراد کے لئے بہت بڑے خطرے ہیں ۔انسان جب تک جوان رہتا ہے گناہ کرتا رہتا ہے اور کہتا ہے کہ بڑھاپے میں توبہ کرلیںگے ۔یہ توبہ کا ٹالنا اور توبہ میںدیر کرنا نفس اور شیطان کا فریب ہے۔ یا یہ کہ انسان اپنے نفس سے وعدہ کرتا ہے کہ جب رمضان آئے گا تو توبہ کرلوں گا جبکہ بہتر یہ ہے کہ اگر کوئی اللہ کا مہمان بننا چاہے تواسے چاہئے کہ پہلے اپنے آپ کو برائیوں سے پاک کرے اور بدن پر تقوی کا لباس پہنے اور پھر مہمان بننے کے لئے قدم بڑھائے،نہ یہ کہ اپنے گندے لباس(برائیوں)کے ساتھ شریک ہو۔ [3]


[1] بحار الانوار ،ج/ ۷۴ ص/ ۱۷۹



1 next