صفات مومن



مقدمہ :

گذشتہ اخلاقی بحث میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث نقل کی جس میں آپ حضرت علی علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کوئی بھی اس وقت تک مومن نہیں بن سکتا جب تک اس میں ایک سو تین صفات جمع نہ ہوجائیں،یہ صفات پانچ حصوں میں تقسیم ہوتی ہیں ۔پانچ صفات کل کے جلسہ میں بیان ہو چکی ہیں اور دیگر پانچ صفات کی طرف آج اشارہ کرنا ہے ۔

حدیث :

” ۔ ۔ ۔ ۔ ۔کریم المراجعة،اوسع الناس صدراً،اٴذلہم نفساً ،ضحکة تبسماً،واجتماعہ تعلماً ۔ ۔   [1]

ترجمہ :

اس کی مراجعت کریمانہ ہوتی ہے ،اس کا سینہ سب سے زیادہ کشادہ ہوتا ہے ،وہ بہت زیادہ متواضع ہوتا ہے ،وہ اونچی آواز میں نہیں ہنستا،اور جب وہ لوگوں کے درمیان ہوتا ہے تو تعلیم و تعلم کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مومن کی چھٹی صفت”کریم المراجعة“ ہے

 یعنی وہ کریمانہ اندز میں ملتا جلتا ہے۔ اس میں دو احتمال پائے جاتے ہیں :

1.      جب لوگ اس سے ملنے آتے ہیں تو وہ ان کے ساتھ کریمانہ سلوک کرتاہے۔یعنی وہ جن کاموں کے لے آتے ہیں اگر وہ   ان پر قادر ہوتا ہے   تو اسی وقت انجام دے دیتا ہے یا یہ کہ ان کو آئندہ انجام دینے کا وعد ہ کرلیتا ہے اور اگر قادر نہیں ہوتا تومعذرت کرلیتا ہے ۔قرآن کہتا ہے کہ قول معروف و مغفرة خیر من صدقة یتبعہااذی والله غنی الحلیم [2]

2.      یا یہ کہ جب وہ لوگوں سے ملنے جاتا ہے تو اس کا ا نداز کریمانہ ہوتا ہے یعنی اگر کسی سے کوئی چیز چاہتا ہے تو اس کا انداز مادبانہ ہوتا ہے اور اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے اصرار کرکے سامنے والے کو شرمند ہ نہیںکرتا۔



1 2 next