صفات مومن



مقدمہ :

پچھلے جلسوں میں ہم نے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث ،جو آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے خطاب فرمائی بیان کی یہ حدیث مومن کامل کے ایک سو تین صفات کے بارے میں تھی۔اس حدیث سے سولہ صفات بیان ہو چکے ہیں اور اب چھ صفات کی طرف اور اشارہ کرنا ہے ۔

حدیث :

” ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بریئاًمن المحرمات،واقفاً عند الشبہات،کثیر العطاء،قلیل الاذیٰ،عوناً للغریب،واباً للیتیم ۔ ۔ ۔ ۔   [1]

ترجمہ :

مومن حرام چیزوں سے بیزار رہتا ہے ،شبہات کی منزل پر توقف کرتا ہے اور ان کا مرتکب نہیںہوتا،اس کی عطا بہت زیادہ ہوتی ہے،وہ لوگوں کو بہت کم اذیت دیتا ہے ،مسافروں کی مدد کرتا ہے اور یتیموں کے لئے باپ ہوتا ہے۔

حدیث کی شرح :

مومن کی سترہویں صفت”بریئاً من المحرمات “ ہے۔

 یعنی مومن وہ ہے جو حرام سے بری اور گناہ سے بیزار ہے ۔گناہ انجام نہ دینا اور گناہ سے بیزار رہنا ان دونوں باتوں میں فرق پایا جاتا ہے ۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو گناہ میں لذت تو محسوس کرتے ہیں مگر الله کی وجہ سے گناہ کو انجام نہیں دیتے ”یہ ہوا گناہ انجام نہ دینا“ مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو تہذیب نفس کے ذریعہ اس مقام پر   پہونچ جاتے ہیں کہ ان کو گناہ سے نفرت ہو جاتی ہے اور وہ ہر گزگناہ سے   لذت نہیں لیتے۔ بس یہی گناہ سے بیزاری ہے۔انسان کو اس مقام پر پہونچنے کے لئے (جہاں پر الله کی اطاعت سے لذت اور گناہ سے نفرت پیدا ہو جاے)بہت زیادہ زحمتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مومن کی اٹھارہویںصفت”واقفاً عند الشبہات“ ہے۔



1 2 next