صفات مومن



مقدمہ :

گذشتہ جلسوں میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی جو آپ نے حضرت علی علیہ السلام سے خطاب فرمائی تھی اس حدیث میں مومن کے ایک سو تین صفات بیان فرمائے گئے ہیں جن میں سے بائیس صفات بیان ہو چکے ہیں اور آج   اس جلسہ میں ہم چار صفات اور بیان کریں گے۔

حدیث :

” ۔ ۔ ۔ ۔ احلی من الشہد واصلد من الصلد ،لا یکشف سراً ولا یحتک ستراً ۔ ۔ ۔ [1]

مومن شہد سے زیادہ شرین اور پتھر سے زیادہ سخت ہوتا ہے ،جو لوگ اس کو اپنے راز بتا دیتے ہیں وہ ان کو آشکار نہیں کرتااور اگر خود سے کسی کے راز کو جان لیتا ہے تو اسے بھی ظاہر نہیں کرتا۔

حدیث کی تشریح :

 

مومن کی تیئیسویں صفت”احلی من الشہد“ہے۔

 مومن شہد سے زیادہ شرین ہوتا ہے یعنی دوسروں کے ساتھ اس کا سلوک بہت اچھا ہوتا ہے ۔ائمہ معصومین اور خاصطور پر حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں مشہور ہے کہ آپ کی نشست اور ملاقاتیںبہت شرین ہوا کرتی تھیں۔آپ اہل مزاح اور ظریف باتیں کرنے والے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ انسان جتنا زیادہ مقدس ہو، اسے اتناہی زیادہ ترشرو ہو نا چاہئے ۔جبکہ واقعیت یہ ہے کہ انسان کی سماجی،سیاسی،تہذیبی ودیگر پہلوؤں میںترقی کے لئے جو چیز سب سے زیادہ موثر ہے وہ اس کا نیک سلوک ہی ہے ۔کبھی کبھی سخت سے سخت اور مشکل سے مشکل کام کو بھی نیک سلوک ،محبت بھری باتوں اور خندہ پیشانی کے ذریعہ حل کیا جا سکتا ہے ۔نیک سلوک کے ذریعہ جہاں عقدوں کو حل اور کدورت کو پاک کیا جا سکتا ہے وہیں غصہ کی آگ کو ٹھنڈا کرکے آپسی تنازع کو بھی ختم کیا جاسکتا ہے ۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ”اکثر ما تلج بہ امتی الجنة تقویٰ الله وحسن الخلق“ [2] میر امت کے زیادہ تر افراد اچھے اخلاق اور تقویٰ کے ذریعہ جنت میں جائیں گے ۔



1 2 next