شيعوں کے صفات



مقدمہ :

بحار الانوار کی ۶۵ ویں جلد کا ایک حصہ” شیعوں کے صفات “کے بارے میں ہے۔ کتنا اچھا ہو کہ ہم سب اس حصہ کو پڑھیں اورسمجھیں کہ اس مقدس  نام  (شیعہ اہلبیت) کے تحت کتنی ذمہ داری ہیں۔ صرف دعویٰ کرنے سے کوئی شیعہ نہیں ہو سکتا۔صرف اس بات سے کہ میرے ماں باپ شیعہ تھے  لہذامیں شیعہ ہوں،شیعہ نہیں ہوسکتے۔ شیعہ ہونا ایک ایسا مفہوم ہے جس کے تحت  انسان کو بہت سی ذمہ داریوں کو قبوت کرنا پڑتا ہے۔  اور انھیںذمہداریوں کومعصومین علیہم السلام نے ” صفات شیعہ“ کے عنوان سے   بیان فرمایا ہے۔

میسر بن عبد العزیز حضرت امام باقر علیہ السلام کے مشہور اصحاب میں سے تھے،ان کا ذکر علم رجال میں بھی ملتاہے۔ امام باقر علیہ السلام نے میسر کے بارے میں ایک جملہ ارشاد فرمایا  تھا اور وہ  یہ ہے:” اے میسر کئی مرتبہ تیری موت آئی لیکن اللہ نے اس کو اس لئے  ٹال دیا کیونکہ تونے اپنے عزیزوں کے ساتھ صلہٴ رحم کیا اورکی مشکلات کو حل کیا۔ “

متن حدیث :

حضرت امام باقر علیہ السلام نے ایک حدیث میں میسر سے فرمایا کہ:” یا میسر الا اخبرک بشیعتنا قلت بلیٰ جعلت فداک قال: انہم حصون حصینة و صدور امینة و احلام  وزینة لیسوابالمذیع البذر ولا بالجفات المرعین رہبان باللیل اسد بالنہار “

ترجمہ:

کیا میں تجھے اپنے شیعوں کی پہچان بتاؤں؟ اس نے عرض کیا میری جان آپ پر قربان  ارشاد  فرمائے۔ آپ نے فرمایا وہ قلعہ کی طرح مضبوط ہیں اور ان کے سینے امانتدار ی سے لبریز ہیں۔ وہ صاحبان عقل وزین متین ہیں، وہ نہ فواہ اڑا تے ہیں اور نہ  ہی ر ازوں کو  فاش کرتے ہیں ،وہ خشک ،روکھے، سخت اور ریاکار نہیں ہیں،وہ رات میں رہبان اور دن میں شیر ہیں۔

  حدیث کی شرح :

یہ ایک چھوٹی سی حدیث ہے جس میں شیعوں کے سات صفات  بیان کئے گئے ہیں۔ لیکن اس میں مطالب اور ذ مہ داریوں کی ایک دنیا  سما ئی ہوئی ہے ۔ شاید ”حصون حصینة “ کے یہ معنی ہیں کہ شیعہ وہ ہیں جن پر دشمن کی تبلیغ کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ آج جبکہ دنیا کی تہذیب خطرناک صورت میں ہمارے جوانوں کو تہدید کررہی ہے ، کیا ہم نے کوئی ایسا  حل تلاش کر لیا ہے جس کے ذریعہ ہم اپنی جوان نسل کو مضبوط بنا سکیں؟اگر آج ہم برائیوں کے  ان کیڑوں کو ختم نہیں کرسکتے تو کم سے کم اپنے آپ کو مضبوط تو بنا  سکتے ہیں۔ہمیں  اس نکتہ پر بھی توجہ دینی چاہئے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام کو اپنے زما نہ  میں ایک گلہ یہ بھی تھا کہ ہمارے کچھ شیعہ ہمارے رازوں کو فاش کردیتے ہیں۔ رازوں کو فاش کرنے سے مرادیہ تھی کہ ائمہ معصومین علیہم السلام کے مقام و عظمت کو ہر کسی کے سامنے بیان کر دیتے تھے  جیسے  امام کے علم غیب،امام کے روز قیامت شفیع ہونے،امام کے رسول کے علم کا امانتدار ہونے، امام کے شیعوں کے اعمال پر شاہد و  ناظر ہونے اور معجزات وغیرہ کا بیان، یہ سب وہ راز تھے جن کو دشمن اور  عام لوگ        بر داشت نہیںکرپاتے تھے ۔ کچھ سادہ لوح شیعہ ایسے تھے جہاں بھی بیٹھتے تھے سب باتوں کو بیان کردیتے تھے ۔اور ان باتوں سے اختلاف ، عداوت و دشمنی کے علاوہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا تھا۔ امام نے فرمایا کہ ہمارے شیعہ وہ ہیں جن کے سینے  امانتدار ہیں ، کسی خاص سبب کے بغیر راز کو فاش نہیں کرتے ۔ شیعوں اور غیروں کے درمیان اختلاف پیدا نہیںکرتے ۔ آج کے زما نہ میں غلا تی لو گ  ان سے بھی بد ترہیں جو تازہ پیدا ہوئے ہیںیہ  ولایت کے بہانے سے کفر یا بہت سی ایسی نامناسب باتیں ائمہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ جن سے ائمہ ہرگز راضی نہیں ہیں۔ہم کو چاہئے کہ ان جدید غلات سے چوکس رہیں ، ان میں دو عیب پائے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ یہ خود کو ہلاک کرتے ہیں کیونکہ ان لوگوں کا خیال یہ ہے کہ اگر ہم اللہ کے صفات ائمہ معصومین علیہم السلام یا حضرت زینب سلام اللہ علیہا  یا شہداء کربلا علیہم السلام کی طرف منسوب کریں تو یہ عین ولایت ہے۔اور ہمارے  زما نہ کی سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ یہ زمانہ میڈیا کا زمانہ ہے  اگراب  صبح میں ایک بات کہی جائے  تو ایک گھنٹے کے بعد یہ خبر دنیا کے ہرگوشہ میں پہونچ جائے گی۔ لہٰذا یہ غلو آمیز اور نامناسب باتیںیہاں سے فورا وہاں  پہو نچ جا تی ہیں اور وہ اس کو نشر  کر کے شیعیت کے دامن پر ایک دھبہ لگا دیتے ہیں اور بعد میں مختلف ممالک میں دیواروں پر لکھ دےا جا تا ہے کہ شیعہ کافر ہیں۔ اور پھر  اس بہا نہ شیعوں کا قتل عام شروع ہو جاتاہے ۔ ان احمق و نادان لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ ان کی یہ  باتیں دنیا کے دوسرے مقامات پر شیعوں کے قتل عام کا سبب بنتی ہیں ۔ وای ہو ایسے نادان اور جاہل ساتھیوں پر ،وای ہو اس زمانہ پر کہ جس میںہماری مجلسوں کی نبض جاہل ونادان افراد کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔ان باتوں کی طرف سے لاپرواہ نہیں رہنا چاہئے ،مجالس کی باگڈور اس طرح کے افراد کے ہاتھوں میں نہ ہو کر علماء کے ہاتھوں میں ہونی چاہئے۔

بہرحال وہ صفات جو یہاں پر شیعوں کے لئے بیان کئے گئے ہیں ان میں ایک یہ ہے کہ وہ سخت مزاج نہیں ہوتے  بلکہ شیعہ محبت سے لبریز ہوتے ہیں ، ان کے مزاج میں لطافت پائی جاتی ہے۔ان میںعلی بن ابی طالب علیہ السلام ،امام صادق علیہ السلام اور ان  ائمہٴ ہدیٰ علیہم السلام کی خو،بو پائی جاتی ہے جو دشمنوں سے بھی محبت کرتے تھے۔



1 2 next