شيعوں کے صفات



مقدمہ :

بحار الانوار کی جلدنمبر ۶۵ میں دو باب بہت اہم ہیں:( ۱) فضائل شیعہ ( ۲) صفات شیعہ

یہ باب فضائل شیعہ ، مقامات شیعہ، شرائط شیعہ ا ور ان کے اوصاف کو بیان کرتے ہیں،  اس معنی میں کہ جہاں احادیث میں شیعوں کے مقامات بیان ہوئے ہیں وہیں ان مقامات کے ساتھ ساتھ شیعوں کے وظائف بھی معین کئے گئے ہیں ۔

متن حدیث :

قال الصادق علیہ السلام : امتحنوا شیعتنا عند مواقیت الصلاة کیف محافظتہم علیہا و الیٰ اسرارنا کیف حفظہم لہا عند عدونا والیٰ اموالہم کیف مواساتہم لاخوانہم فیہا

ترجمہ :

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ہمارے شیعوں کا نماز کے وقت امتحان کرو کہ وہ نماز کو کس طرح اہمیت دیتے ہیں اور ہمارے مقامات اور رازوںکے بارے میں ان کای آزمایش کرو کہ وہ ان کو  ہما رے دشمن  سے کس طرح چھپا تے  ہیں  اور اسی طرح  ان کے مال بارے میں ان کو آزماؤ کہ وہ  اس سے اپنے دوسرے بھائیوں کی کس طرح مدد کرتے ہیں ۔

حدیث کی شرح :

امتحنوا شیعتنا عند مواقیت الصلاة یعنی نماز کے وقت کو اہمیت دیتے ہیں یا نہیں ؟ نمازکے وقت کام کو  ٹالتے ہیں  یا نمازکو ؟کچھ لوگوں کاماننا ہے کہ نماز خالی وقت کے لئے ہے۔  اور وہ یہ کہتے ہیں کہ اول وقت رضوان اللہ و آخر وقت غفران اللہ ۔کچھ اہل سنت کہتے ہیں کہ حقیقی مسلمان تو ہم ہیں ،کیوں کہ نماز کو جو اہمیت ہم دیتے ہیں، تم نہیں دیتے ہو ۔

نماز کی اہمیت کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام مالک اشتر کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :اجعل افضل اوقاتک للصلاة یعنی اپنا بہترین وقت نماز کے لئے قرار دو۔

” کیف محافظتہم علیہا“  یہاں پر کلمہ ”محافظة“ اس معنی میں ہے کہ نماز کے لئے بہت سی آفتیں ہیں جن سے نماز کی حفاظت بہت ضروی ہے۔ہم روحانی حضرات کو چاہئے کہ عوام کے لئے نمونہ بنیں ۔میں اس زمانہ کو نہیں بھول سکتا جس وقت میں طالب علم تھا اور  امام خمینیۺ حوزہ علمیہ قم میں مدرسی کے فریضہ کو انجام  دے رہے تھے ،مرحوم آیة اللہ سعیدی نے ہماری دعوت کی تھی ، اس موقع پر امام بھی تشریف فرما تھے اور ہم لوگ علمی بحث و مباحثہ میں مشغول تھے جیسے ہی اذان کی صدا بلند ہوئی امام بغیر کسی تاخیر کے بلافاصلہ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ۔قانون یہی ہے کہ ہم کہیں پر بھی ہوں اور کسی کے بھی ساتھ ہوں نماز کو اہمیت دیں ،خاصطور پر صبح کی نماز کو۔آج کل ایک گروہ صبح کی نماز کو استصحاب کے ساتھ پڑھتا ہے یہ طلبہ کے شایان شان نہیں ہے ۔



1 next