صفات شيعه



مقدمہ :

آج ہم اہل بیت علیہم السلام کے شیعوں کے بارے میں دو حدیثیں بیان کر یںگے ، پہلی حدیث شیعوں کے فضائل سے متعلق ہے اور دوسر حدیث شیعوں کے صفات سے مربوط ہے ۔

( ۱ ) دخلت علیٰ ابی بکر الحضرمی وہو یجود بنفسہ فنظر الی وقال لیت سعة الکذب اشہدعلیٰ جعفر بن محمد انی سمعتہ یقول :لا تمس النار من مات وہو یقول بہذا الامر

(۲) سلیمان بن مہران قال دخلت الصادق علیہ السلام وعندہ نفر من الشیعة وہو یقول معاشر الشیعة کونوا لنا زینا ولاتکونوا علینا شئنا کونوا للناس حسنا احفظوا السنتکم و کفواہا عن الفضول و قبیح القول [1]

ترجمہ :

  (1) راوی کہتا ہے کہ میں امام صادق علیہ السلام کے ایک مخصوص ساتھی ابوبکر حضرمی کے پاس اس وقت گیا جب وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات میں تھے ،انھوں نے میرے اوپر ایک نگاہ ڈالی اورکہا کہ دیکھو یہ جھوٹ بولنے کا وقت نہیں ہے  میں امام صادق علیہ السلام کے بارے میں شہادت دیتا ہوں ،میں نے ان کو یہ  فرما تے  ہئو سنا ہے کہ جوشخص اس حالت میں مرے کہ اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کا قائل ہو اس کو جہنم کی آگ چھو بھی نہیں سکتی۔

 (2) سلیمان بن مہران نے کہا کہ میں ایک بار امام صادق علیہ السلام کے پاس گیا ان کے پاس کچھ شیعہ بیٹھے ہوئے تھے  اور وہ ان سے یہ فر ما رہے تھے کہ اے شیعو! ہمارے لئے زینت بننا ، ہمارے لئے رسوائی کا سبب نہ بننا۔لوگو سے اچھی طرح باتیں کرو  اور اپنی زبان پر قابو رکھو ،فالتو اور بری بات کہنے سے پرہیز کرو ۔

حدیث کی شرح :

امام صادق علیہ السلام:اس حدیث میں دو مطالب بیان فرما رہے ہیں ان میں سے ایک قاعدہ کلی ہے  اور دوسرا ایک روشن مصداق۔قاعدہ کلی  تو یہ ہے کہ اپنے اعمال کے ذریعہ ہماری رسوائی کا سبب نہ بننا یعنی تم اس طرح بنو کہ جب لوگ تم کو دیکھیں تو تمھارے صاحب مکتب پر درود پڑھیں اور کہیں کہ مرحبا اس انسان کے لئے جس نے ان لوگوں کی  تربیت کی ہے ۔ دیکھو ہماری رسوائی کا سبب نہ بننا ،کیونکہ ہم پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد ہیں ۔ اس کے بعد خاص مصداق کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو کہ ”زبان “ہے ۔علمائے اخلاق کہتے ہیں کہ سیرسلوک الی اللہ میں وہ پہلی چیز جس کی اصلاح ہونی چاہئے زبان ہے ۔ کیں کہ جب تک زبان کی اصلاح نہیں ہوگی دل پاک نہیں ہوسکتا ”اختبروا ہم بصدق الحدیث “جب لوگوں کا امتحان کرنا چاہو تو یہ  دیکھو کہ وہ سچ بولتے ہیں یاجھوٹ ، اگر زبان پر قابو ہوتا ہے تو صحیح گفتگوہوتی ہے  اور جو کچھ کہا جاتا ہے  وہ سوچ سمجھ کر کہا جاتا ہے ۔ زبان کو قابو میں رکھنے کے لئے ایک طریقہ تویہ ہے  جو روایت کے آخر میں بیان کیاگیا ہے” کفواہا عن الفضول“یعنی زیادہ نہ بولو،کم بولنا سیرو سلوک کی راہ  میں  پہلا قدم ہے جس کا نام ”صمت “ہے ۔ایک دانشمند کہتا ہے کہ پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جو ہر ناقص چیز کو پورا کردیتی ہیں   

  صمت و صوم ،سحر و عزلت و ذکر ی بہ دوام



1 next