صفات شيعه



مقدمہ :

آج کی اخلاق کی بحث” فضائل و صفات شیعہ “کی بحث کا ادامہ ہے ۔مرحوم علامہ مجلسیۺ نے شیعوں کے فضائل و صفات کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے اور  بہت سی روایتیں نقل کی ہیں ۔بہتر  آج اس  بات کی ضرورت ہے کہ ہم  ان بحثوں کو خود بھی پڑھیں و سمجھیں اور دوسروں کو بھی ان کے بارے میں بتائیں، تاکہ وہ افراد جو اپنے آپ کو شیعہ کہہ کر اپنے دل کو خوش کرلیتے ہیں وہ جان لیں کہ اہل بیت کا شیعہ ہونا کوئی آسان کام نہیں ہے۔

آج کی بحث میں ہم ایک ایسی حدیث بیان کریں گے جو شیعوں کی فضیلت کے ساتھ ساتھ شیعوں کی ذمہ داریوں کو بھی بیان کرتی ہے۔ یہ امام صادق علیہ السلام کی حدیث ہے جو آپ نے ابوبصیر سے بیان کی تھی۔آج اس حدیث کے فقط چند جملے عرض کرنے ہیں ۔

حدیث :

عن محمد بن اسماعیل عن ابیہ قال:کنت عند ابی عبد اللہ علیہ السلام اذا دخل علیہ ابوبصیر  فقال یا ابا محمد لقد ذکر کم اللہ فی کتابہ فقال :”ان عبادی لیس لک علیہم ا لسلطان “ [1]  واللہ ما اراد بہذا الا الائمة علیہم السلام شیعتہم فہل سررتک یا ابامحمد ؟قال :قلت:جعلت فداک زدنی [2]

ترجمہ :

ابوبصیر امام صادق علیہ السلام کی مجلس میں داخل ہوئے اور بیٹھ کر تیز سانس لینے لگے ۔امام نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کیا کچھ پریشانی ہے ؟ابوبصیر نے عرض کیا میں بوڑھا اور کمزور ہو گیا ہوں ،اب میرے لئے سانس لینا دشوار ہے ،موت کے دروازہ پر کھڑا ہوں ،لیکن ان سب سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ میں موت کے بعد کے حالات سے پریشان ہوں ،نہیں جانتا کہ میری تقدیر میں کیا ہے ؟امام نے فرمایا تم ایسی باتیں کیوں کررہے ہو؟ تم تو شیعوں کا افتخار ہو اس کے بعد امام نے شیعوں کے فضائل بیان فرمانے شرو ع کئے  امام شیعوں کے فضائل بیان فرما تے رہے  اور ہر فصل بیان کرنے کے بعد پوچھتے رہے کہ کیا تم اس مطلب سے خوش ہوئے  ؟ اور ابوبصیر کہتے تھے کہ جی ہاںمیں آپ پر فدا اور بیان فرمائیے

آخر میں امام نے فرمایااے ابوبصیر اللہ نے قرآن میں تم شیعوں کی طرف اشارہ کیا ہے  اور فرمایا ہے کہ شیطان میرے بندوں پر تسلط قائم نہیں کرسکتا اور اللہ کی قسم یہاں پر بندوں سے اللہ کی مراد ائمہ اور ان کے شیعہ ہیںان کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے ۔

حدیث کی شرح :

  اکثر جوانوں کی طرف سے شیطان کے بارے میں چند سوالات کئے جاتے ہیں، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم ان کے بارے میں چھان بین کریں ۔



1 2 next