بد گمانى



زندگى کے روشن و تاريک پھلو

انسان کى زندگى راحت و تکليف سے عبارت ھے ۔ ان ميں سے ھر ايک انسان کى کوتاہ و محدود زندگى پر سايہ فگن ھے ھر شخص اپنے مقسوم کے مطابق ان دونوں سے دو چار ھوتا ھے اور اسى تلخ حقيقت کے مطابق انسان راحت و الم کے درميان اپنى پورى زندگى گزار ديتا ھے ۔

يہ تو ھمارے امکان سے باھر کى بات ھے کہ اس ناموس ابدى ميں کوئى تغير کر ديں اور اپنى مرضى کے سانچہ ميں اس کو ڈھال ليں ۔ ليکن يہ بھرحال ممکن ھے کہ زندگي کى حقيقت کو جان لينے کے بعد اس زندگى کے خوبصورت موجودات کى طرف اپنى نظروں کو موڑ ديں اور اس کے بد شکل موجودات کى طرف سے اپنى نظروں کو ھٹا ليں ۔ يا اس کے بر عکس اشياء کے روشن و درخشندہ پھلوؤں کو بھول کر ان کے سياہ و تيرہ و تار پھلوؤں کى طرف متوجہ ھو جائيں ۔ مختصر لفظوں ميں يوں سمجھئے کہ ھر شخص کے پاس اتنى قدرت ھے کہ اپنى فکر کو ان دونوں ميں سے کسى ايک طرف مرکوز کر دے ۔ اور اپني دنيا کو اسى رنگ ميں رنگ لے جس کى طرف اس کا ميلان ھے ۔

ھمارے لئے يہ بھى ضرورى ھے کہ ايسى نا ملائم چيزيں جو زندگى کے لئے سدّ راہ بنتى ھوں ان سے مقابلہ کرنے کے لئے اپنى برد بارى کو محفوظ کر ليں ۔ ورنہ پھر ھم ايسى خسارتوں سے دو چار ھوں گے جن کا جبران ممکن نہ ھو گا ۔ اور يہ بھى ھو سکتا ھے کہ حادثات کے مقابلہ ميں ھم سر نگوں ھو جائيں ۔

بعض لوگوں کا خيال ھے کہ اگر زندگى کے حادثات اس طرح نہ ھوتے جيسے کہ ھيں تو ھم سب سعيد و نيک بخت ھوتے ليکن يہ تصور غلط ھے کيونکہ ھمارى بد بختيوں کا ڈنڈا حادثات زندگى سے نھيں ملتا ۔ بلکہ ھمارى شقاوت و بد بختى کا دار مدار حادثات سے کس طرح نمٹنے پر موقوف ھے کيونکہ يہ ممکن ھے کہ عوامل خارجى کے اثرات کو انسان اپنے دل و جان اوراپنى روح کى طاقت سے بدل دے اور اس طرح کسب توفيق کر لے ۔

ايک مشھور رائٹر لکھتا ھے : ھمارے افکار کا دار مدار نا راضگى پر ھے ۔ ھم چاھے جس حالت ميں ھوں چاھے جس صورت ميں ھوں ناراض رھتے ھيں ۔ اور شکوہ بر لب رھتے ھيں ۔ يہ گريہ و رازي شکوہ و شکايت ھمارے خمير ميں ھے ۔ انسانى وجود کى تخليق کچھ اس طرح ھوئى ھے کہ ھميشہ روحانى و جسمانى نا مناسب چيزوں سے رنج و عذاب ميں گرفتار رھتا ھے ھر روز ايک نئى آرزو کا اسير رھتا ھے ۔ بلکہ بسا اوقات تو اس کو يہ بھى نھيں معلوم ھوتا کہ کيا چاھتا ھے ؟ اور کس چيز کى تمنا رکھتا ھے انسان خيال کرتا ھے کہ خوش بختى تو دوسروں کے پاس ھے ( ميں تو بھت ھى بد بخت ھوں ) لھذا ان سے رشک کرتا ھے اور اپنے کو تکليف ميں مبتلا کرتا ھے ۔ انسانى وجود ايک ايسے بچہ کے مانند ھے جو ھميشہ سوز و گذار ميں مبتلا رھتے ھيں ۔ ھمارى آزادى و آسائش صرف اسى صورت ميں ممکن ھے جب اس بچہ کو حقيقت کے ديکھنے پر آمادہ کريں ۔ اور اس قسم کى بيھودہ خواھشات سے اس کو روک ديں ۔ اس بچہ کى آنکھيں جو بے حساب خواھشات کى وجہ سے برائى کے علاوہ کچھ بھى نھيں ديکہ پاتيں انکو اچھائيوں کے ديکھنے پرمجبور کريں ۔ اس بچہ کو يہ سمجھ لينا چاھئے کہ اس باغ زندگى ميں ھر آنکہ والا اپنے دامن کو پھولوں سے بھر ليتا ھے اور اندھا سوائے کانٹوں کے کچھ بھى نھيں حاصل کر پاتا ۔ اگر ھم اپنى کم حوصلگى و بد گمانى ھى کے راستہ پر نہ چليں اور نگاہ  تحقيق سے ديکھيں تو ھم کو معلوم ھو گا کہ ھر زمانہ اور ھر عھد ميں بلکہ اس زمانہ ميں بھى جب کہ دنيا ھولناک گرداب ميں پھنس چکى ھے اور ھمارى زندگى ھر وقت زير و زبر رھتى ھے اور ھر وقت اچھائى و برائى سے دو چار ھونا پڑتا ھے ھم باغ زندگى ميں ھر جگہ گلھائے زيبا کو چشم بينا سے ديکہ سکتے ھيں ۔

انسان کى سعادت و نيک بختى ميں اس کے افکار کو کافى دخل ھے بلکہ انسانى سعادت کا اکيلا موٴثر صرف اس کى عقل اور فکر ھے ۔بد گمان شخص کى نظر ميں غير معمولى حادثہ بھت ھى عظيم ھوتا ھے اس کى کمر کو توڑ ديتا ھے بد گمان شخص اس کو برداشت نھيں کر پاتا ۔ ليکن حسن ظن رکھنے والا شخص جو صرف زندگى کے روشن پھلوؤں کو ديکھنے کا عادى ھے اور بدي کى جگہ ھميشہ نيکى پر عقيدہ رکھتا ھے وہ ان مصائب و آلام کے مقابلہ ميں جن سے زندگى ميں اجتناب ممکن نھيں ھے سر تسليم خم کر ديتا ھے ۔ انتھا يہ ھے کہ دشوار ترين مصائب کے وقت بھى وہ مقاومت کرتا ھے اور متانت و برد بارى کے راستہ سے خارج نھيں ھوتا ۔

جو لوگ يہ خيال کرتے ھيں کہ ان ھى کى ذات بد بختى کا محور ھے وہ اپنى زندگى شکنجوں سے بھرى ھوئي اور تاريک گزارتے ھيں ۔ اور ضرورت سے زيادہ حساسيت کى بنا پر مصائب و آلام کے مقابلہ ميں اپنى طاقت کو بيکار خرچ کر کے تباہ کر ديتے ھيں ۔ اور دنيا کي ان نعمتوں اور برکتوں سے جو لوگوں کا احاطہ کئے ھوئے ھيں بے خبر و غافل رھتے  ھيں ۔

ايک دانشمند کھتا ھے : دنيا لوگوں کے داتھ وھى برتاؤ کرتى ھے جو لوگ اس کے داتھ کرتے ھيں وہ بالکل برابر کا معاملہ کرتى ھے اگر آپ اس کے سامنے ھنسيں گے تو وہ بھى ھنسے گى ۔ اور اگر آپ اس کے سامنے چيں بہ جبيں ھونگے تو وہ بھى ترش روئى سے پيش آئے گى ۔ اگر آپ فکر کريں گے تو وہ آپ کو مفکرين کى فھرست ميں شامل کر ديگى ۔ اگر آپ سچے و رحم دل ھوں گے تو آپ اپنے ارد گرد ايسے لوگوں کو ديکھيں گے جو آپ سے خلوص رکھتے ھونگے آپ سے محبت کرتے ھونگے ۔ آلام و مصائب بظاھر چاھے جتنے تلخ و ناگوار ھوں ليکن روح کو اپنے مخصوص ثمرات ديتے رھتے ھيں ۔ کيونکہ روحانى طاقتيں آلام کى گھٹا ٹوپ تاريکى ميں مزيد روشن و متجلى ھوتى ھيں ۔ اور انھيں دار و گير ، مصائب و آلام فدا کارى و قربانى کے مراحل سے گزرتى ھوئى انسانى کمالات کي چوٹى پر پھونچ جاتى ھيں ۔

بد گمانى کے نقصانات

بد گمانى ايک بھت ھى خطرناک قسم کى روحاني بيمارى ھے اور بھت سى ناکاميابيوں اور ما يوسيوں کا سر چشمہ ھے ۔ يہ ايک ايسي بيمارى ھے جو انسان کى روح کو عذاب و الم ميں مبتلا کر ديتى ھے اور اسکے برے اثرات انسانى شخصيت سے نا قابل محو ھوا کرتے ھيں ۔رنج و غم ھى وہ مرکز احساس ھے جھاں سے ممکن ھے بد گمانى کا آغاز ھوتا ھو اور احساسات و جذبات ميں ايک شديد انقلاب و طوفان کا سبب  بنتا ھو ، بد گمانى کا بيج جو اس راہ گزر سے مزرعھٴ قلب ميں بويا جاتا ھے وہ انسانى افکار و انديشوں پر ناگوار و تلخ اثرات مرتب کرتا ھے ۔جس کا آئينہ روح بد گمانى کے غبار سے کثيف و تاريک ھو چکا ھو اس ميں محض يھى نھيں کہ آفرينش کى خوبياں و زيبا ئياں اجاگر نھيں ھو سکتيں بلکہ سعادت و خوش بختى اپنى صورت بدل کر ملال و نکبت بن کر ظاھر ھوتى ھے اور ايسا شخص کسى بھى شخص کے کردار و افکار کو بے غرض تصور نھيں کر سکتا ۔ اس قسم کے اشخاص کى روحانيت چونکہ منفى ھے اس لئے ان ميں مثبت قوت مقصود ھوتى ھے ۔ اور ايسے لوگ اپنے افکار بد سے اپنے لئے مشکلات پيدا کر ليتے ھيں ۔ اور اپنى طاقت کو ايسے حادثات ميں غور و فکر کر کے بتاہ و بر باد کر ليتے ھيں جن سے شايد ان کا زندگي ميں کبھى سابقہ بھى نہ پڑے ۔

جس طرح حسن ِظن رکھنے والے شخص کى طاقت اس کے اطرافيوں ميں اثر انداز ھوتى ھے اور وہ شخص اپنے آس پاس کے لوگوں کى روح اميد کو طاقت بخشتا ھے اسى طرح بد گمان شخص اپنے آس پاس کے لوگوں کے دلوں ميں رنج و غم کى کاشت کرتا ھے اور لوگوں کے اس چراغ اميد کو خاموش کر ديتا ھے جو زندگى کے پيچ و خم ميں ضو فشاں رھتا ھے ۔



1 2 3 4 5 6 next