خوارج کی مخالفت کی وجہ اور اس کی وضاحت



 

امام علیہ السلام سے خوارج کی مخالفت کی وجہ اور معاویہ کی مخالفت کی وجہ میں بہت فرق تھا، معاویہ نے عمر کی خلافت کے وقت سے ھی شام کی حکومت کی خود مختاری کے لئے مقدمات فراھم کرتے تھے اور خودکوشام کامطلق العنان حاکم (ڈکیٹیٹر) سمجھتا تھا۔ عثمان کے قتل کے بعد جب اسے خبر ملی کہ امام علیہ السلام شام کی حکومت سے اس کو بر طرف کرنا چاہتے ھیں تو وہ مخالفت کرنے کے لئے اٹھ گیا پھلے تو طلحہ وزبیر کو ورغلایا پھر جنگ صفین برپاکر کے امام علیہ السلام کے مقابلے میں آگیا اور پھرمنحوس سیاست کے ذریعہ قرآن کو نیزہ پر بلند کر کے امام علیہ السلام کے لشکر میں اختلاف وتفرقہ پیدا کر دیا اور بالآخر امام علیہ السلام اسی اختلاف کی وجہ سے قربان ھوگئے۔

لیکن خوارج ظاہر بین تھے اور آج کی اصطلاح میں خشک مقدس تھے اور اپنی جہالت ونادانی اور سطحی فکر ونظر اور اسلام کے اصول و مبانی سے واقفیت نہ رکھنے کی وجہ سے امام علیہ السلام کی مخالفت کرنے لگے، اورکھوکھلے اور بے بنیاد علل و اسباب گڑھ کر خدا کے چراغ ہدایت کے مقابلہ میں آگئے اور اس الٰھی چراغ کوخاموش کرنے کے لئے ہزاروں پاپڑ بیلے یہاں تک کہ خود کو ھلاک کرنے کے لئے بھی تیار ھو گئے۔

معاویہ اور خوارج کے درمیان اسی فرق کی وجہ سے امام علیہ السلام نے ان پرفتح وکامیابی حاصل کرنے کے بعد فرمایا: ” لاٰ تقاتلوا الخوارجَ بعدی، فلیسَ مَن طَلبَ الحقَّ فاٴخطاٰ ہ کَمَن طلب الباطل فادرکَہ“‘[1]، خبردار میرے بعد خوارج کو قتل نہ کرنا کیونکہ جو حق کا طالب ھے اور اسے حاصل کرنے میں کسی وجہ سے اس سے غلطی ھوجائے وہ اس شخص کے مثل نھیں ھے جس نے باطل کو چاہا اور اسے پا

بھی لیا۔( یعنی معاویہ اور اس کے اصحاب)

     خوارج کی مخالفت کے تمام عوامل و اسباب کی تحقیق اس بات کو ثابت کرتی ھے کہ یہ لوگ ، شامیوں کے برخلاف ہرگز جاہ ومنصب اور حکومت کے طلبگار نہ تھے بلکہ ایک خاص کج فکری اور ذہنی پستی ان پرمسلط تھی ۔ یہاں ھم خوارج کے اھم ترین اعتراضات نقل کررھے ھیں۔

۱۔دین پر لوگوں کی حکومت

وہ لوگ ھمیشہ یہ اعتراض کررھے تھے کہ کس طرح سے ممکن ھے کہ دومخالف گروہ کے دو آدمی اپنے اپنے سلیقے کے اعتبار سے مسلمانوں کی تقدیر کو اپنے ہاتھ میں لیں اور اپنی رائے کو مسلمانوں کے معین شدہ رہبر کی رائے پر مقدم کریں ، دین اور مسلمانوں کا مقدر اس سے بلند وبرتر ھے کہ لوگ اپنی ناقص عقلوں سے ان کے اوپر حکومت کریں ۔وہ لوگ مستقل کہہ رھے تھے: ” حکم الرجال فی دین اللّٰہ “ یعنی علی نے لوگوں کو دین خدا پر حاکم قرار دیاھے۔

یہ اعتراض اس بات کی حکایت کرتاھے کہ وہ لوگ حکمین کے فیصلے کے قبول کرنے کے شرائط سے باخبر نہ تھے  اور ان لوگوں نے خیال کیا کہ امام علیہ السلام نے ان دونوں کو مسلمانوں کی قسمت معین کرنے کے لئے آزاد چھوڑدیا ھے کہ جس طرح چاھےں ان کے لئے حکم معین کریں۔ امام علیہ السلام نے اس اعتراض کے جواب میں فرمایا:”اِنا لم نحکّم الرجالُ وانّما حکّمنٰا القرآنَ، ھذا القرآن انّما ھو خطٌّ مستورٌ بین الدَّفتین لا ینطقُ بلسانٍ ولابدَّلہ من ترجمان ، وانما ینطق عنہ الرجالُ ، ولمّٰا دَعانَا القَومُ اِلیٰ ان نُحکَّم بیننَا القرآن لم نَکُنِ الفریقَ المتولّي عن کتاب اللّٰہ سبحانہ وتعالیٰ ، وقد قال اللّٰہ سبحانہ: ” فان تنازعتم فی شیءٍ فَردَّ وہُ اِلَی اللّٰہ والرّسول ِ “فرُدُّہُ  اِ لٰی اللّٰہ اٴن نَحکُمَ بکتابِہِ ، وردّہُ اِلَی الرّسول اَن ناخذ بسنّتِہِ ، فاذا حُکِمَ بالصّدق فی کتابِ اللّٰہ فنحن اٴحقُّ الناس بہِ وان ُحکِمَ  بسنةِ رسول اللّٰہ (ص) فنحن اٴحقُّ الناس وَ اَولاَ ھُم بِھا۔[2]

ھم نے لوگوں کو نھیں بلکہ قرآن کو حَکَم مقرر کیا ھےاور یہ قرآن دودفتیوں کے درمیان لکھی ھوئی کتاب ھے جو زبان سے نھیں بولتی اس کے لئے ترجمان ضروری ھے اور وہ ترجمان آدمی ھی ھوتے ھیں جو قرآن کی روشنی میں کلام کرتے ھیں جب قوم (اھل شام ) نے ھم سے خواہش کی کہ ھم اپنے اور ان کے درمیان قرآن مجید کو حکم قرار دیں تو ھم ایسے لوگ نہ تھے کہ اللہ کی کتاب سے منحرف ھوں حالانکہ خداوند عالم فرماتا ھے: ”اگر تم کسی بات میں اختلاف کرو تو خدااور رسول کی طرف اسے پھیر دو“ ۔خدا کی طرف رجوع کرنے کے معنی یہ ھیں کہ ھم اس کی کتاب کو حَکَم مانیں اور رسول کی طرف رجوع کرنے کے یہ معنی ھیں کہ ھم ان کی سنت کو اختیار کریں ، پس اگر سچائی کے ساتھ کتاب خدا سے حکم حاصل کیا جائے تو اس کی رو سے لوگوں میں سب سے زیادہ ھم اس کے حق دار ھیں اور اگر سنت رسول کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو ھم سب سے زیادہ اس کے اھل ھیں ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 next