نواب اربعہ اور ان کی ذمہ داریاں



نواب اربعہ اور ان کی ذمہ داریاں 

 

سید غافرحسن رضوی

مقدمہ

این الطالبُ بدم المقتول بکربلاء

ہمارے آخری رہبرو پیشوا حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالٰی فرجہ الشریف،۱۵شعبان المعظم ۲۵۵ھجری "شہر سامراء" میں اس د نیا میں تشریف لاِئے.

اور اپنی آمدِ پُربرکت سے ماہِ شعبان کے ساتھہ ساتھہ جہان اسلام کوبھی معظم فرمایا آپ(عج) کے القاب مبارکہ تو بہت ہیں لیکن آپ(عج)کا اصلی اسم مبارک وہی ہے جو آپ کے جد امجد پیغمبراسلام صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا "یعنی:م ح م د" اور آپ(عج) کی کنیت بھی وہی ہے جو آپ(عج)کے جد نامدار کی کنیت تھی "یعنی:ابوالقاسم".

قارئین کرام: جیسا کہ آپ حضرات بخوبی واقف ہیں کہ معصومین علیہم السلام نے آپ(عج) کے اصلی نام سے پکارنے کو منع فرمایا ہے لہٰذا مینے اصلی نام سے گریز کرتے ہوئے اشارتاً الگ الگ حروف میںتحریرکردیا ہے۔

آپ(عج)کے والدِ گرامی کا اسمِ مبارک "حسن علیہ السلام" اور لقب "عسکری" ہے جو ہم "شیعوں" کے گیارھویں رہبرو پیشوا اورامام ہیں اور آپ(عج) کی والد ہ گرامی کا اسمِ مبارک "نرجس خاتون" ہے اور ان کو "ریحانہ،سوسن اور صقیل" کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے.

آپ(عج) کی ولاد ت کے دوران اتنا پُرآشوب ماحول تھا کہ آپ(عج) کی ولادتِ با سعادت کوتمام لوگوں سے پنہاں رکھا گیا یہاں تک کہ آپ(عج) کے حقیقی شیعوں سے بھی مخفی رکھا گیا، اس لئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ شیعوں کا سہارا لیکر دشمن، شمع امامت کو گل کردے۔

آپ(عج) چمنستا ن رسالت و امامت کے وہ مہکتے ہوئے گل گلاب تھے کہ جس کی خوشبو نے تمام عالم کی مشام کو معطر کررکھا تھا، اس سے پہلے کہ اس عطر مجسم کی مہک مشام دشمن تک پہونچے، حکم الٰہی کے تحت ۲۶۰ ھجری میں "اپنے والدِ گرامی کی پُردردوجانسوز شہادت کے سال" آپ(عج) نے غیبتِ صغریٰ اختیار کی جوکہ ۳۲۹ ھجری میں منزل اختتام تک پہونچی اور غیبتِ صغریٰ سے متصل ہی غیبتِ کبریٰ کا آغاز ہوگیا اورغیبت بھی ایسی غیبت کہ خداوندمنان بھی اس منتظر کا منتظِر نظر آیا اورارشادہوا:۔۔۔۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 next