کاتبان وحی



 

پیغمبر اکرم (ص) نے کیونکہ ظاھر میں کسی سے لکھنا پڑھنا نھیں سیکھا تھا اور لوگوں نے بھی آپ کو لکھتے پڑھتے نھیں دیکھا تھا لہٰذا لوگ آپ کو ”اْمّی“کہہ کر خطاب کرتے تھے لہٰذا قرآن نے بھی آپ کے لئے اسی لقب کو استعمال کیا اور ارشاد ھوا <۔۔۔ فَآمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِہِ النَّبِیِّ الْاٴُمِّیِّ>( [1] )

یعنی تم لوگ ایمان لے آوٴ اللہ پر اور اسکے رسول اْمّی پر“۔

اْمّی یعنی جوماں سے منسوب ھو اور اْمّی اْسے کہتے ھیں جومادر زادی ان پڑھ ھو،اور اس کے دوسرے معنی بھی ھیں ”اْمّ القری“ (یعنی شھر مکّہ) سے نسبت دیتے ھوئے یعنی وہ جو مکہ میں پیدا ھواھو قرآن مجید میں مختلف موارد میں لفظ امی کو اسی ” اْم ّالقرای“ سے مشتق کیاگیا ھے مثلاً< ہُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْاٴُمِّیِّینَ رَسُولًا مِنْہُمْ۔۔۔>([2])

یعنی وہ اللہ جس نے مکہ والوں میں انھیں میں سے ایک رسول بھیجا“۔

مگر پھلے والا احتمال زیادہ مشھور ھے کیونکہ اوّلاً:دوسری آیات کے ساتھ زیادہ سازگار ھے مثلاً< وَمِنْہُمْ اٴُمِّیُّونَ لاَیَعْلَمُونَ الْکِتَابَ إِلاَّ اٴَمَانِیَّ۔۔۔>([3])

یعنی ان میں سے بعض ان پڑھ ایسے ھیں جو کتاب کو پڑھنا نھیں جانتے ھیں مگر صرف ان کی آرزوئیں ھیں تو اس آیت میں جملہٴ<اَیَعْلَمُونَ الْکِتَابَ> لفظ اْمّیّون کی تفسیر ھے ثانیاً:قرآن کے معجزہ ھونے کے ساتھ بھی جو چیز زیادہ سازگار ھے وہ آنحضرت کالکھا پڑھانہ ھونا ھے جیسا کہ ارشاد ھوا: <وَمَا کُنْتَ تَتْلُو مِنْ قَبْلِہِ مِنْ کِتَابٍ وَلاَتَخُطُّہُ بِیَمِینِکَ إِذًا لَارْتَابَ الْمُبْطِلُونَ>([4])

یعنی تم نے اس سے پھلے کسی بھی کتاب کو نھیں پڑھاھے اور نہ اپنے ھاتھ سے کچھ لکھاھے وگرنہ باطل فکر رکھنے والے افراد شک میں پڑجاتے“۔

یہ آیت اس بات پر دلیل ھے کہ پیغمبر (ص)نے اس سے پھلے نہ کچھ پڑھا نہ لکھامگر یہ بات اس مطلب پر ھر گز دلالت نھیں کرتی ھے کہ پیغمبر (ص) بالکل لکھنا وپڑھنا ھی نھیں جانتے تھے اسی حد تک معترضین کو خاموش کرنے لئے کافی ھے کیونکہ وہ لوگ پیغمبر (ص)کو اصلاًلکھنے وپڑھنے والا نھیں سمجھتے ھیں اسی لئے وہ لوگ اعتراض کی راہ کو اپنے لئے بند پاتے ھیں،شیخ طوسی(رہ)مذکورہ آیت کی تفسیرمیں تحریر کرتے ھیں ”مفسرین نے کھا کہ پیغمبر لکھنا نھیں جانتے تھے مگر آیت اس مطلب پر دلالت نھیں کررھی ھے بلکہ صرف اس مطلب کی طرف اشارہ کررھی ھے کہ پیغمبر لکھتے پڑھتے نھیں تھے لہٰذا ایسا بھی ھوتا ھے کہ بعض لوگ لکھتے نھیں ھیں مگر ان میں لکھنے کی صلاحیت ھوتی ھے یعنی وہ ایسا ظاھر کرتے ھیں کہ انھیں لکھنا نھیں آتالہٰذا آیت اس مطلب کی طرف اشارہ کررھی ھے کیونکہ پیغمبر (ص)نے لکھنا وپڑھنا شروع ھی نھیں کیا تھا لہٰذا آپ کو لکھنے کی عادت نھیں تھی“۔([5])

علامہ طباطبائی نے بھی مذکورہ نظر یہ کو قبول کیا ھے۔([6])



1 2 3 4 next