حديث غدير



اب آپ فيصلہ کريں :

اگر، ان روشن قرائن کي موجودگي ميں بھي کوئي شک کرے کہ پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا مقصد امامت و خلافت نہيں تھا تو کيا يہ تعجب والي بات نہيں ہے ؟وہ افراد جو اس ميں شک کرتے ہيں اپنے آپ کو کس طرح مطمئن کريںگے اور روز محشر اللہ کو کيا جواب ديں گے ؟يقينا اگر تمام مسلمان تعصب کو چھوڑ کر از سر نو حديث غدير پر تحقيق کريں تو حقيقي و صحيح نتيجوں پر پہونچيں گے اور يہ کام مسلمانوںکے مختلف فرقوں ميں آپسي اتحاد ميں اضافہ کا سبب بنے گا اور اس طرح اسلامي سماج ايک نئي شکل  اختيارکر ليگا۔

تين پر معني حديثيں :

اس مقالہ کے آخر ميں تين پر معني حديثوں پر بھي توجہ فرمائيں۔

الف: حق کس کے ساتھ ہے؟

زوجات پيغمبراسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم، ام سلميٰ اور عائشہ کہتي ہيں کہ ہم نے پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ انھوں نے فرمايا: ”علي مع الحق و الحق مع علي يفترقا حتي يردا علي الحوض “

علي  حق کے ساتھ ہيں اور حق علي  کے ساتھ ہے ،اور يہ ہرگز ايک دوسرے سے جدا نہيں ہوسکتے جب تک کہ حوض کوثر پر ميرے پاس نہ پہونچ جائيں۔

يہ حديث اہل سنت کي بہت سي مشہور کتابوں ميںموجود ہے۔ علامہ امينيۺ نے ان کتابوں کا ذکر ا لغدير کي تيسري جلد ميں کيا ہے [27]

اہل سنت کے مشہور مفسر قران، فخر رازي نے تفسير کبير ميں سورہ حمد کي تفسير کے تحت لکھا ہے کہ

” حضرت علي عليہ السلام بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھتے تھے ۔اور يہ بات تواتر

  سے ثابت ہے کہ جو دين ميں علي عليہ السلام کي اقتدا کرتا ہے وہ ہدايت يافتہ ہے ۔اور اس کي دليل پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي يہ حديث ہے کہ آپ نے فرمايا:” اللہم ادرلحق مع علي حيث دار“ اے اللہ حق کو ادھر موڑ دے جدھر علي مڑے [28] قابل توجہ ہے يہ حديث جو يہ کہہ رہي ہے کہ علي عليہ السلام کي ذات حق کا مرکز ہے ۔

پيمان برا دري :

پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے ايک مشہور گروہ نے اس حديث کو پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے نقل کيا ہے :” آخي رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم بين اصحاب فاخي بين ابي بکر و عمر، وفالان و فلان ، فجاء علي رضي اللہ عنہ فقال آخيت بين اصحابک و لم تواخ بيني وبين احد؟ فقال رسول اللہ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم انت اخي في الدنيا والآخرة “

پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اپنے اصحاب کے درميان صيغہ اخوت جاري کيا ،ابوبکر کو عمر کا بھائي بنايا اور اسي طرح سب کو ايک دوسرے کا بھائي بنايا ۔اسي وقت حضرت علي عليہ السلام ، پيغمبر اسلام صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي خدمت ميں حاضر ہوئے  اور عرض کي آپ نے سب کے درميان بھائ کا رشتہ قائم کرديا ليکن مجھے کسي



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next