حديث غدير



يہ حديث علي عليہ السلام کي تمام صحابہ پرفضيلت اور برتري کے لئے سب سے بڑي دليل ہے ۔

يہاں تک کہ امير المومنين عليہ السلام نے مجلس شورائے خلافت ميں  (جو کہ دوسرے خليفہ کے مرنے کے بعد منعقد ہوئي) [17] اور عثمان کي خلافت کے زمانہ ميں اور اپني خلافت کے دوران بھي اس پر احتجاج کيا ۔ [18]

اس کے علاوہ حضرت زہراء سلام اللہ عليہا جيسي عظيم شخصيت نے بھي حضرت علي عليہ السلام کي والا مقامي سے انکار کرنے والوںکے سامنے، اسي حديث سے استدلال کيا ۔ [19]

موليٰ سے کيا مراد ہے ؟

يہاں پر سب سے اہم مسئلہ موليٰ کے معني کي تفسير ہے جو کہ وضاحت ميں عدم توجہ اور لاپرواہي کا نشانہ بني ہوئہے ۔کيونکہ اس حديث کے بارے ميں جو کچھ بيان کياگيا ہے اس سے اس حديث کي سندکے قطعي ہونے ميں کوئي شک و ترديد باقي نہيںرہ جاتي، لہٰذا بہانہ تراشنے والے افراد اس حديث کے معني و مفہوم ميں شک و ترديد پيدا کرنے ميں لگ گئے، خاص طور پر لفظ موليٰ کے معني ميں ،مگر اس ميں بھي کامياب نہ ہوسکے ۔

صراحت کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ لفظ موليٰ اس حديث ميں بلکہ اکثر مقامات پر ايک سے زيادہ معني نہيں ديتا اور وہ ”اولويت اور شائستگي “ہے دوسرے الفاظ ميں موليٰ کے معني ” سرپرستي “ ہے قرآن ميں بہت سي آيات ميں لفظ موليٰ سرپرستي اور اوليٰ کے معني ميں استعمال ہوا ہے ۔

قرآن کريم ميں لفظ موليٰ ۱۸ آيات ميں استعمال ہوا ہے جن ميں سے دس مقامات پر يہ لفظ اللہ کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ظاہر ہے کہ اللہ کي مولائيت اس کي سرپرستي اور اولويت کے معني ميں ہے ۔لفظ موليٰ بہت کم مقامات پر دوست کے معني ميں استعمال ہوا ہے۔ اس بنيادپر موليٰ کے معني ميں درجہٴ اول ميں اوليٰ، ہونے ميںکوئي شک و ترديد نہيں کرني چاہئے ۔حديث غدير ميںبھي لفظ مولا اولويت کے معني ميں ہي استعمال ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس حديث کے ساتھ بہت سے ايسے قرائن و شواہد ہيں جو اس بات کو ثابت کرتے ہيں کہ يہاں پر مولا سے مراد اولويت اور سرپرستي  ہي ہے ۔

اس دعوے کے دلائل :

فرض کروکہ لفظ موليٰ کے لغت ميں بہت سے معني ہيں ،ليکن تاريخ کے اس عظيم واقعہ وحديث غدير کے بارے ميں بہت سے ايسے قرائن و شواہد موجود ہيں جو ہر طرح کے شک و شبہات کو دور کرکے حجت کو تمام کرتے ہيں ۔

دليل اول :

جيسا کہ ہم نے عرض کيا ہے کہ غدير کے تاريخي واقعہ کے دن رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے شاعر حسان بن ثابت نے رسول اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے اجازت لے کر ان کے مضمون کو اشعار کي شکل ميں ڈھالا ۔اس فصيح و بليغ وارعربي زبان کے رموز سے آشنا شخص نے لفظ مولا کي جگہ لفظ امام وہادي کو استعمال کيا اور کہا :

فقال لہ قم يا علي فانني



back 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next