حقوق والدین قرآن میں



      اوراس آیت میں اپنے شکرکو والدین کے شکرکے ہمراہ ذکر فرمایا ہے  :

      اناشکرلی ولوالدیک الی المصیر [4]۔

      ”میرا اور اپنے والدین کا شکر بجالاؤ تمہاری بازگشت میری طرف ہے“۔

      اسی طرح خدا تعالی نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کو ایک بنیادی فیصلہ قرار دیا ہے، اس نکتے کی طرف اشارہ کرنا بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم نے بہت ساری آیات میں اولاد پر زور دیا ہے کہ وہ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں۔ اس کے برعکس والدین کو بہت کم غیر معمولی حالات میں اولاد کو اہمیت دینےکا حکم دیاہے جیسے بھوک کے ڈر سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرنے کا حکم۔

      اور صرف اس پر زور دیتا ہے کہ اولاد زینت، تفریح کا سامان اور والدین کے لئے آزمائش ہے اور اولاد کا ذکر مال و متاع کے ہمراہ اور تفاخر کے مقام میں کیا ہے۔

      چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے :

      واعلموا انما اموالکمو اولادکم  فتنة وان اللہ عندہ اجرعظیم۔

      ”اور جان لو تمہارے اموال اور اولاد آزمائش ہیں، اور جب بیشک اللہ کے ہاں اجر عظیم ہے“ [5]۔

      نیز فرماتا ہے: …وتفاخربینکم و تکاثر فی الاموال والاولاد…”اور ایک دوسرے پر فخر کرنا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے زیادہ خو اہش ہے … [6]۔

      اور اس کا راز یہ ہے کہ اولاد کے ساتھ تعلق کی نسبت والدین کا اولاد کے ساتھ تعلق زیادہ شدید ہوتا ہے بالخصوص ماں جو ہمیشہ اپنی اولاد کو محبت کی رد امیں لپیٹے رکھتی ہے اور ان کی محبت میں قیمتی سے قیمتی اور نفیس سے نفیس چیز بھی قربان کر دیتی ہے اور اس کی پوری تمنا ہوتی ہے کہ اس کی اولاد سعادتمندانہ زندگی بسر کرے۔



back 1 2 3 next