سنت نبوی میں والدین کے حقوق



سنت نبوی میں والدین کے حقوق

مسئلہ حقوق بالعموم اورحقوق والدین بالخصوص پیغمبر اکرم (ص) کی احادیث و نصائح کے ایک بڑے حصے پر محیط ہے اس کی وجہ قرآن کی متواتر تاکیدات و تنبیہات اور اجتماعی ضرورت ہے۔

      بالخصوص اس تناظر میں کہ پیغمبر نے معاشرہ سازی اور تمدن جدید کی تشکیل کے لئے ایک بڑی مہم کا آغاز کیا تھا اور چونکہ خاندان کو معاشرتی عمارت میں خشت اول کی حیثیت حاصل ہے اور والدین کی مثال خانوادے میں ایک رہبر کی سی ہوتی ہے اس لئے ان کے حقوق کی رعایت کرنا بہت ضروری ہے ورنہ اجتماعی عمارت ریت کی دیوار کی طرح متزلزل اور بے ثبات ہو جائیگی۔

      اسی لئے دعوت توحید کے بعد یہ مسئلہ سب سے زیادہ پیغمبر کی توجہ کا مرکز بنا اور مسئلہ کے عبادی پہلو کو اجاگر کرنے کے لئے آپ نے اللہ کی رضا اور والدین کی رضا کو ایک ساتھ ذکر فرمایا ہے اور تاکید کی ہے کہ والدین کی نافرمانی سب سے بڑا گناہ ہے اور اللہ تعالی کی محبت و مغفرت اور والدین کی محبت و اطاعت کے درمیان رابطہ کے بارے میں امام زین العابدین سے روایت ہے کہ ایک شخص پیغمبر کے پاس آکر کہنے لگا یا رسول اللہ میں نے ہرقسم کا برا عمل کیا ہے کیا میرے لئے بھی توبہ کا موقع ہے توآپ نے پوچھا:

      فھل من والدیک احد حی ۔

      ”کیا تیرے والدین میں سے کوئی زندہ ہے؟ اس نے جواب دیا میرا باپ زندہ ہے تو آپ نے فرمایا:

      فاذھب فبرہ  ”جا اور اس کے ساتھ حسن سلوک کر“ جب وہ چلا گیا تو آپ نے فرمایا:

      لوکانت امہ ”کاش کہ اس کی ماں زندہ ہوتی“ [1]۔

      اور امام صادق سے روایت ہے : جاء رجل الی النبی ،فقال : یارسول اللہ من ابر؟ قال امک قال :ثم من؟ قال امک، قال: ثم من؟ قال امک، قال: ثم من؟ قال اباک۔

      ”ایک شخص پیغمبر کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا یا رسول اللہ میں کس کے ساتھ حسن سلوم کروں تو آپ نے فرمایا اپنی ماں کے ساتھ اس نے پوچھا

پھرکس کے ساتھ فرمایا ماں کے ساتھ، اس نے کہا پھرکس کے ساتھ  فرمایا ماں کے ساتھ اس نے کہا پھرکس کے ساتھ فرمایا باپ کے ساتھ“ ۔[2]



1 2 next