سنت نبوی میں والدین کے حقوق



      پیغمبر نے اولاد کے لئے والد کے جن حقوق کی طرف توجہ دلائی ہے ان میں سے یہ ہے کہ والد کو غیظ و غضب میں دیکھ کر اس کی ہتک حرمت سے بچنے کے لئے پسر کو خاضع و متواضع ہو جانا چاہئے۔

      مزیدبرآن کسی کے باپ کوگالی دے کراپنے باپ کوگالی دئیے جانے کاسبب بننابھی ایساگناہ ہے جوعقاب اخروی کاموجب ہے اوران کے ساتھ حسن سلوک فقط ان کی زندگی میں نہیں بلکہ ان کی موت کے بعدبھی ہے مثلا ان کاقرض اداکرنااوران کے لئے دعاخیرواستغفارکرناوغیرہ وغیرہ۔

      پیغمبر نے اپنی زندگی ہی میں ان سب وصیتوں کوعملی جامہ پہنا دیا تھا چنانچہ جس وقت آپ لوگوں کو ہجرت کے لئے تیار کر رہے تھے تاکہ مدینہ میں ایک جدید توحید پرست معاشرہ تشکیل دیا جا سکے اور اس وقت مسلمانوں کی تعداد اتنی کم تھی کہ انگلیوں پرگنے جا سکتے تھے سیرت کی کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ ایک شخص پیغمبر کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں ہجرت کے لئے آپ کی بیعت کرتا ہوں اور اپنے ماں باپ کو روتا ہوا چھوڑ آیا ہوں تو آپ نے فرمایا:

      ”ان کے پاس جلد واپس جا اور جس طرح انہیں رلایا ہے اسی طرح انہیں ہنسا“ [3]۔

      اس واقعہ سے بھی والدین کے حقوق کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے کہ ایک دن پیغمبر کی ایک رضاعی بہن آپ سے ملنے کے لئے آئی تو آپ نے نہایت گرمجوشی سے اس کا استقبال و احترام کیا پھر اس کا بھائی آیا تو آپ نے اس کا ویسا احترام نہ کیا جیسے اس کی بہن کا کیا تھا اس پر آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ آپ نے اس کی بہن کا جو احترام کیا وہ اس کے بھائی کا نہیں کیا حالانکہ وہ مرد ہے تو آپ نے ارشاد فرمایا اس کی بہن اپنے باپ کے ساتھ اپنے بھائی کی بہ نسبت زیادہ حسن سلوک کرتی ہے۔

      تو آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ پیغمبر کے نزدیک قربت و دوری اور ان کے نزدیک محترم ہونے کا معیار والدین کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنا ہے۔ آخرمیں ماں کے اس منصب کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے جو پیغمبر نے ماں کو عطا فرمایا ہے کہ :

      الجنة تحت اقدام الامھات۔

      ”جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے“ [4] ۔


[1] :بحارالانوار۷۴:۸۲ ۔

[2] - اصول کافی باب البربالوالدین ۲:۱۶۷/۹ ۔

[3] - الترغیب والترھیب ۳:۳۱۵۔

[4]- بحارالانوار۷۴:۸۲ ۔

 



back 1 2