والدین کے حقوق مکتب آل محمد(ع)میں



والدین کے حقوق مکتب آل محمد(ع)میں

آئمہ (ع)نے قرآن کریم کی ان توجہات اور پیغمبر (ص)کے ان فکری اور تربیتی اقوال وافعال کو ایک نئی روح بخشی ہے اور انہیں ایک نیا ولولہ عطا کیا ہے کیونکہ سب میدانوں میں امت کی تعمیر و ترقی کا بوجھ انہیں کے کندھے پے رہا ہے بالخصوص ظالم و جابر حکام کے تمام مراکز پر تسلط پانے کے بعد کہ جس کی وجہ سے امت انتشار و افتراق کا شکار ہوگئی تھی۔

      اورآئمہ نے پوری قوت کے ساتھ کجی کو درست کرنے اورامت کو تعمیر و ترقی کی راہ پرگامزن کرنے کے لئے کوشش کی چنانچہ اس سلسلے میں آپ نے والدین کے حقوق کے باب میں کئی محوروں پرکام کیاکہ جسے مندرجہ ذیل صورت میں بیان کیا جاسکتاہے۔

۱۔آیات قرانیہ کی تفسیر

      واضح رہے کہ یہ اہل بیت ہی ہیں جن کے گھر قرآن نازل ہوا اور انہیں کو پیغمبر نے قران کاساتھی بتایاہے اوریہی قرآن ناطق ہیں کہ جوصرف حق کہتے ہیں اور حقوق کی ادائیگی پر زور دیتے ہیں۔

      امام صادق  نے اس آیت شریفہ :

      وقضی ربک الاتعبدواالاایاہ وبالوالدین احسانا [12]۔

      ”میں لفظ احسان کی تشریح کرتے ہوئے فرمایاہے احسان یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ حسن سلوک کرواوراپنی ضرورت کی چیزحاصل کرنے کے لئے انہیں سوال کرنے کی زحمت نہ دواگرچہ وہ غنی ہی کیوں نہ ہو“ [13] ۔

امایبلغن عندک الکبراحدھمااوکلاھماتقل لھمااف ولاتنھرھما [14]۔

      کے متعلق فرمایاہے : ”اگروہ تجھ پرسختی کریں توانہیں اف تک نہ کہواورانہیں سختی سے نہ جھڑکو“ [15] ۔

      اوراس آیت کریمہ:



1 2 3 4 5 next