والدین کے حقوق مکتب آل محمد(ع)میں



      وقل لھماقولاکریما [16]   ۔

      ”اگروہ تجھے ماریں توان سے فقط یہ کہواللہ آپ کومعاف کرے“ [17]۔

      نیزفرماتے ہیں : ”نافرمانی کاسب سے پہلادرجہ اف کہناہے اور اگر اس سے بھی نیچے کوئی درجہ ہوتاتواللہ تعالی اس سے بھی منع فرماتا“ [18]۔

      اوراللہ تعالی کے اس فرمان :

      واخفض لھماجناح الذل من الرحمة وقل رب ارحمھماکماربیانی صغیرا [19]۔

      ”ان کی طرف آنکھ بھرکے یعنی گھورکے نہ دیکھو مگر رحمت ورقت کے ساتھ، ان کی آواز پر اپنی آواز اور ان کے ہاتھ پراپنے ہاتھ کوبلند نہ کرو اور اپنا قدم ان کے قدم سے آگے نہ بڑھنے دو“ [20]۔

      اوراس آیت شریفہ :

      ان اشکرلی والوایک الی المصیر ۔کے متعلق امام رضا فرماتے ہیں :[21]

      ”اللہ تعالی نے انسان کواپنے اوروالدین کاشکراداکرنے کاحکم دیاہے اورجس نے والدین کاشکرادانہیں کیاگویااس نے اللہ کاشکربھی ادانہیں کیا“ [22]

۲: اخلاقی فضاقائم کرنا

      آئمہ کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ امت میں اخلاقی نظم وضبط زندہ وتابندہ رہے تاکہ اسلامی معاشرہ سالم رہ سکے اورلوگ پریشانی اوربے چینی کے تاریک گڑہوں میں گرنے سے محفوظ رہیں اسی لئے آپ زوردیتے تھے کہ اولاوالدین کے ساتھ اپنے معاملات میں اخلاقی پہلوکے اعتبارسے اس طرح متمسک رہے کہ یہ اس کی فطرت ثانیہ بن جائے چنانچہ امام علی فرماتے ہیں :



back 1 2 3 4 5 next