والدین کے حقوق مکتب آل محمد(ع)میں



      یہ بات قابل ذکرہے کہ اسلام نے حقوق والدین کودین واسلام کے ساتھ مربوط نہیں کیابلہ ہرحال میں حقوق والدین کی رعایت لازم قراردی ہے امام رضا فرماتے ہیں :

      برالوالدین واجب وان کانامشرکین، ولاطاعة لھمافی معصیة الخالق ۔

      ”والدین کے ساتھ نیکی کرناواجب ہے اگرچہ وہ مشرک ہوں البتہ خالق کی مصیت میں ان کی اطاعت واجب نہیں ہے ۔[27]

      اورآپ نے صرف حکم شرعی کوبیان نہیں کیابلکہ اس کے فلسفے کوبھی بیان کیاہے فرماتے ہیں :

      حرم اللہ عقوق الوالدین لمافیہ من الخروج من التوفیق لطاعة اللہ عزوجل والتوقیر للوالدین وتجنب النعمة وابطال الشکر،ومایدعومن ذلک الی قلة النسل وانقطاعہ، لمافی العقوق من قلة توقیرالوالدین، والعرفان بحقھما، وقطع الارحام والزھد من الوالدین فی الوالد، وترک التربیة بعلة ترک الوالدبرھما۔

      ”خداتعالی نے والدین کی نافرمانی کواس لئے حرام کیاہے کہ اس کے ذریعہ سے اطاعت خداوندی اوراحترام والدین کی توفیق انسان سے سلب ہوجاتی ہے انسان شکرکوباطل کردیتاہے اورکفران نعمت کاارتکاب کربیٹھتاہے اورنسل کے کوتاہ یااس کے سلسلہ کے منقطع ہوجانے کے خطرے سے دوچارہوجاتاہے کیونکہ نافرمانی کے نتیجے میں والدین کااحترام اوران کے حق کی معرفت کم ہوجاتی ہے اورصلہ رحمی کاسلسلہ بھی منقطع ہوجاتاہے والدین کواولاد سے نفرت ہوجاتی ہے اوراولادکے عدم حسن سلوک کی وجہ سے والدین بھی تربیت کرناچھوڑدیتے ہیں [28]۔

      اس حدیث میں غورکرنے سے حقوق والدین کے سلسلے میں اس سے زیادہ عمیق اورباریک ترفلسفہ نظرآتاہے وہ یہ کہ یہ مسئلہ صرف معنوی پہلو کا حامل نہیں ہے بلکہ اجتماعی اعتبارسے اس کے بڑے گہرے اثرات ہیں بالخصوص نسل انسانی کوختم ہونے سے بچانے کا ذریعہ اس سے وابستہ ہے۔

      اوراس مسئلہ کے دیگرمنفی اثرات بھی ہیں جب والدین یہ سمجھ رہے ہوں کہ اولاد ان کی عزت خاک میں ملاتی جارہی ہے، اولاد ان کے حقوق کی پروانہیں کررہی تومعاشرے کی یہ اجتماعی سوچ بن جائیگی کہ باپ بننایاکم ازاکم ان کی تربیت کے لئے کوشش کرنایک گھاٹے کاسوداہے۔ اوراس کے ناپسندیدہ نتائج ابھرکرسامنے آئیں گے اوریہ چیزقلت یاانقطاع نسل کاسبب بنے گی جیساکہ امام نے اس کی طرف اشارہ کیاہے جس کامعمولی اثریہ ہوگاکہ لوگ اولاد کی تربیت کواہمیت نہیں دیں گے اوردونوں صورتوں میں معاشرے کانقصان ایک امرلازم ہے۔اوراس کے برعکس اگروالدین یہ سمجھیں کہ اولاد کی طرف سے ان کی عزت وتوقیرکی جارہی ہے تووہ بھی اولاد کی تربیت پرزیادہ سے زیادہ توجہ دیں گے۔

      آج کے دورمیں اس کی بدترین مثال مغربی معاشروں میں رونماہونے والی صورت حال ہے کہ جہاں پرخاندانی جدائیوں کی وجہ سے پیداہونے والی بے راہ روی کے بھیانک نتائج ہماری نظروں کے سامنے ہیں۔ بیٹا والدین کی سرپرستی قبول نہیں کرتااوران کے حقوق اداکرنے سے گریزکرتاہے اورہمہ وقت لذات کے پرموج سمندرمیں غرق رہتاہے اوراسی کانتیجہ ہے جائزنسل کاکم ہونا بچوں کی تربیت کافقدان اوربچوں کوتربیت کے لئے آموزش وپرورش کے مراکزکے حوالے کرنااوریہ معاشرتی مرض اس قدر بڑھتاجارہاہے کہ اولادکی بہ نسبت جانوروں بالخصوص کتوں کی تربیت پرزیادہ زوردیا جارہاہے اگراولادکی سرکشی اوروالدین سے بے توجہی کایہ سلسلہ جاری رہاتواس کانتیجہ انقطاع نسل یاکم ازکم قلت نسل تک جاپہنچے گاجومغربی معاشروں کوجہنم کے کنارے پر لاکھڑا کرے گا۔


[12] سورہ اسراء ۱۷:۲۳۔



back 1 2 3 4 5 next