اسلام میل جول اور تعلقات کا دین ہے جدائی کا نہیں



اسلام  میل جول اور تعلقات کا دین ہے جدائی کا نہیں

  اسلام كا اصول ملاپ اور میل جول ہے جدائی اور قطع تعلق نہیں۔ كیونكہ انسانوں كا ایك دوسرے سے میل ملاپ ربط و تعلق معاشرے میں موجود دراڑوں كو پركردیتا ہے۔اور بعض اوقات باہمی ربط و تعلق نہ ہونے اور دوریوں كی وجہ سے انسان ایك دوسرے كے بارے میں بدگمانی كا شكار ہو جاتے ہیں اور ان كے درمیان خلیج گہری ہو جاتی ہے۔ لیكن باہمی میل ملاپ قربت اور گفتگو كے ذریعے پتا چلتا ہے كہ سامنے والے كی فكر كیا ہے؟اسكے اہداف و خواہشات كیا ہیں؟ اسكے خواب اور تمنائں كیا ہیں؟ اسكا نكتہ نظر كیا ہے؟ اور اسی طرح فریق ثانی آپ كے متعلق تمام شناسائ حاصل كر لیتا ہے اور یوں ایك انسان دوسرے انسان كوسمجھنے لگتا ہے۔ اور یہ اسلامی معاشرے كی تنظیم كے اسرار میں سے ایك راز ہے۔ لہٰذا معاشرے میں نظر آنے والی یہ بات كہ بعض لوگ ایك دوسرے سے قطع تعلق كۓ ہوۓ ہیں اور بعض ایك دوسرے سے گفتگو تك كے روادار نہیں اسلامی اصولوں كے برخلاف ہے۔دوستی كے متعلق ایك حدیث میں حضرت امام موسی كاظم ںفرماتے ہیں: لاٰتَذہَبِ الحِشَمۃََ بَینَكَ وَبَینَ اَخِیكَ وَابقِ مِنہَا فَاِنَّ ذَہَابَہٰا ذَہٰابُ الحَیٰاءِ اپنے اور اپنے دوست كے درمیان شرم و حیا كا پردہ ختم نہ كرنا كیونكہ اس پردے كے اٹھ جانے سے حیا كا خاتمہ ہو جاتا ہے ۔ دو افراد جن كے درمیان دوستی اور رفاقت كا رشتہ قائم ہے وہ ایك دوسرے كے ساتھ دو انداز سے پیش آ سكتے ہیں:

1۔ ایك انداز اور طریقہ یہ ہے كہ ان كے درمیان كوئی پاس و لحاظ نہ ہو كوئی پردہ نہ رہے، سارے حجاب پارہ ہوجائں اور دونوں كے درمیان ایسی كوئی بھی چیز باقی نہ بچے۔ اس بات سے روكا گیا ہے ۔ حضرت امام كاظم ںنے تاكید فرمائ ہے كہ دو افراد كے درمیان كچھ نہ كچھ حیا باقی رہنی چاہۓ جس سے پتا چلے كہ وہ ایك دوسرے كا لحاظ كرتے ہیں اور ایك دوسرے كے احترام كے قائل ہیں۔ كیونكہ اگر سارے حجاب پارہ ہوجائں اوركوئی حد باقی نہ بچے تو دونوں كی دوستی كو نقصان پہنچے گا ۔

2۔ دوسرا انداز و اسلوب یہ ہے كہ دونوں كے درمیان ایك حدِ فاصل قائم ر ہے وہ ایك دوسرے كے تمام رازوں سے واقف نہ ہوں اور ان كے درمیان باہمی پاس و لحاظ برقرار رہے۔ اور یہی انداز مطلوب ہے۔ ایك حدیث میں حضرت امام صادق ںفرماتے ہیں:اِن اَرَدتَ اَن یَصفُوَلَكَ وُدَّ اَخِیكَ فَلاٰ تُمٰازِحَنَّہُ (ا گر تم چاہتے ہو كہ تمہارے بھائی كے ساتھ تمہاری دوستی خالص ہو تو اس سے ہنسی مذاق نہ كرنا) ۔یہاں مذاق سے مراد گھٹیا اور غیر مہذب مذاق ہیں۔ وَلاٰتُمٰارِیَنَّہُ (اس كے ساتھ جھگڑا نہ كرنا) ۔مراد یہ ہے كہ ایسی بحث نہ كرنا جس میں بدكلامی ہو جو دوستی كو خراب كر دیتی ہے۔ وَلاٰ تُبٰاہِیَنَّہُ (اور اس كے سامنے شیخی نہ بگھارنا) ۔ یعنی اسے اپنے رتبے و مقام مال ودولت سے مرعوب كرنے كی كوشش نہ كرنا اور اپنے اس عمل كے ذریعے اس كی شخصیت كو نیچا مت دكھانا۔ وَلاٰتُشٰارَنَّہُ (اور اسے نقصان نہ پہنچانا) ۔یعنی اس كے ساتھ ایسا معاملہ نہ كرنا جس سے فتنہ و فساد سر ابھارے یاایسا عمل نہ كرنا جس سے اس كے او رتمہارے درمیان اختلاف پیدا ہو ۔

حضرت امام علی نقی ں فرماتے ہیں: اَلمِرَاءُ یُفسِدُ الصَّدَاقۃََ القَدِیمۃََ وَیُحلِّلُ العِقدۃََ الوَثِیقۃََ وَاَقَلُّ مٰا فِیہِ اَن تَكُونَ فِیہِ المُغٰالبۃََ جدال پرانی دوستیوں كو خراب كر دیتا ہے مضبوط رشتوں كو توڑ دیتا ہے اور اس میں كم از كم یہ ضرور ہوتا ہے كہ ایك فریق دوسرے فریق كو زیر كرنے كی كوشش كرتا ہے۔ جدال میں كیونكہ ہر ایك كی كوشش یہ ہوتی ہے كہ دوسرے كو مغلوب كرے لہٰذا یہ عمل دوستی پر منفی اثرات چھوڑتا ہے ۔ وَالمُغٰالبۃُ اُسُّ اَسبَابِ القطعیۃَِاور ایك دوسرے كو مغلوب كرنے كے لۓ كوشش ہر برائ كی جڑ ہے۔ كیونكہ مغلوب شخص محسوس كرتا ہے كہ وہ غالب كی نظر میں حقیر ہو چكا ہے جبكہ غالب رہنے والا خود كو مغلوب پر برتر محسوس كرتا ہے۔ یہ احساسات دوستانہ تعلقات میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں اور دوستی كی بنیادوں كو ہلا كر ركھ دیتے ہیں۔حضرت علی ںنے ہمیں متوجہ فرمایا ہے كہ اگر چغل خور لوگ ہمارے بارے میں ہمارے دوستوں كی كہی ہوئی ناروا باتیں ہمیں آ كر بتائں تو ہمیں ان كی بتائ ہوئی باتوں كو قبول نہیں كرنا چاہۓ: مَن اَطٰاعَ الوٰاشِی ضَیَّعَ الصَّدِیقَ (جوبھی چغلخور كی بات مانتا ہے وہ اپنے دوست كوضائع كر دیتا ہے) كیونكہ چغلخور كا توكام ہی منفی اور بری باتوں كو ایك دوسرے سے بیان كرنا ہے اور اس طرح وہ دوستوں كے درمیان قائم پرانی دوستیوں كو بھی نابود كردیتا ہے اور بنیادی طور پر چغلخور كا مقصد بدی پھیلانے او رایك دوسرے كے درمیان جدائ ڈالنے كے سوا كچھ اور نہیں ہوتا۔

حضرت علی ںنے اپنی وصیت میں محمد بن حنفیہ سے فرمایا: اِیّٰاكَ وَالعُجبَ (خود پسندی سے پرہیز كرنا) ۔یعنی ایسا نہ ہو كہ تم اپنے آپ پر ناز كرنے لگو اور اپنی شخصیت كو بزرگ و برتر سمجھنے لگو۔ وَسُوءُ الخُلقِ (بد اخلاقی سے پرہیز كرنا) ۔ایسا نہ ہو كہ تم اپنے دوستوں كے ساتھ برے اخلاق سے پیش آؤ بد كلامی كرو اور سخت رویہ اختیار كرو۔ وَقِلَُّۃ الصَّبرِ (كم حوصلگی اوربے صبری سے پرہیز كرنا) ۔ یعنی كہیں ایسانہ ہو كہ تم دوسروں كی بد سلوكی اور ان كی اذیت وآزار (خواہ عمداً ہو یا بھولے سے) كوبرداشت نہ كرو اور خبرداركہیں ایسا نہ ہو كہ اگر كوئی تمہیں اذیت پہنچاۓ تمہارے ساتھ بد سلوكی كرے اور تم ایك مدت تك حقیقت واضح ہونے كا انتظار نہ كرو۔ فَاِنَّہُ لاٰیَستَقِیمُ لَكَ عَلَی ہِذِہِ الخِصٰالِ الثَّلاٰثِ صَاحبٌ (اس لۓ كہ (تم میں) ان تین صفات كے ہوتے ہوۓ كوئی تمہاری دوستی پر باقی نہیں رہے گا۔) كیونكہ اگر تم اپنے دوستوں كے سامنے اپنی برتری اور فوقیت جتائو گے اور یہ كہو گے كہ میں تم سے برتر ہوں او رتم پست ہو یا ان كے ساتھ بد سلوكی كرو گے یا تعلقات كے دوران پیش آنے والی كمزوریوں كو برداشت نہ كرو گے تو پھر دوستی اور رفاقت كی كوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ وَلاٰیَزَالُ لَكَ عَلَیہٰا مِنَ النّٰاسِ مُجٰانِبُ ان صفات اورایسی شخصیت كی بناپر لوگ تم سے گریز كریں گے اورتم لوگوں سے كٹ كے رہ جائو گے۔

بدگمانی كی ممانعت

امام علی ں نے ہمیں دوستوں كے بارے میں بدگمانی سے منع فرمایا ہے كیونكہ بعض اوقات ہم دوستوں سے یا اسی طرح دوسرے افراد سے ایسا عمل سرزد ہوتے دیكھتے ہیں جسے ہم نیكی او رحسن نیت پر مبنی بھی سمجھ سكتے ہیں او ر اسے شر اوربدی سے بھی تعبیر كر سكتے ہیں ۔ اسی موقع كے لۓ امام علی ںنے فرمایا ہے: اِیّٰاكَ وَسُوءَ الظَّنِّ (بدگمانی سے پرہیز كرو) یعنی كہیں ایسانہ ہو كہ كسی كے منفی پہلو كو اس كے مثبت پہلو پر ترجیح دو ۔ كیونكہ اس طرح تم دوسروں پر اعتماد كرنا چھوڑ دو گے ۔او رتم اگر دوسروں پر اعتماد سے محروم ہو جائو بالخصوص جبكہ وہ تمہارے دوست بھی ہوں تو یہ بد اعتمادی ممكن ہے تمہاے تعلقات كا خاتمہ كر دے اور تمہاری دوستی میں شگاف ڈال دے اور دوسرے لوگوں سے تمہارے روابط كو پیچیدگیوں كا شكار كر دے۔ حضرت علی ں سے ایك جملہ نقل ہوا ہے جو انسان كو ایك اصول فراہم كرتا ہے جو بتاتا ہے كہ انسان جب بھی كسی دوسرے انسان كے كسی قول یا عمل كا سامنا كرے تو اس كے بارے میںمثبت راۓ ركھے۔حضرتں فرماتے ہیں: ضَع اَمرَ اَخِیكَ عَلیٰ اَحسَنَہُ (اپنے بھائ كے عمل كی توجیہ بہترین گمان سے كرو) ۔ یعنی اگر تمہارا دینی بھائ كوئی ایساكام انجام دے جو مختلف احتمالات او ر پہلوئوں كا حامل ہو۔ یعنی اس میں اچھا احتمال بھی پایا جاتا ہو اور برا احتمال بھی تو برے احتمال پر اچھے احتمال كو فوقیت دو۔ اس سے مراد یہ ہے كہ اس پر برائ كا حكم نہ لگائو جبكہ اس سے اچھائ كا پہلو نكلالنا بھی ممكن ہو۔ وَلاٰتَظُنَّنَّ بكلمۃٍ خَرَجَت مِن اَخِیكَ سُوء اً وَاَنتَ تَجِدُلَہَا فِی الخَیرِمَحمِلاً اپنے بھائی كے منھ سے نكلنے واے الفاظ كے متعلق بدگمانی سے كام نہ لو جبكہ تم اس كلام كے متعلق اچھا احتمال بھی دے سكتے ہو۔ بالفرض اس كی بات میں ۹۹ فی صد بری نیت نظر آ رہی ہو اور صرف ایك فی صد اچھی نیت كا امكان دكھائ دے رہا ہو تو كہو كہ شاید یہی ایك فی صد والا پہلو اس كی مراد ہو۔

اور اسلام اسی نظریے پر اپنے ماننے والوں كی تربیت كرنا چاہتا ہے جو اسلام كے عدالتی اصولوں سے ساز گار ہے۔ اگر ملزم پر الزام ثابت نہ ہو سكے تو ایسے مواقع پر وہ بری ہو جاتا ہے۔ مثلاً اگر كسی شخص كے ہاتھ میں ریوالور ہو او راس كے سامنے ایك لاش پڑی ہوئی ہو، تو فوراً ہی یہ فیصلہ نہیں كر لینا چاہۓ كہ جس شخص كے ہاتھ میں ریوالور ہے وہی قاتل ہے۔ اسلامی عدالت كہتی ہے كہ یہ شخص ملزم ہے اسے مجرم نہ كہو جب تك كہ دلائل اور ثبوت اس كے جرم كو ثابت نہ كردیں كیونكہ ممكن ہے كچھ نامرئ اور پوشیدہ عوامل سامنے آئں جن كی بنیاد پر وہ شخص جرم سے بری ہوجاۓ۔ البتہ قدرتی بات ہے كہ حسنِ ظن ركھنے كے معنی یہ نہیں ہیں كہ ہم ملزم كو جرم سے سوفی صد بری سمجھیں،بلكہ مراد یہ ہے كہ نہ اسے صد فی صد مجرم سمجھیں او رنہ ہی اسے صد فی صد بے گناہ جانیں۔ بلكہ اس جگہ او راس سے ملتی جلتی صورتوں میں فرد كو صرف ملزم سمجھیں یہاں تك كہ حقیقتِ امرواضح ہوجاۓ ۔اور اصولاً ملزم ومجرم میں فرق ہے دونوں بالكل علیحدہ مقولے ہیں۔ چنانچہ حضرت علی ں فرماتے ہیں: لاٰیَغلَبَنَّ عَلَیكَ سُوءُ الظَّنِّ فَاِنَّہُ لاٰیَدَعُ بَینَكَ وَبَینَ صَدِیقٍ صَفحاً كہیں ایسانہ ہو كہ تم پر بدگمانی غالب آجاۓ۔ اس صورت میں تمہارے اورتمہارے دوست كے درمیان بخشش اور در گزر كی كوئی گنجائش نہ رہے گی۔ بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں كہ اگر كسی كے منھ سے كوئی اچھا كلمہ سنیں تو اسے برے كلمے میں تبدیل كردیتے ہیں كیونكہ وہ دوسروں میں كوئی خوبی نہیں دیكھ سكتے۔ ایسے لوگ ان بدبخت افراد كی مانند ہیں جن كی نظر میں زندگی كا صرف تاریك پہلو ہوتا ہے ۔

مثلاً عباسی درباركے معروف شاعر ابن رومی كے متعلق كہا جاتا ہے كہ وہ ہر چیز میں سے منفی پہلو نكالنے میں ماہر تھا۔ ایك مرتبہ اس كے كچھ دوستوں نے تفریح كا پروگرام بنایا اور اسے مدعو كرنے كے لۓ ایك شخص كو جس كا نام حسن تھا اس كے پاس بھیجا ۔جب حسن ابنِ رومی كے پاس پہنچا تو ابن رومی نے اس سے پوچھا تمہارا نام كیا ہے؟ اس نے كہا: حسن۔ یہ سن كرابن رومی نے لفظ حسن كے الفاظ كی جگہوں كو تبدیل كر دیا او ركہا: نَحساً یعنی تم نحس اور بد شگون ہو اور یہ كہہ كر دروازہ بند كرلیا۔اس كے دوستوں نے دوسرے شخص كو بھیجا جس كا نام اقبال تھا۔ ابنِ رومی نے اس كے نام كے حروف كو ادل بدل دیا او ركہا: لابقا (نہ رہنے والا) اور دروازہ بند كرلیا۔ جی ہاں! بعض افراد ابنِ رومی كی طرح نفسیاتی الجھائو (Complex) كا شكار ہوتے ہیں او رلوگوں كے بارے میں بدگمان رہتے ہیں۔بعض اوقات لوگ كوئی ایسی بات كرتے ہیں جس میں خیر كا احتمال پایا جاتا ہے نیز بہت سے صحیح معنی موجود ہوتے ہیں لیكن اس قسم كے لوگ اس بات میں سے برے احتمال كو ترجیح دیتے ہیں اور اسكے بارے میں اچھے احتمال كا اظہار نہیں كرتے ۔ یہ بات ہمیں سیاسی اعتقادی اجتماعی اور شرعی مسائل میں بھی نظر آتی ہے۔ ایسے افراد كے نزدیك بدگمانی سے زیادہ كوئی دوسری چیز اہم نہیں ہوتی اور جب انھیں ٹوكا جاتا ہے كہ اس درجہ بدگمانی نہ كرو تو جواب میں كہتے ہیں: سو ء الظن من حسن الفطن (بدگمانی ذہانت اور چالاكی میں سے ہے) جبكہ انھیں معلوم نہیں كہ بدگمانی نہ صرف ذہانت كی علامت نہیں بلكہ عدالت عقل او رحكمِ شرعی كے برخلاف ہے بالخصوص اس وقت جب بد گمانی كسی فرد كے متعلق حكم كی بنیاد واساس بن جاۓ۔ دوستی كے رشتے میں استحكام اور مضبوطی سے متعلق حضرت امام علی ںكی ایك حدیث ہے: مَن نَاقَشَ الاِخوَانَ قَلَّ صَدِیقُہُ جو كوئی اپنے دوستوں سے كڑا حساب لیتا ہے ان پر سخت نكتہ چینی كرتا ہے اس كے دوست كم ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا یہ كوشش نہیں ہونی چاہۓ كہ اپنے دوستوں كی بات بات پر نكتہ چینی كرو اور ان كی ایك ایك سانس تك شمار كروكیونكہ كوئی چیز ایسی نہیں جس میں سے خامیاں نہ نكالی جا سكیں۔بقول شاعر

اِذٰاكُنتَ فی كُلِّ الاُمُورِ مُعَاتِباً

صَدِیقَكَ لَم تَلقِ الَّذِی لاٰتُعٰاقِبُہُ



1 2 3 4 next