توحید



اس بنا پر الله کو دیکھنے کا عقیدہ ایک طرح کا شرک ہے۔ کیونکہ قرآن فرماتا ہے کہ لاتدرکه الابصار و هو یدرک الابصار و هو اللطیف الخبیر یعنی آنکھیں اسے نہیں دیکھتیں مگر وہ سب آنکھوں کو دیکھتا ہے اور وہ بخشنے والا اور جاننے والاہے۔

اسی وجہ سے جب بنی اسرائیل کے بہانے باز لوگوں نے جناب موسی علیہ السلام سے الله کو دیکھنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ لن نؤمن لک حتی ٰ نری الله جهرةً   یعنی ہم آپ پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کھلے عام الله کو نہ دیکھ لیں۔ حضرت موسی علیہ السلام ان کو کوہ طور پر لے گئے اور جب الله کی بارگاہ میں ان کے مطالبہ کو دہرایا تو ان کو یہ جواب ملا کہ  لن ترانی ولکن انظر الی ٰ الجبل فان استقر مکانه فسوف ترانی فلما تجلی ٰ ربه للجبل جعله دکاً وخرموسی ٰ صعقا فلما افاق قال سبحانک تبت الیک وانا اول المومنین   یعنی تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکو گے لیکن پہاڑ کی طرف نگاہ کرو اگر تم اپنی حالت پر باقی رہے تو مجھے دیکھ پاؤ گے اور جب ان کے رب نے پہاڑ پر جلوہ کیا تو انھیں راکھ بنادیا اور موسیٰ بیہوش ہوکر زمین پر گر پڑے، جب ہوش آیا تو عرض کیا کہ پالنے والے تو اس بات سے منزہ ہے کہ تجھے آنکھوں سے دیکھا جا سکے میں تیری طرف واپس پلٹتا ہوں اور میں ایمان لانے والوں میں سے پہلا مومن ہوں۔ اس واقعہ سے ثابت ہوجاتا ہے کہ خداوند متعال کو ہر گز نہیں دیکھا جاسکتا۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ جن قرانی آیات و اسلامی روایات میں الله کو دیکھنے کا تذکرہ ہواہے وہاں پر دل کی آنکھوں سے دیکھنا مردا ہے نہ کہ چشم ظاہری سے کیونکہ قرآن کی آیتیں ہمیشہ ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں القرآن یفسر بعضه بعضاً

اس کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام سے ایک شخص نے سوال کیا کہ” یا امیر المومنین هل را ٴ یت ربک  یعنی اے امیر المومنین کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: ” اَاَعبد مالا اری “ یعنی کیا میں اس کی عبادت کرتا ہوں جس کو نہیں دیکھا؟ اس کے بعد فرمایا: ” لا تدرکہ العیون بمشاہدة العیان، ولکن تدرکہ القلوب بحقایق الایمان “ اس کو یہ آنکھیں تو ظاہری طور پر نہیں دیکھ سکتی مگر دل ایمان کی طاقت سے اس کو درک کرتا ہے۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ الله کے لئے مخلوق کی صفات کا قائل ہونا جیسے الله کے لئے مکان، جہت، مشاہدے اور جسمانیت کا عقیدہ رکھنا الله کی معرفت سے دوری اور شرک میں آلودہ ہونے کی وجہ سے ہے۔ وہ تمام ممکنات اور ان کے صفات سے برتر ہے ،کوئی بھی چیز اس کے مثل نہیں ہوسکتی ۔

 

5.   توحید ، تمام اسلامی تعلیمات کی روح ہے :

ہمارا عقیدہ ہے کہ الله کی معرفت کے مسائل میں مہم ترین مسئلہ معرفت توحید ہے۔ توحید درواقع اصول دین کی ایک اصل ہی نہیں بلکہ تمام سلامی عقائد کی روح ہے ۔اور یہ بات صراحت کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اسلام کے تمام اصول وفروع توحید سے ہی وجود میں آتے ہیں۔ ہر منزل پر توحید کی باتیں ہیں، وحدت ذات پاک، توحید صفات و افعال خدا اور دوسری تفسیر یہ کہ و حدت دعوت انبیاء، وحدت دین وآئیین الٰہی ، وحدت قبلہ اور کتاب آسمانی،تمام انسانوں کے لئے احکام و قانون الٰہی کی وحدت، وحدت صفوف مسلمین اور وحدت یوم المعاد۔

اسی وجہ سے قرآن کریم نے توحید الٰہی کے سلسلہ میں ہرطرح کے انحراف اورشرک کو نہ بخشاجانے والا گناہ کہا ہے۔ ان الله لایغفر ان یشرک به ویغفر مادون ذلک لمن یشاء ومن یشرک بالله فقد افتری اثما عظیماً یعنی الله شرک کو ہرگز نہیں بخشے گا، (لیکن اگر)  شرک کے علاوہ (دوسرے گناہ ہیں) توجس کے گناہ چاہے گا بخش دے گا، اور جس نے کسی کو الله کا شریک قرارادیا  گویااس نے اس پر تہمت لگائ اور ایک بہت بڑا گناہ انجام دیا ولقد اوحی الیک والی ٰ الذین  من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخاسرین یعنی بتحقیق تم  پراور تم سے پہلے پیغمبروں پر وحی کی گئی کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمھارے تمام اعمال حبط کردیئے جائیں گے اور تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤ گے۔

 



back 1 2 3 4 5 6 7 next