توحید



6.   توحید کی قسمیں:

ہمارا عقیدہ ہے کہ توحید کی بہت سی قسمیں ہیں جن میں سے چار اقسام بہت اہم ہیں:

۱۔  توحید در ذات :یعنی اس کی ذات یکتا و تنہا ہے اور کوئی اس کے مثل نہیں ہے۔

۲۔ توحید درصفات: یعنی اس کے صفات علم ،قدرت ،ازلیت، ابدیت و ۔۔۔۔۔ تمام اس کی ذات میں جمع ہیں اوراس کی عین ذات ہیں۔اس کے صفات مخلوقات کے صفات جیسے نہیں ہیں کیونکہ مخلوق کے تمام صفات ایک دوسرسے جدا اور ان کی ذات بھی صفات سے جدا ہوتی ہے البتہ عینیت ذات خدا وند باصفات کو سمجھنے کے لئے دقت نظر اور ظرافت فکر ی کی ضرورت ہے۔

۳۔ توحید در افعال :ہمارا عقید ہے کہ اس عالم ہستی میں جو افعال،حرکات واثرات پائے جاتے ہیں، ان سب کا سرچشمہ ارادہٴ الٰہی اور اس کی مشیت ہے الله خالق کل شی ٴ و ہوعلی ٰ کل شی ٴ وکیل یعنی ہر چیز کا خالق الله ہے اور وہی ہر چیز کا حافظ و ناظر ہے له مقالید السموات والارض زمین و آسمان کی تمام کنجیاں اس کے دست قدرت میں ہے ” لامؤثرفی الوجود الا الله ”  اس جہان ہستی میں الله کی ذات کے علاوہ کوئی اثر انداز نہیں ہے۔ لیکن اس بات کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم اپنے اعمال میں مجبور ہیں، بلکہ اس کے برعکس ہم اپنے ارادوں وفیصلوں میں آزاد ہیں ان هدیناه السبیل واما شاکرا واما کفور اً   ہم نے انسان کی ہدایت کردی ہے (اس کو راستہ دکھادیاہے ) اب چاہے وہ شکریہ ادا کرے (یعنی اس کو قبول کرے )یا کفران نعمت کرے (یعنی اس کو قبول نہ کرے۔ وان لیس للانسان الا ما سعی ٰ یعنی انسان کے لئے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کے لئے اس نے کوشش کی ہے ۔قرآن کی آیت اس بات کی طرف صریحاًاشارہ کررہی ہے کہ انسان اپنے ارادہ میں آزاد ہے۔ لیکن چونکہ الله نے ارادہ کی آزادی اور ہرکام کو انجام دینے کی قدرت ہم کو عطا کی ہے،اس لئے ہمارے کام  اس کے بغیر کہ اپنے کاموں کے بارے میں ہماری ذمہ داری کم ہو ،اس کی طرف اسنادپیدا کرتے ہیں۔ ہمیں اس بات پر توجہ دینی چاہئے۔ ہاں اس نے ارادہ کیا ہے کہ ہم اپنے اعمال کو آزادی کے ساتھ انجام دین تاکہ وہ اس طریقہ سے ہماری آزمائش کرسکے اور ہمیں راہ تکامل میں آگے بڑھا سکے۔ انسان کا تکامل تنہا آزادئی ارادے اور اختیار کے ساتھ الله کی اطاعت پر منحصر ہے،کیوں کہ بے اختیاری  و جبری  اعمال نہ کسی کے نیک ہونے کی دلیل ہے اور نہ بد ی کی۔

اصولاً اگر ہم اپنے اعمال میں مجبور ہوتے تو آسمانی کتابوں کا نزول،انبیاء کی بعثت، دینی تکالیف، تعلیم و تربیت اور اسی طرح سے الله کی طرف سے ملنے والی سزا خالی از مفہوم رہ جاتی۔

یہ وہ چیز ہے کہ جس کو ہم نے مکتب ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے سیکھا ہے انھوں نے ہم سے فرمایا ہے کہ ” نہ جبر مطلق صحیح ہے اور نہ تفویض مطلق بلکہ ایک چیز ہے، لاجبر ولا وتفویض ولکن امراً بین الامرین

 

۴ ۔ توحید در عبادت:یعنی عبادت صرف الله سے مخصوص ہے اور اس کی پاک ذات کے علاوہ کسی معبود کا وجو د نہیں ہے۔توحید کی یہ قسم سب سے اہم قسم ہے اور اس کی اہمیت اس بات سے آشکار ہو جاتی ہے کہ الله کی طرف سے آنے والے تمام انبیاء نے اس پر ہی زیادہ زور دیا ہے < وما امروا لا لیعبدوا الله مخلصین له الدین  حنفاء ۔۔۔ وذلک دین القیمة یعنی پیغمبروں کو اس کے علاوہ کوئی حکم نہیں دیا گیا کہ تنہا الله کی عبادت کریں، اور اپنے دین کو اس کے لئے خالص بنائیں اور توحید میں کسی کو شریک قرار دینے سے دور رہیں۔۔۔۔۔۔اور یہی الله کا محکم ایمان ہے۔

اخلاق و عرفان کے تکامل کے مراحل طے کرنے سے توحید اور عمیق تر ہو جاتی ہے اور انسان اس منزل پر پہونچ جاتا ہے کہ فقط الله سے ہی لو لگائے رکھتا ہے۔ہرجگہ اس کو چاہتا ہے اور اس کے علاوہ کسی غیر کے بارے میں نہیں سوچتا۔ اور کوئی چیز اسے الله سے ہٹا کر اپنے میں مشغول نہیں کرتی کلما شغلک عن الله فهو صنمک یعنی جوچیز تمہیں الله سے دور کرکے اپنے میں الجھا دے وہی تمہارا بت ہے۔



back 1 2 3 4 5 6 7 next