توحید



۵۔ توحید درمالکیت: یعنی ہر چیز الله کی ملکیت ہے لله ما فی السمو ٰ ات وما فی الارض

۶۔ توحید در حاکمیت: یعنی قانون فقط الله کا قانون ہے ومن لم یحکم بما انزل الله فاولئک هم الکافرون یعنی جو الله کے نازل کئے ہوئے (قانون کے مطابق) فیصلہ نہیں کرتے  وہ سب کافر ہیں۔

ہمارا عقیدہ ہے کہ توحید افعالی اس حقیقت کی تاکید کرتی ہے کہ الله کے پیغمبروں نے جو معجزات دکھائے ہیں وہ الله کے حکم سے تھے۔ کیونکہ قرآن کریم حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے کہ   وتبری ٴ الاکمه والابرص باذنی واذ تخرج الموتی ٰ باذنی یعنی تم نے مادر آزاد اندھوں اور لاعلاج کوڑھیوں کو میرے حکم سے صحت دی اور مردوں کو میرے حکم سے زندہ کیا ۔

اور جناب سلیما علیہ السلام کے ایک وزیر کے بارے میں فرمایا   قال الذی عنده علم من الکتاب انا آتیک به قبل ان یرتد الیک طرفک فلما ره مستقراً عنده قال هذا من فضل ربی یعنی جس کے پاس آسمانی کتاب کا تھوڑا سا علم تھا اس نے کہا کہ اس سے پہلے کہ آپ کی پلک جھپکے میں اسے (تخت بلقیس) آپ کی خدمت میں لے آؤں گا۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کو اپنے پاس کھڑا پایا تو کہا یہ میرے پروردگار کے فضل سے ہے۔

اس بنا پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف الله کے حکم سے لاعلاج مریضوں کو شفا دینے اور مردوں کو زندہ کرنے کی نسبت دینا جس کو قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے، عین توحید ہے۔

 

7.   فرشتگان خدا:

فرشتوں کے وجود پر ہمارا یقین ہے او رہمارا  عقیدہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی ایک خاص ذمہ داری ہے:

 ایک گروہ پیغمبر وں پر وحی لانے پر معمور ہے۔

ایک گروہ انسانوں کے اعمال کو حفظ کرنے پر ۔



back 1 2 3 4 5 6 7 next