توحید



ایک گروہ روحوں کو قبض کرنے پر۔

ایک گروہ استقامت کے لئے مومنین کی مدد کرنے پر ۔

ایک گروہ جنگ میں مومنوں کی مدد کرنے پر ۔

ایک گروہ باغی قوموں کو سزا دینے پر ۔

اور ان کی ایک سب سے اہم ذمہ داری اس جہان کے نظام سے متعلق ہے ۔کیونکہ یہ سب ذمہ داریاں الله کے حکم اور اس کی طاقت سے ہیں، لہٰذا اصل توحید افعالی اور توحید ربوبیت کے متنافی نہیں ہے بلکہ اس پر تاکید ہیں۔

ضمناً یہاں سے مسئلہ شفاعت پیغمبران ،معصومین علی ہم السلام وفرشتگان بھی روشن ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہ الله کے حکم سے ہے لہٰذا یہ عین توحید ہے < مامن شفیع الامن بعد اذنه یعنی کوئی شفاعت کرنے والانہیں ہے مگر الله کے حکم سے ۔مسئلہ شفاعت اور توسل کے بارے میں زیادہ شرح نبوت کی بحث میں بیان کی جائے گی ۔

 

8.   عبادت صرف الله سے مخصوص ہے :

ہمارا عقیدہ ہے کہ عبادت صرف الله کی ذات سے مخصوص ہے۔ (جیسا کہ  اس بارے میں توحیدعبادت کی بحث میں اشارہ کیا گیا ہے) اس بنا پر جو بھی اس کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت کرتا ہے وہ مشرک انجامدیتا ہے۔تمام انبیاء کی تبلیغ بھی اسی نکتہ پر مرکوز تھی اعبدوا الله مالکم من اله غیرہ یعنی الله کی عبادت کرو اس کے علاوہ تمھارا اور کوئی معبود نہیں ہے ۔یہ بات قرآن کریم میں پیغمبروں سے متعدد مرتبہ نقل ہوئی ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم تمام مسلمان ہمیشہ اپنی نمازوں میں سورہٴ حمد کی تلاوت کرتے ہوئے اس اسلامی نعرہ کو دہراتے رہتے ہیں ایاک نعبد وایاک نستعین یعنی ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ سے ہی مدد چاہتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ الله کے اذن سے پیغمبروں و فرشتوں کی شفاعت کا عقیدہ جو  قرآن کریم کی آیات میں بیان ہوا ہے عبادت کے معنی میں ہے۔



back 1 2 3 4 5 6 7 next