قیامت



اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہ زمین و آسمان کی خلقت زیادہ اہم ہے یا انسان کا پیدا کرنا ! بس جو اس وسیع جہان کو اس کی تمام شگفتگی کے ساتھ خلق کرنے پر قادر ہے وہ انسان کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔  اولم یروا ان الله الذی خلق السمو ٰ ت والارض ولم یعی بخلقهن بقادر علی ٰ ان یحی الموتی ٰ بلی ٰ انه علی ٰ کل شی ٴ قدیر   یعنی کیا وہ نہیں جانتے کہ الله نے زمین وآسمان کو پیدا کیا اور وہ ان کو خلق کرنے سے عاجز نہیں تھا، بس وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادرہے بلکہ وہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

معاد جسمانی:

ہمارا عقیدہ ہے کہ اس جہان (آخرت) میں صرف انسان کی روح ہی نہیں بلکہ روح و جسم دونوں کو پلٹایا جائیے گا۔ کیونکہ اس جہان میں جو بھی کچھ انجام دیا گیا ہے اسی جسم اور روح کے ذریعہ انجام پایا ہے لہٰذا جزا یا سزا میں بھی دونوں کاہی حصہ ہونا چاہئے۔

معاد سے مربوط قرآن کریم کی اکثر آیات میں معاد جسمانی کا ہی ذکر ہوا ہے جیسے معاد پر تعجب کرنے والے مخالفین، جو یہ کہتے تھے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کے جواب میں قرآن کریم فرماتا ہے کہ  قل یحییا الذی انشائها اول مرة یعنی آپ کہہ دیجئے کہ انھیں وہی زندہ کرے گا جس نے ان کو پہلی بار خلق کیا تھا ۔

ایحسب الانسان ان لن نجمع عظامه ۔۔ بل قادرین علی ٰ ان نسوی بنانه یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی (بوسیدہ )ہڈیوں کو جمع(زندہ) نہیں کریں گے؟ ہاں! ہم تو یہاں تک بھی قادر ہیں کہ ان کی انگلیوں کے (نشانات) کو بھی مرتب کریں (اور انکو پہلی حالت پر پلٹادیں) ان آیات  کی طرح یبہت سی دوسری آیتیں بھی معاد جسمانی کو صراحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ وہ آیتیں جو یہ بیان کرتی ہیں کہ تم اپنی قبروں سے اٹھائے جاؤ گے وہ بھی معاد جسمانی کو ہی وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔ قرآن کریم کی معاد سے مربوط اکثر آیات معاد روحانی وجسمانی  پر ہی دلالت کرتی ہیں۔

3.   موت کے بعد کی زندگی:

ہمارا عقیدہ ہے کہ وہ چیزیں جو موت کے بعد، اس جہان میں قیامت، جنت، جہنم میں رونما ہوں گی، ہم اس محدود دنیا میں ان سے باخبر نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ وہ چیزیں ہماری فکر سے بہت بلند و بالاہیں فلا تعلم نفس ما اخفی لهم من قرة اعین یعنی کسی نفس کو معلوم نہیں ہے کہ اس کے لئے کیا کیا خنکی چشم کا سامان چھپا کررکھاگیا ہے جو ان کے اعمال کی جزا ہے۔

پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک مشہور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ: ” ان الله یقول اعددت لعبادی الصالحین ما لا عین رات ولا اذن سمعت ولاخطر علی قلب بشر “ یعنی الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے جو نعمتیں محیا کیں ہیں وہ ایسی ہیں کہ نہ کسی آنکھ نے ایسی نعمتیں دیکھی ہیں اور نہ کسی کان نے ان کے بارے میں سنا ہے اور نہ کسی دل میں ان کا تصورپیداہوا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہماری مثال ایک جنین کی سی ہے۔ جو اپنی ماں کے شکم میں محدود فضا میں زندگی بسر کرتا ہے فرض کروکہ اگر یہ جنین عقل و شعور بھی رکھتا ہو تو بھی باہر کی دنیا میں موجود چمکتے ہوئے سورج، دمکتے ہوئے چاند، پھولوں کے مناظر،ہواؤں کے جھوکوں اور دریا کی موجوں کی صدا جیسے مفاہیم وحقائق کو درک نہیں کرسکتا۔ بس یہ دنیا بھی اس جہان کے مقابل میں  ماں کے پیٹ کی طرح ہے۔ ہمیں اس مسئلہ پر غور کرنا چاہئے۔

4.   معاد واعمال نامہ:



back 1 2 3 next