قیامت



ہمارا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن ہمارے اعمال نامے، ہمیں سونپ دئے جائیں گے ۔نیک لوگوں کا نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں اور گناہگاروں کا نامہ اعمال ان کے بائیں ہاتھ میں دئے جا ئگا۔ نیک لوگ اپنے نامہ اعمال کو دیکھ کر خوش ہوں گے اور گناہگار افراد اپنے نامہ اعمال کو دیکھ رنجیدہ ہوں گے۔ قرآن کریم نے اس مفہوم کواس طرح بیان فرمایا ہے فاما من اوتی کتابه بییمینه فیقول اؤم اقرؤا کتابیه ۔۔  انی ظننت انی ملاق حسابیه ۔۔ فهو فی عیشة الراضیة ۔۔۔۔۔ واما من اوتی کتابه بشماله فیقول یالیتنی لم اوت کتابیه   یعنی جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ (خوشی سے )سب سے کہے گا کہ (اے اہل محشر ) ذرا میرا نامہ اعمال تو پڑھو، مجھے یقین تھا کہ میرے اعمال کا حساب مجھے ملنے والا ہے، پھر وہ پسندیدہ زندگی میںہوگا ۔۔۔۔۔ لیکن جس کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا کہ کاش یہ نامہ اعمال مجھے نہ دیا جاتا۔

اب رہی یہ بات کہ ان نامہ اعمال کی نوعیت کیا ہوگی ؟وہ کیسے لکھے جائیں گے کہ کسی کو اس سے انکار کرنے کی جراٴت نہ ہوگی ؟ یہ سب ہمارے لئے روشن نہیں ہیں۔ جیسا پہلے بھی کہا جاچکا ہے کہ معاد وقیامت میں کچھ ایسی خصوصیتیں ہیں کہ ان کے جزئیات کو اس دنیا میں سمجھنا بہت مشکل یا غیر ممکن ہے۔ لیکن کلی طور پر سب معلوم ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔

5.      قیامت میں شہود وگواہ:

ہمارا عقیدہ ہے کہ اس کے علاوہ کہ الله ہمارے تمام اعمال پر خودشاہد ہے، قیامت میں کچھ اور شاہد بھی ہمارے اعمال پر گواہی دیں گے۔ جیسے ہمارے ہاتھ پیر، ہمارے بدن کی کھال، زمین جس پر ہم زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کے علاوہ بھی بہت سے ہمارے اعمال پر گواہ ہوں گے الیوم نختم علی ٰ افواههم وتکلمنااید یهم وتشهدوا ارجلهم بماکانوا یکسبون   یعنی اس دن (روز قیامت) ہم ان کے منھ پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے باتیں کریں گے اور ان کے پیروں نے جو کام انجام دئے ہیں وہ ان کے بارے میں گواہی دیں گے۔ وقالوا لجولدهم لم شهدتم علینا قالوا انطقنا الله الذی انطق کل شی ٴ یعنی وہ لوگ اپنے بدن کی کھال سے کہیں گے کہ ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ تو ان کو جواب ملے گا کہ جوالله ہر چیز میں بولنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اس نے ہی ہم کو بولنے کی طاقت دی ہے(اور ہم کو رازوں کے فاش کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے) یومئذ تحدث اخبارها ۔۔  بان ربک اوحی ٰ لها   یعنی اس دن زمین اپنی خبریں بیان کرے گی اس لئے کہ آپ کے پروردگار نے اس پر وحی کی ہے (کہ اس ذمہ داری کو انجام دے)

6.       صراط ومیزان :

ہم قیامت میں ” صراط“ و ”میزان“ کے وجود کے قائل ہیں ۔صراط وہ پل ہے جو جہنم کے اوپر بنایاگیا ہے اور قیامت کے دن سب لوگ اس کے اوپرسے عبور کریں گے۔ ہاں جنت کا راستہ جہنم کے اوپر سے ہی ہے   وان منکم الا واردها کان علی ٰ ربک حتماً مقضیا ۔۔  ثم ننجی الذین التقوونذرواالظالمین فیها جثیاً یعنی اورتم سب (بدون استثنی) جہنم میں داخل ہوگے یہ تمھارے رب کا حتمی فیصلہ ہے اس کے بعد ہم متقی افراد کو نجات دے دیں گے اور ظالمین کو جہنم ہی میں چھوڑ دیں گے۔ اس خطرناک پل سے گذرنا انسان کے اعمال پر منحصر ہے۔ جیسا کہ حدیث میں بیان ہوا ہے    و منهم من یمر مثل البرق،  ومنهم من یمر مثل عدو الفرس ، ومنهم من یمر حبواً ،ومنهم من یمر مشیاً،  ومنهم من یمر متعلقاً ، قد تاخذ النار منه شیئا وتترک شیئاً   یعنی کچھ لوگ پل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزر جائیں گے ،کچھ تیز رفتار گھوڑے کی طرح گذریں گے، کچھ گھٹنیوں کے بل چل کر پار جائیں گے، کچھ پیدل چلنے والوں کی طرح آگے بڑھیں گے  اورکچھ لوگ اس پر لٹک کر گزریں گے، ان میں سے کچھ لو گوں کو جہنم کی آگ اپنی طرف کھینچ لے گی اور کچھ کو چھوڑ دے گی۔

” میزان“ اس کے تو نام سے ہی  اس کے معنی ظاہر ہیں ۔یہ انسانوں کے اعمال کوپرکھنے کا ایک وسیلہ ہے۔ اس دن ہمارے تمام اعمال کو تولا جائے گا اور ہر ایک کے وزن و ارزش کو آشکارکیا جائے گا۔ ونضع الموازین القسط لیوم القیامة فلا تظلم نفس شیئاً وان کان مثقال حبة من خردل آتینا بها وکفی ٰ بنا حاسبین   یعنی ہم روز قیامت انصاف کی ترازو قائم کریں گے اور کسی پر معمولی سا بھی ظلم نہیں ہوگا، یہاں تک کہ اگر رای کے دانہ کے وزن کے برابر بھی کسی کی (نیکی یا بدی) ہوئی تو ہم اس کو بھی ظاہر کریں گے اور (اس کو اس کا بدلہ دیں گے)کافی ہے کہ ہم حساب کرنے والے ہوں گے۔

فامامن ثقلت موازینه فهو فی عیشة الراضیة ۔۔  وامامن خفت موازینه فامه هاویة یعنی(اس دن) جس کے اعمال کا پلڑا بھاری ہوگا وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا اور جس کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہوگا اس کا ٹھکانہ دوزخ میں ہوگا۔

ہمارا عقیدہ یہی ہے کہ اس جہان میں نجات وکامیابی انسان کے اعمال پر منحصر ہے، نہ کہ اس کی آرزؤں وتصورات پر۔ ہرانسان اپنے اعمال کے تحت ہے اور کوئی بھی انسان تقوے اور پرہیزگاری کے بنا کسی مقام کو حاصل نہیں کرسکتا ۔   کل نفس بماکسبت رهینة    یعنی ہر نفس اپنے اعمال میں گروی ہے ۔

یہ صراط و میزان کے بارے میں مختصر سی شرح  ہے  اور ان کے جزئیات کے بارے میں ہمیں علم نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ آخرت ایک ایسا جہان ہے جو اس دنیا سے، بہت برتروبالا ہے ۔اس مادی دنیا میں قید افراد کے لئے اس جہان کے مفہوموں کوسمجھنا مشکل وناممکن ہے ۔

7.    قیامت اور شفاعت :

ہمارا عقیدہ ہے کہ قیامت کے دن انبیاء، ائمہ معصومین علیہم السلام اور اولیاء خدا ، الله کے اذن سے کچھ گناہگاروں کی شفاعت کریں گے۔  جنلوگوں کی شفا عت کی جائگی وہ الله کی معافی کے مستحق قرار پائیں گے۔ لیکن ہمیشہ  یاد رکھنا چاہئے کہ یہ شفاعت فقط ان لوگوں کے لئے ہے جنھوں نے گناہوں کی کثرت کی وجہ سے اپنے رابطہ کو الله اور اولیاء الله سے قطع نہ کیا ہو۔ لہٰذا شفاعت بے قید وبند نہیں ہے ،بلکہ یہ ہمارے اعمال ونیات سے مربوط ہے   ولایشفعون الا لمن ارتضی ٰ   یعنی وہ فقط ان کی شفاعت کریں گے جن کی شفاعت سے الله راضی ہوگا۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ کیا جاچکا ہے کہ شفاعت جہاں انسان کی تربیت کا ذریعہ ہے وہیں گناہگاروں کو گناہوں سے روکنے و اولیاء الله سے رابطہ کو قطع نہ ہونے دینے کا ایک وسیلہ بھی ہے ۔اس کے ذریعہ انسانوں کو پیغام دیا جاتاہے کہ اگر گناہوں میں ملوس ہوگئے ہو تو فوراً  توبہ کرلو اور آئندہ گناہ انجام نہ دو ۔

ہمارا یقین ہے کہ” شفاعت عظمیٰ “کا منصب رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے مخصوص ہے اور آپ کے بعد دوسرے تمام  انبیاء و ائمہ حتی علماء ، شہداء، مومنین عارف وکامل کو حق شفاعت حاصل ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ قرآن کریم و اعمال صالح بھی کچھ لوگوں کی شفاعت کریں گے ۔

امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں کہ” ما من احد من الاولین والآخرین الا وهو یحتاج الی ٰ شفاعة محمد (ص) یوم القیامة “ یعنی اولین وآخرین میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو روز قیامت حضرت محمدمصطفےٰ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا محتاج نہ ہو۔

کنز العمال میں پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث درج ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ ” الشفعاء خمسة: القرآن والرحم والامانة ونبیکم واهل بیت نبیکم “ یعنی روز قیامت پانچ شفیع ہوں گے: قرآن کریم، صلہٴ رحم، امانت، آپ کے نبی اور آپ کے نبی کے اہل بیت۔

حضرت امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں کہ ” اذا کان یوم القیامة بعث الله العالم و العابد ، فاذا وقفا بین یدی الله عزوجل قیل لعابد انطلق الی ٰ الجنة و قیل للعا لم قف تشفع للناس بحسن تا ٴ دیبک لهم“ یعنی قیامت کے دن الله عابد وعالم کو اٹھائے گا جب وہ الله کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے تو عابد سے کہا جائے گا کہ جنت میں جاؤ اور عالم سے کہا جائے گا کہ ٹھہرو ! تم نے لوگوں کی صحیح تربیت کی ہے اس وجہ سے تمہیںس یہ حق ہے کہ تم لوگوں کی شفاعت کرو۔

یہ حدیث شفاعت کے فلسفہ کے سلسلہ میں ایک لطیف اشارہ کررہی ہے ۔

 



back 1 2 3