قرآن اور دیگر آسمانی کتابیں :



اس کے علاوہ الله نے اس کی حفاظت کی خود ضمانت لی ہے۔ لہٰذا الله کی ضمانت کے بعد اس میں تحریف نہ ممکن ہے <انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون> یعنی ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے ہیں۔

تمام علماء اسلام چاہے وہ سنی ہوںیاشیعہ اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن کریم میں کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے ۔دونوں طرف کے صرف چند افراد ہی ایسے ہیں جنھوں نے قرآن کریم میں تحریف کے وجود کو روایتوں کے ذریعہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ لیکن دونوں گروہ کے جید علماء نے اس نظریہ کی تردید کی ہے اور تحریف سے متعلق روایات کو جعلی یا پھر تحریف معنوی سے منسوب مانا ہے۔تحریف معنوی یعنی قرآن کریم کی آیات کی غلط تفسیر ۔

وہ کوتاہ فکر افراد جو قرآن کریم کی تحریف کے سلسلہ میںمصر ہیں اور شیعہ یا سنی مذہب کی طرف تحریف کی نسبت دیتے ہیں ان کا نظریہ دونوں مذہبوں کے مشہور وبزرگ علماء کے نظریوں کے خلاف ہے۔یہ لوگ نادانی میں قرآن کریم پر وار کرتے ہیں اور نا روا تعصب کی بنا پر اس عظیم آسمانی کتاب کے اعتبار کو ہی زیر سوال لے آتے ہیںاور اپنے اس عمل کے ذریعہ دشمن کو تقویت پہونچاتے ہیں ۔

قرآن کریم کی جمع آوری کی تاریخ کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ سے ہی مسلمانوں نے قرآن کریم کی کتابت ،حفظ،تلاوت اور حفاظت کے فوق العادہ انتظامات کئے تھے۔خاص طور پر پہلے دن سے ہی کاتبان وحی کاوجود ہمارے لئے اس بات کو روشن کردیتا ہے کہ قرآن کریم میں تحریف ناممکن ہے ۔

ہمارا عقید ہے کہ اس مشہور قرآن کے علاوہ کسی دوسرے قرآن کا وجود نہیں ہے ۔اس کی دلیل بہت ہی روشن ہے سب کے لئے تحقیق کا دروازہ کھلا ہوا ہے ،جس کا دل چاہے آکر تحقیق کرے آج ہمارے گھروں میں ،مسجدوں میں اور ہمارے عمومی کتاب خانوں میں قرآن کریم موجود ہے۔یہاںتک کہ قرآن کریم کے کئی کئی سو سال پرانے خطی نسخے بھی ہمارے عجائب گھروں میں موجودہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ وہی قرآن ہے جو آج تمام اسلامی ممالک میں رائج ہے۔اگر ماضی میں ان مسائل پر تحقیق ممکن نہیںتھی تو آج تو سب کے لئے تحقیق کا دروازہ کھلا ہوا ہے ایک مختصر سی تحقیق کے بعد اس ناروا نسبت کا بے اساس ہونا ظاہر ہو جائے گا۔

< فبشر عبادی  الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ>  یعنی میرے بندوں کو خوش خبری دو ، ان بندوں کو جو باتوں کو سن کر ان میں سے نیک باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔آج کل ہمارے حوزات علمیہ میں علوم قرآن کی وسیع پیمانہ پر تدریس ہورہی ہے اور ان دروس میں سب سے اہم بحث عدم تحریف قرآن کریم ہے ۔

قرآن اورانسان کی مادی ومعنوی ضرورتیں:

وہ تمام چیزیں جن کی انسان کو اپنی مادی ومعنوی زندگی میں ضرورت ہے ان کے اصول قرآن کریم میںبیان کردئیے گئے ہیں چاہے وہ حکومت چلانے کے قوانین ہوں یا سیاسی مسائل ،دوسری اقوام سے رابطہ کے معاملات ہوں یا باہم زندگی بسر کرنے کے اصول، جنگ و صلح کے مسائل ہوں یا قضاوت اقتصاد کے اصول یا ان کے علاوہ اور کوئی معاملات تمام کے قواعد کلی کو اس طرح بیان کردیا گیا ہے کہ ان پر عمل پیرا ہونے سے ہماری زندگی کی فضا روشن ہو جاتی ہے <ونزلنا علیک الکتاب تبیاناً لکل شیٴ وہدیً ورحمةً وبشریٰ للمسلمین> یعنی ہم نے اس کتاب کو آپ پر نازل کیا جو تمام چیزوں کو بیان کرنے والی ہے اور مسلمانوں کے لئے رحمت، ہدایت اور بشارت ہے ۔

اسی بنا پر ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ” اسلام “ ”حکومت وسیاست“سے ہرگز جدا نہیں ہے۔بلکہ مسلمانوں کو فرمان دیتا ہے کہ زمام حکومت کو اپنے ہاتھوں میں سنبھالو اور اس کی مدد سے اسلام کی ارزشوں زندہ کرو اور اسلامی سماج کی اس طرح تربیت کرو کہ عام لوگ قسط و عدل کی راہ پر گامزن ہوجائےں، یہاں تک کہ دوست و دشمن دونوں کے ساتھ عدالت سے کام لیں<یاایہاالذین آمنوا کونوا قوامین بالقسط شہداء لله ولو علیٰ انفسکم اوالوالدین والاقربین > یعنی اے ایمان لانے والو عد ل وانصاف کے ساتھ قیام کرو اور الله کے لئے گواہی دو چاہے وہ گواہی خود تمھارے یا تمھارے والدین کے یا تمھارے اقرباء کے ہی خلاف کیوں نہ ہو<ولا یجر منکم شنئان قوم علیٰ ان لا تعدلوا اعدلوا ہو اقرب للتقویٰ>  خبردار کسی گروہ کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف کو ترک کردو ،انصاف کرو کہ یہی تقویٰ سے قریب تر ہے۔

قران کریم کی تلاوت ،تدبر اورعمل:

قرآن کریم کی تلاوت افضل ترین عبادتوں میں سے ایک ہے اور بہت کم عبادتیں ایسی ہیں جو اس کے پایہ کو پہونچتی ہیں ۔کیونکہ یہ الہام بخش تلاوت قرآن کریم میں غوروفکر کا سبب بنتی ہے اور غوروفکر نیک اعمال کا سرچشمہ ہے ۔

قرآن کریم پیغمبر اسلام کو مخاطب قراردیتے ہوئے فرماتا ہے کہ <قم اللیل الا قلیلاً  نصفہ او انقص منہ قلیلاً  او زد علیہ ورتلل القرآن ترتیلاً>  یعنی رات کو اٹھومگرذرا کم،آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم یا کچھ زیادہ کردو اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر غور کے ساتھ پڑھو۔



back 1 2 3 4 next