قرآن اور دیگر آسمانی کتابیں :



اور قرآن کریم تمام مسلمانوںکو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ <فاقرؤا ما تیسر من القرآن > یعنی جس قدر ممکن ہو قرآن پڑھا کرو۔

لیکن اسی طرح جس طرح اوپر کہا گیا ہے کہ قرآن کی تلاوت اس کے معنی میں غوروفکر کا سبب بنے اور یہ غوروفکر قرآن کریم کے احکام پر عمل پیرا ہونے کا سبب بنے <افلا یتدبرون القرآن ام علیٰ قلوب اقفالہا > کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں <ولقد یسرناالقرآن للذکر فہل من مدکر>  یعنی اور ہم نے قرآن کو نصیحت کے لئے آسان کردیا تو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے <ہٰذا کتاب انزلنا ہ مبارک فاتبعوہ> یعنی ہم نے جو یہ کتاب نازل کی ہے بڑی برکت والی ہے لہٰذااس کی پیروی کرو ۔لہذا جو لوگ صرف تلاوت وحفظ پر ہی قناعت کرتے ہیں اور قرآن پر ”تدبر “ و”عمل“ نہیں کرتے اگرچہ وہ تین رکنوں میں سے ایک رکن کو تو انجام دیتے ہیں لیکن دو اہم رکنوں کو چھوڑدیتے ہیں جس کے سبب انھیں بہت بڑا نقصان برداشت کرنا پڑتاہے۔

انحرافی بحثیں :

ہمارا ماننا ہے کہ مسلمانوں کو قرآن کریم کی آیتوں پر عمل اور تدبر سے روکنے کے لئے ہمیشہ ہی سازشیں ہوتی رہی ہیں ان سازشوں کے تحت ہی بنی امیہ وبنی عباس کے دور حکومت میں  الله کے کلام کے قدیم یاحادث ہونے کی بحثوں کو ہوا دے کر مسلمانوں کو دو گروہ میں تقسیم کیا گیا جس کے سبب بہت سی خونریزیاں ہوئیں۔جب کہ آج ہم سب جانتے ہیںکہ ان بحثوں میں نزع اصلاً مناسب نہیں ہے کیونکہ اگر الله کے کلام سے حروف ،نقوش، کتابت وکاغذ مراد ہے تو بیشک یہ سب چیزیں حادث ہیں اور اگر اس سے علم پروردگار مراد ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی ذات کی طرح یہ بھی قدیم ہے۔ لیکن ستم گر حکام اور ظالم خلفاء نے مسلمانوں کو برسوں تک اس مسئلہ میں الجھائے رکھا اور آج بھی مسلمانوں کو قرآنی آیات پر تدبر وعمل سے روکنے کے لئے ایسی ہی سازشیں ہورہی ہیں اورحصول مقصد کے لئے مختلف طریقے اپنائے جارہے ہیں۔

قرآن کریم کی تفسیر کے ضوابط:

ہمارا مانناہے کہ جب تک آیت میں مجازی معنی کے لئے کوئی عقلی یا نقلی قرینہ موجود نہ ہوتو قرآن کریم کے الفاظ کو ان کے لغوی اور عرفی معنی میں ہی استعمال کرنا چاہئے(لیکن مشکوک قرینوں کا سہارا لینے سے بچنا چاہئے اور قرآن کریم کی آیات کی تفسیر حدس یا گمام کی بنا پر نہیں کرنی چاہئے۔

جیسے قرآن کریم فرماتا ہے کہ <ومن کان فی ہذہ اعمیٰ فہو فی الآخرة اعمیٰ> یعنی جو اس دنیا میں نابینا رہا وہ آخرت میں بھی نابینا ہی رہے گا۔ ہمیں یقین ہے کہ یہاں پر”اعمیٰ“ کے لغوی معنی نابینا مراد نہیں ہوسکتے اس لئے کہ بہت سے نیک لوگ ظاہراً نابیناتھے بلکہ یہاں پر باطنی کور دلی ونابینائی ہی مراد ہے۔یہاں پر عقلی قرینہ کا وجود اس تفسیر کا سبب ہے ۔

اسی طرح قرآن کریم اسلام دشمن ایک گروہ کے بارے میں فرمارہا ہے<صم بکم عمی فہم لا یعقلون> یعنی وہ بہرے ،گونگے اور اندھے ہیں ،اس وجہ سے کوئی بات نہیں سمجھ پاتے ۔یہ بات روز روشن کی طرح آشکار ہے کہ وہ ظاہری طورپر اندھے ،بہرے اورگونگے نہیں تھے۔ بلکہ یہ ان کے باطنی صفات تھے (ہم یہ تفسیر قرینہ حالیہ کے موجود ہونے کی وجہ سے کرتے ہیں)

اسی بنا پر قرآن کریم کی وہ آیتیں جو الله تعالیٰ کے بارے میں فرماتی ہیں کہ <بل یداہ مبسوطتان> یعنی الله کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں ۔یا <واصنع الفلک باعیننا>  یعنی اے نوح ہمارے آنکھوں کے سامنے کشتی بناؤ۔ان آیات کا مفہوم یہ ہرگز نہیں ہے کہ الله کے آنکھ،کان اور ہاتھ پائے جاتے ہیں اور وہ مجسم ہے ۔کیونکہ ہر جسم میں اجزاء پائے جاتے ہیں اور اس کو زمان،مکان وجہت کی ضرورت ہوتی ہے اور آخرکار وہ فناہوجاتاہے، الله اس سے برترو بالا ہے کہ اس میں یہ صفات پائے جائیں۔لہٰذا ”یداہ “یعنی ہاتھوں سے مراد الله کی وہ قدرت کاملہ ہے جو پورے جہان میں نافذ ہے اور ”اعین“ یعنی آنکھوں سے مراد اس کا علم ہے ہرچیز کی نسبت۔اس بنا پر ہم اوپربیان کی گئتعبیرات کو چاہے وہ الله کے صفات کے بارے میں ہو یا غیر صفات کے بارے میں عقلی یا نقلی قرینوں کے بغیر قبول نہیں کرتے ۔کیونکہ تمام دنیا کے سخنوروں کی روش انھیں دو قرینوں پر منحصر رہی ہے اور قرآن کریم نے بھی اس روش کو قبول کیا ہے <وماارسلنا من رسول الا بلسان قومہ>یعنی ہم نے جن قوموں میں رسولوں کو بھیجا انھیں قوموں کی زبان عطا کرکے بھیجا۔لیکن یہ بات یادر ہے کہ یہ قرینے روشن ویقنی ہونے چاہئے جیسا کہ اوپر بھی بیان کیا جاچکا ہے ۔

تفسیر بالرای کے خطرات:

ہمارا عقیدہ ہے کہ قرآن کریم کے لئے سب سے خطرناک کام اپنی رائے کے مطابق تفسیر کرناہے ۔اسلامی روایات میں جہاں اس کام کو گناہ کبیرہ سے تعبیرکیاگیا ہے وہیں یہ کام الله کی بارگاہ سے دوری کا سبب بھی بنتا ہے۔ایک حدیث میں بیان ہوا ہے کہ الله نے فرمایا”ما آمن بی من فسر برائیہ کلامی“ یعنی جو میرے کلام کی تفسیر اپنی رائے کے مطابق کرتا ہے وہ مجھ پر ایمان نہیں لایا ہے۔ظاہر ہے کہ اگر ایمان پختہ ہو تو انسان کلام خدا کو اسی حالت میں قبول کرے گا جس حالت میں ہے نہ یہ کہ اسے اپنی رائے کے مطابق ڈھالے گا۔

صحیح بخاری ،ترمذی،نسائی اور سنن داؤد جیسی مشہور کتابوں میں بھی پیغمبر اسلام صلی الله علیہ والہ وسلم کی یہ حدیث موجود ہے کہ”من قال فی القرآن برائیہ اوبما لایعلم فلیتبوء مقعدہ من النار“ یعنی جو قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرے یا علم نہ ہوتے بھی قرآن کے بارے میںکچھ کہے تووہ جہنم میں اپنے ٹھکانے کے لئے تیار رہے ۔

تفسیر بالرای یعنی اپنے شخصی یا گروہی عقیدہ یانظریہ کے مطابق قرآن کریم کے معنی کرنا اور اس عقیدہ کو قرآن کریم سے تطابق دینا جب کہ اس کے لئے کوئی قرینہ یا شاہد موجود نہ ہو ۔ایسے افراد درواقع قرآن کریم کے تابع نہیں ہیں بلکہ وہ قرآن کریم کو اپنا تابع بنانا  چاہتے ہیں ۔ اگر قرآن کریم پر مکمل طور پرایمان ہو تو ہر گز ایسانہ کریں ۔اگر قرآن کریم میں تفسیربالرای کا باب کھل جائے تو یقین ہے کہ قرآن کریم کا اعتبار کلی طورپر ختم ہوجائے گا ، جس کا بھی دل چاہے گا وہ اپنی پسند سے قرآن کریم کے معنی کرے گااور اپنے باطل عقیدوں کو قرآن کریم سے تطبیق دے گا۔ اس بنا پر تفسیر بالرای یعنی علم لغت ،ادبیات عرب واہل زبان کے فہم کے خلاف قرآن کریم کی تفسیر کرنا اور اپنے باطل خیالات و گروہی یا شخصی خواہشات کو قرآن سے تطابق دینا ،قرآن کریم کی معنوی تحریف کا سبب ہے ۔



back 1 2 3 4 next