امام علیہ السلام کے لشکر کے سرداروں کی شعلہ ور تقریریں



 فوج کے بزرگوں اور سرداروں کی تقریریں بہت بڑی تبلیغ کا کام کرتی ھیں بسا اوقات، ایک فوج کی تقریر دشمن کو نابود اور خود اپنے لئے کامیابی کے مقدمات فراھم کر دیتی ھے، اسی وجہ سے ، جمعرات ۹ صفر اجتماعی حملے کے دوسرے دن امام علیہ السلام کی فوج کی بزرگ شخصیتوں نے تقر یریں کیں ، امام کے علاوہ عبد اللہ بن بدیل[1] سعید بن قیس [2] (ناصرین کے علاقہ میں) اور مالک اشتر جیسی بزرگ  شخصیتوں[3] نے تقریر کی اور ہر شخص نے ایک خاص طریقے سے امام علیہ السلام کی فوج کو شامی دشمن کی فوج پر حملہ کرنے کی تشویق دلائی، اسی درمیان بہت سے واقعات رونما ھوئے جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کر رھے ھیں۔

۱۔ کون ھے جو اس قرآن کو اپنے ہاته میں لے؟

علی علیہ السلام قبل اس کے کہ جنگ کا آغاز کرتے اتمام حجت کے لئے اپنے سپاھیوں کی طرف متوجہ ھوئے اور کہا: کون ھے جو اس قرآن کو اپنے ہاتھوں میں لے اور ان شامیوں کو اس کی طرف دعوت دے؟ سعید نامی نوجوان اٹھا اور اس نے ذمہ داری لی امام علیہ السلام نے دوسری مرتبہ پھر اپنی بات دہرائی اور پھر و ھی نوجوان اپنی جگہ سے اٹھا اور کہا اے امیرالمومنین (ع)میں حاضر ھوں، اس وقت علی علیہ السلام نے قرآن اس کے حوالے کیا وہ معاویہ کی فوج کی طرف روانہ ھوا ان لوگوں کو خدا کی کتاب اور اس پر عمل کرنے کی دعوت دی، تھوڑی دیر بھی نہ گذری تھی کہ دشمن کے ہاتھوں شھید ھوگیا[4]

۲۔ دوحُجر کی جنگ:

حُجر بن عدی کندی ان شخصیتوں میں سے ھیں جو پیغمبر کی خدمت میں شرفیاب ھوئے اور ان کے ذریعے مسلمان ھوئے اس کے بعد علی علیہ السلام کے مخلصوں اور ان دفاع کرنے والوں کی صف میں تھے بالآخر اسی راہ میں اپنی جان دے دی معاویہ کے ظالم جلادوں کے ہاتھوں امام علیہ السلام کے کچھ مخلصوں کے ھمراہ ”مرج عذراء“ (جو شام سے ۲۰ کلومیڑ دوری پر واقعہ ھے) میں قتل ھوگئے اور تاریخ نے انھیں ”حُجر الخیر“ کے نام سے یاد کیا جبکہ ان کے چچا حُجر بن یزید کو تاریخ نے ”حُجر الشّر“ کے نام سے یاد کیا ۔

اتفاق سے اس دن یہ دونوں حُجر جو کہ آپس میں قریبی عزیز بھی تھے میدان جنگ میں روبرو

ھوئے، مبارزہ کی دعوت حُجر الشّر کی طرف سے شروع ھوئی اوراس وقت جبکہ یہ دونوں اپنے اپنے نیزوں سے جنگ کرنے میں مصروف تھے معاویہ کی فوج سے ایک شخص خزیمہ، حُجر بن یزید کی مدد کےلئے دوڑا اور    حُجر بن عدی پر نیزہ مارا اس موقع پر حُجر کے کچھ ساتھیوں نے خزیمہ پر حملہ کیا اور اسے قتل کر دیا لیکن حجر بن یزید میدان چھوڑ کربھاگ گیا۔[5]

۳۔ فوج شام کے میسرہ پر عبداللہ بن بدیل کا حملہ

عبد اللہ بن بدیل خزاعی امام علیہ السلام کے لشکر کے بلند پایہ افسر تھے وہ پیغمبر اسلام(ص) کا   جلیل القدر صحابی اور نفس کی پاکیزگی اور بہادری اور زبردست  جنگ کرنے والوں میں مالک اشتر کے بعد مشھور تھے۔

میمنہ کی فوج کی ذمہ داری انھی کے ہاتھ میں تھی اور میسرہ کی سرداری عبد اللہ بن عباس کے ذمہ تھی، عراق کے قاری عمار یاسر، قیس بن سعد او رعبداللہ بن بدیل کے بارے میں ھوے [6]



1 2 3 4 5 next