ایمان نہ رکھنے والی اقوام کیوں عیش و عشرت میں ھیں؟



ایمان نہ رکھنے والی اقوام کیوں عیش و عشرت میں ھیں؟

جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ھوتا ھے:

< وَلَوْ اٴَنَّ اٴَہْلَ الْقُرَی آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِنْ السَّمَاءِ وَالْاٴَرْضِ۔۔۔>[1]

 ”اگر اھل قریہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کر لےتے تو ھم ان کے لئے زمین وآسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے“۔

اس آیت کے پیش نظر یہ سوال پیدا ھوتا ھے کہ اگر ایمان اور تقویٰ ،رحمت الٰھی اور برکات کا موجب ھے تو پھر ان قوموں کے پاس بہت زیادہ نعمتیں کیوں پائی جاتی ھیں جن کے پاس ایمان نھیں ھے! ان کی زندگی بہترین ھوتی ھے،اور ان کو پریشانی نھیں ھوتی، ایسا کیوں ھے؟

اس سوال کا جواب درج ذیل دو نکات پر توجہ کرنے سے روشن ھوجائے گا:

۱۔یہ تصور کرنا کہ بے ایمان قوم و ملت نعمتوں سے مالا مال ھے؛ ایک غلط فھمی ھے، جو ایک دوسری غلط فھمی کا نتیجہ ھے اور وہ مال و دولت ھی کو خوش بختی سمجھ لیناھے۔

عام طور پر عوام الناس میں یھی تصور پایا جاتا ھے کہ جس قوم و ملت کے پاس ترقی یافتہ ٹیکنیک ھے یا بہت زیادہ مال و دولت ھے وھی خوش بخت ھے، حالانکہ اگر ان اقوام میں جاکر نزدیک سے دیکھیں تو ان کے یھاں نفسیاتی اور جسمانی بے پناہ درد اور مشکلات پائی جا تی ھیں اور اگر نزدیک سے دیکھیں تو ھمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ان میں سے متعدد لوگ دنیا کے سب سے ناچار افراد ھیں، قطع نظر اس بات سے کہ یھی نسبی ترقی ان کی سعی و کوشش، نظم و نسق اور ذمہ داری کے ا حساس جیسے اصول پر عمل کا نتیجہ ھیں، جو انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات میں بیان ھوئے ھیں۔

ابھی چند دنوں کی بات ھے کہ اخباروں میں یہ بات شایع ھوئی کہ امریکہ کے شھر ”نیویورک“ میں (جو مادی لحاظ سے دنیا کا سب سے مالدار اور ترقی یافتہ شھر ھے)اچانک (طولانی مدت کے لئے) بجلی چلی گئی اور ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا:” بہت سے لوگوں نے دکانوں پر حملہ کردیا اور دکانوں کو لوٹ لےا، اس موقع پر پولیس نے تین ہزار لوگوں کو گرفتار کرلیا“۔

یہ بات طے ھے کہ لٹیروں کی تعدادان گرفتار ھونے والوں سے کئی گنا زیادہ ھوگی جو موقع سے فرار نہ کرسکے اور پولیس کے ھاتھوں گرفتار ھوگئے، اور یہ بھی مسلم ھے کہ یہ لٹیرے کوئی تجربہ کار نھیں تھے جس سے انھوں نے ایک پروگرام کے تحت ایسا کیا ھو کیونکہ یہ واقعہ اچانک پیش آیا تھا۔



1 2 next