سورہٴ نورین اورسورہٴ ولایت کیا ہے؟



سورہٴ نورین اورسورہٴ ولایت کیا ہے؟

یہ دوسورہ ہیں کہ اس کے جاعلین نے سست وغلط عبارت سے امام علی کے مناقب و وصایت سے جعل کیا ہے یہ دو سورہ کیارہویں صدی کے پہلے کوئی منبع اور مدرک کے ساھت نہیں تھی اورکوئی نام ومتن کا اثر نہیں تھا جو افراد نے اس کو نقل یا انتقاد کیا ہے نے بھی کوئی منبع(معتبر وغیر معتبر ) اس صدی کے پہلے نہیں ارائہ کیا ہے مدارک اور شواہد کے بنا پر یہ دو سورہ ہندوستان میں نا معلوم افراد کے ہاتھ جعل ہوئی ہے اور اس کے بعد اسلام اور قرآن کے دشمنوں کے ذریعہ نشر ہوئی ہے ۔

علامہ عسکری کہتے ہیں :شیعوں کے مخالفین مثلا احسان الٰہی ظہیر جیسے لوگوں نے شیعوں کی طرف تحریف قرآن کی نسبت دینے میں تذکرة الائمہ اور دبستان المذاہب جیسی کتابوں پر اعتماد کیا ہے جب یہ کتابیں کوئی علمی قدر وقیمت نہیں رکھتیں۔کیونکہ:

اولاً:   دبستان المذاہب کے موٴلف کا نام ہی نہیں تحریرہے لہٰذا علماء نے اس کے موٴلف کے سلسلہ میں اختلاف کیا ہے بعض لوگوں نے اس کو میر ذوالفقار علی حسین اردستانی سے نسبت دی ہے اور بعض لوگوں نے شیخ کشمیری جواہل سنت کے متعصب عالم تھے منسوب کیا ہے اور بعض لوگوں نے کیخسرو بن اسفندیار سے نسبت دی ہے جو ہندوستان میں مجوسیوں کا بڑا عالم تھا۔

بعض لوگ کہتے ہیں اس کتاب کے موٴلف نے اس وجہ سے اس کتاب کولکھا تاکہ دین زر دشت کی تبلیغ کر کے دوسرے ادیان کو سست اور کمرنگ کردے۔

ثانیاً:   تذکرة الائمہ کتاب کو محمد باقر مجلسی سے نسبت دیا ہے لیکن یہ کتاب ان کی نہیں ہے بلکہ کسی دوسرے شخص بنام ” محمد باقر بن محمد تقی “کی ہے جیسا کہ بعض مورخین سوانح نگاراس بات کی طرف متوجہ تھے اور انھوں نے مرحوم مجلسی کو اس اتہام سے مبرا سمجھا ہے مثال کے طور پر مرزاعبد اللہ آفندی مرحوم مجلسی کے شاگرد نے ریاض العلماء میں، سید اعجاز حسین نے اپنی کتاب کشف الحجب والاستار عن الکتب والاسفار میں، سید خوانساری نے اپنی کتاب روضات الجنات فی احوال العلماء والسادات میں،شیخ عباس قمی نے اپنی کتاب الفوائد الرضویہ میں ،اور شیخ آقا بزرگ تہرانی نے اپنی کتاب” الذریعہ“ میں۔

ثالثاً:   مکتب اہل بیت میں ایسی روایات کی کوئی قدروقیمت نہیں ہے جو صحیح سند کے ذریعے پیغمبر یا ائمہ معصومین تک نہ پہنچتی ہوںاور ان جعلی سوروں کے لئے تو کوئی سند ہی ذکر نہیں ہوئی ہے ۔(۲۸)

رضا زادہ ملک ،کتاب دبستان مذاہب کے توانا محقق ،نے جو متن کتاب سے اندازہ لگایا ہے وہ یہ ہے کہ اس کتاب کا موٴلف ۱۰۲۵  ء میں پیدا ہوا اور ۱۰۶۹  ء تک زندہ تھا اس محقق نے کتاب دبستان مذاہب کا ارتباط شیخ کشمیری سے غیر واقعی جانا ہے۔(۲۹)

پھر دلیلوں اور شواہد کی تحقیق سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ سارے شواہد وقرائن اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ اس کتاب کا موٴلف صد در صد آذرکیوان اور دین دساتریری کا ایک پکا پیرو ہے اوروہ بھی اس مذہب کے معتقد افراد کا مورد احترام شخص ہے اور یہ شخص موّبد کیخسرواسفندیار یعنی آذرکیوان کے لڑکے کے علاوہ اورکوئی نہیں ہے ۔(۳۰)

اس نے بحث میں کتاب دبستان مذاہب کے لکھنے کی دلیل میں لکھا ہے ”دبستان مذاہب کا موٴلف خود جعلی دین کا رہبر تھا اور اس کی اساسی غرض ۔اگرچہ اس اس کا اظہار نہیں کیا ہے ۔دوسرے ادیان کے پیروکاروں کا اعتقاد سست کرنا اور ان سب کو اپنے دین میں لانا تھا اسی لئے اس نے سست اورغیر معتبر مغرضانہ اسناد کو غیر مہذب لوگوں سے نقل کیا ہے ۔

برطانوی سامراج نے بھی دبستان مذاہب کے موٴلف کی غرض کو اجرا کرنے کے لئے اس دیاکیونکہ کتاب دبستان مذاہب پہلی بار انگریزوں کے ذریعہ پرچار ہوئی جیسا کہ اس کتاب کے پہلے فارسی اڈیشن میں ”ویلیام بیلی“ہندوستان میں انگریز سفیر کے ذریعہ اس کتاب کی رونمائی ہوئی اس وقت جبکہ اس خطہ میں ان کی ایسٹ انڈیا کمپنی تھی (۳۱)ان لوگوں نے ان مجلوں میں جو ا یشیا اور جہان اسلام پرچھائے ہوئے تھے ان سوروں کو شیعی سوروںکے عنوان سے منتشر کیا یہ سب استعمار گروںکی غرض اور” لڑاؤ اور حکومت کرو “ کی پالیسی  کار فرما تھی۔



1 2 3 next