سنت صحابہ کی حقیقت



 

 کیو ں شیعہ لو گ سنت صحابہ کو مصدر و منبع شریف کے عنوان سے حجت نہیں مانتے اور اس کو منبع تشریع نہ ما ننے کی ان کے پاس کیا دلیل ہے ؟

جواب:

سنت صحابہ کے سلسلے میں علماء کے اقوال :

اہل سنت کے بزرگ علماء،سنت صحابہ کے اخذ کرنے میں اتفاق نظر نہیں رکھتے،

 (۱)ابن قیم جوزیہ کا کہنا ہے :ابو حنیفہ ،آثار صحابہ کو قیاس اور رائے پر مقدم کرتے تھے،،(۱)

(۲)شاطبی کہتے ہیں :امام مالک ،قول صحابی کو سنت سے ملحق کرتے تھے ،بلکہ نقل ہوا ہے کہ ،امام مالک ،خبر واحد کو صحابہ میں سے ایک صحابی کے قول کی مخالف سے رد کر دیا کرتے تھے،،(۲)

(۳)امام شافعی نے قول صحابی کو نص اور اجماع کے بعدکی منزل دی ہے اور اسے قیاس پر مقدم کیا ہے ۔(۳)

(۴)احمد ابن حنبل نے صحابی کے فتوے کو نص کے بعد قرار دیا ہے اور منابع تشریع میں صحابی کے فتوے کو دوسری اصل قرار دیا ہے ،ابن قیم کہتے ہیں : احمد ابن حنبل کے فتوے دو اصل پر استوار تھے،الف،نصوص ،ب،فتاوائے صحابہ پر بشرطیکہ کوئی مخالف اس کا موجود نہ ہو ۔(۴)

(۵)ابن تیمیہ کہتے ہیں :احمد ابن حنبل اور بہت سے علمائے اہل سنت نے حضرت علی علیه السلام کی اسی طرح پیروی کی ہے جس طرح انھوںنے سنت عمر وعثمان کی متابعت کی ہے ،لیکن ودسرے بعض علماء جیسے کہ مام مالک نے سنت علی علیه السلام کی پیروی نہیں کی ہے اور اس میں اتفاق ہے کہ:سنت عمر وعثمان حجت ہے،،(۵)

حجت سے کیا مراد ہے :

سنت صحابہ کی حجیت کے سلسلے میں دو احتمال ہیں :



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 next