شریف حسین کی حکومت



  

۶ محرم الحرام ۱۳۵۳ھ مطابق ۳ دسمبر  ۱۹۱۸ء بروز پنجشنبہ مکہ میں شریف حسین کی عرب کے بادشاہ کے عنوان سے بیعت کی جانے لگی، اور اس کے تین دن بعدانھوں نے اپنے تینوں بیٹوں کو درج ذیل  عہدوں  پر معین کیا:

امیر علی ، رئیس الوزراء ۔

امیر فیصل ، وزیر داخلہ ۔

امیر عبد اللہ ، وزیر خارجہ ۔[1]

شریف حسین نے اپنی مرضی کے مطابق چند سال تک حکومت کی لیکن درج ذیل دلیلوں کی وجہ سے اس کی حکومت کی بنیاد متزلزل هوگئی:

۱۔  انگلینڈ اور فرانس کی حکومتوں نے شریف حسین کی بادشاھت کو تسلیم نہ کیا بلکہ ایک مدت کے بعد اس کی حکومت کو فقط حجاز پر قابل قبول سمجھا۔

۲۔  اس کے مد مقابل دشمن بھت قوی تھا مثلاً ابن سعود جو اپنی تمام تر طاقت حجاز کی حکومت  چھیننے میں صرف کررھا تھا ، جبکہ شریف اس کو کوئی اھمیت نھیں دے رھا تھا۔

۳۔  ایک عربی حکومت بنانے کے سلسلے میں اس نے عرب کے شیوخ اور امراء سے کسی طرح کی کوئی گفتگو نھیں کی تھی اور خود ھی سب کچھ انجام دیدیا، اور ظاھر ھے اس صورت میں ان میں سے کوئی بھی اس کی اطاعت نھیں کرتا تھا۔

 شریف حسین نے وزیروں کو معین کرنے میں جلد بازی سے کام لیا، جیسا کہ پھلے بھی انقلاب کے شروع میں جلدی بازی سے کام لیا تھا اور اس کے تمام مقدمات مکمل هونے سے پھلے کام شروع کردیا اور عثمانی فوج کے ساتھ جنگ شروع کردی۔ [2]

شریف حسین اور مسئلہ خلافت

شریف حسین نے ۱۳۴۲ھ تک تقریباً اپنی مرضی کے مطابق حکومت کی اور اس مدت میں اس کے دو بیٹوں نے بھی حکومت کی ، جن میں سے ایک ملک فیصل جس کو عراق کی حکومت ملی اور امیر عبد اللہ جس کو مشرقی اردن کی حکومت پر مقرر کیا گیا ۔ [3]



1 2 next