عثمانی بادشاهوں کی داستان خلافت



 

 عصر حاضر کے بعض موٴلفین نے یورپی موٴلفین سے نقل کرتے هوئے لکھا ھے کہ جب عثمانی سلطان سلیم کے ھاتھوں مصر فتح هوا تو  ۹۲۲ء میں مصر کے عباسی خلیفہ نے خلافت کو محمد المتوکل علی اللہ کے سپرد کردیا او رخلافت کی باگ ڈور اس کے حوالے کردی۔

لیکن اس زمانہ کی لکھی گئی تاریخ مصر وشام اور ان لوگوں کی کتابوں سے جو ان واقعات کے شاہد تھے مذکورہ بات کی تصدیق نھیں هوتی، مثلاً ابن ایاس مصر میں اور ابن طولون شام میںتھے اور ھر روز اپنی آنکھوں دیکھے واقعات یا مورد اعتماد لوگوں سے سنے واقعات کولکھتے رھتے تھے،چنانچہ ان لوگوں نے ان باتوںکو نھیں بیان کیا، اور عباسی خلیفہ سے سلطان سلیم پر حکومت کو منتقل هونے کے بارے میں نھیں لکھا ھے، بلکہ ابن ایاس کی تحریر سے یہ بات معلوم هوتی ھے کہ سلطان سلیم قبل اس کے کہ مصر کو فتح کرے اپنے کو خلیفہ تصور کرتا تھا ( لیکن اس کے القاب میں خلافت کا ذکر نھیں هوتا تھا اور خطبوں میں اس کا نام خلیفہ کے عنوان سے نھیں لیاجاتا تھا)۔

سلطان سلیم نے ، امیر طومان بائی مصر کے حاکم کے نام ایک خط میں اس طرح لکھا :

”مصر کا خراج (مالیات اور ٹیکس) جس طرح بغداد کے خلفاء کے پاس بھیجا جاتا تھا وہ میرے پاس بھیجا جائے کیونکہ میںروئے زمین پر خدا کا خلیفہ هوں، اور میں حرمین شریفین کی خدمت کرنے میں تجھ سے بھتر هوں۔ [1]

حقیقت یہ ھے کہ اس زمانہ میں خلافت کو کھیل بنا رکھا تھا وہ اس طرح کہ سلطان سلیم اپنے کو مصر کے خلیفہ عباسی کا جانشین هونے میں کوئی فخر اور عظمت نھیں سمجھ رھا تھا، اسی طرح بغداد میں خلافت عباسی کے ختم هوجانے کے چند سال بعد ایک شخص نے یہ دعویٰ کیا :

 میں خلفائے عباسی کی اولاد میں هوں، اس وقت کے مصر پر حکومت کرنے والے بادشاهوں کا لوگوں میں کوئی معنوی اثر نہ تھا تو انھوں نے اس شخص کو پاکر یہ طے کیا کہ مصر میں خلافت عباسی تشکیل دی جائے چنانچہ اس شخص کو خلیفہ عباسی کے عنوان سے خلیفہ بنادیاگیا۔جس کے نتیجہ میں ایک طرح کی خلافت عباسی مصر میں وجود میں آگئی جو کئی صدی تک جاری رھی، جبکہ یہ خلافت اس وقت کے بادشاهوں کے کھیل کے علاوہ کچھ نھیں تھا۔

 اور جس وقت سلطان سلیم نے۹۲۲ء میں مصر اور شام پر حملہ کیا تو خلیفہ محمد المتوکل علی اللہ سلطان سلیم کے سامنے تسلیم هوگیا اورسلطان سلیم نے اس کومع ساتھیوں کے اسلامبول روانہ کردیا، چنانچہ وہ چند سال تک وھاں رھا شروع میں تواس پر سلطان کا لطف وکرم هوتا رھا، لیکن بعد میں اس سے دستبردار هوگیا۔

 سلطان نے اس سے خلافت چاھی هو ، یہ بات معتبر مدارک اور کتابوں میں نھیں ملتی (البتہ جھاں تک موٴلف کی نظر ھے)۔

اگرچہ عصرحاضر کے بعض موٴلفین کی کتابوں میں یہ بات دیکھنے کو ملتی ھے ، منجملہ محمد کردعلی کی کتاب خطط الشام میں” نامق کمال“ کے حوالہ سے نقل کیا گیا ھے کہ خلیفہ عباسی نے جامع ”ایاصوفیہ“ (اسلامبول) میں سب کے سامنے واضح طور پر خلافت کو اپنے سے آل عثمان پر منتقل کردی ھے۔[2]

یہ بات مسلم ھے کہ سلطان سلیم کواس کی آخری عمر تک (  ۹۲۶ھ) خلیفہ کا عنوان نھیں دیا جاتا تھا اور نہ ھی اس کا نام خطبوں میں خلیفہ کے عنوان سے ذکر هوتا تھا، بلکہ محمد المتوکل علی اللہ خلیفہ تھا۔



1 2 3 4 next