حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کی مدح و ثنا علماء کرام کی زبان پر



 

شاید حدیث ”لو اٴحبّنی جبل لتہافَت“کے ذریعہ بہترین نکتہ پر توجہ اور اس شفاف نکتہ پر باریک بینی سے توجہ محمد بن یعقوب کلینی (رحمة اللہ علیہ) کی خاص تعریف و توصیف کے سبب کو واضح کرتی ہے، کیونکہ موصوف نے امیر المومنین علیہ السلام کے خطبہ توحیدی کہ جسے امام علیہ السلام نے معاویہ کے مقابلہ جنگ میں اُس جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جس میں لشکر دوبارہ آمادہ ٴجنگ ہورہا تھا”... بذلک اٴصِفُ ربی فلا إلہ إلاّ اللہ...“؛[1] کو نقل کرنے کے بعد فرمایا:

یہ خطبہ امام علی علیہ السلام کے مشہور خطبوںمیں سے ہے اور علم توحید حاصل کرنے والے کے لئے کافی ہے۔۔۔ اگر جن و انس آپس میں مل جائیں لیکن ان کے درمیان نبی نہ ہو اور وہ حضرت علی علیہ السلام کہ جن پر ہمارے ماں باپ قربان ہوں، کی طرح توحید کے مسئلہ کو بیان کریں توہرگز اِس بات پر قادر نہ ہوں گے“۔ [2]

 مرحوم کلینی (علیہ الرحمہ) کے یہ الفاظ ان تمام لطافت اور عمق کے باوجود صدر المتالہین (علیہ الرحمہ) کے نزدیک مقبول واقع نہ ہوئے ،انہوں نے اس کے مخفی نقص اور خامی کو واضح کیا اور علی الاعلان اُس کی تکمیل و تتمیم کے لئے قدم بڑھایا اور اِس کی اصلاح یوں کی:

۔۔۔اگر جن و انس کی زبانیں جمع ہوجائیں لیکن اُن کے درمیان انبیائے بزرگ جیسے حضرت نوح علیہ السلام ، حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت ادریس علیہ السلام، و حضرت شیث علیہ السلام و حضرت داؤد علیہ السلام  و حضرت موسیٰ علیہ السلام و حضرت عیسیٰ علیہ السلام و حضرت ختمی مرتب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)  کی زبان نہ ہو تووہ سب مل کر بھی توحید کو حضرت علی علیہ السلام کی طرح بیان نہیں کرسکتے“۔ [3]

یعنی ہر نبی سے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی طرح خدائے سبحان کی توحید کے سلسلہ میں اتنا عمیق خطبہ نہیں دے سکتا اور یہ شیخ کلینی و صدر المتالہین کے جملوں میں ہم آہنگی اور مطابقت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ خدائے سبحان کی توحید کے سلسلہ میں حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کے بعض خطبے قرآن کریم کی طرح ہیں، کہ جس کے بارے میں خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

<قل لئن اجتمعت الإنس والجنّ علی اٴن یاٴتوا بمثل ہذا القران لا یاٴتون بمثلہ ولو کان بعضہم لبعضٍ ظہیراً>[4]

 البتہ جو شخص حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کو معراج کی اُس بلندی پر دیکھتا ہے اور آپ کی حیات کو شاہدانہ اور آپ کی زندگی کو عارفانہ مانتا ہے کہ یہ امام علیہ السلام کے شہود پر ایمان کا نتیجہ ہے۔

 حضرت امیر المومنین علیہ السلام  کی عظیم مدح، ابن سینا کی زبانی

ممکن ہے کہ قرآن کریم اور وحی سماوی کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام کے ہم پلہ ہونے کا علم، اسلام کے مشہور و معروف مفکر ابوعلی ابن سینا (رحمة اللہ علیہ) کے لئے اِس بات کا سبب بنا ہو کہ اُنہوں نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں یوں فرمایا:

اشرف بشر، سردار انبیاء اور خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)  نے دائرہ حکمت، فلک حقائق او رخزانہ عقول کے مرکز و محور حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے فرمایا:



1 2 next