پندره شعبان امام زمانه (عج) کی ولادت



  

پندره شعبان قطب عالم امكان  آخرين خليفه پروردگار،حضرت بقيه الله الاعظم(اروحنا فداه) کی ولادت باسعادت کا پر مسرت دن هے۔

جب آپ کی ولادت هوئی تو آپ سجده میں گر پڑے اور فرمایا:

اشهد ان لا اله الاالله وان محمدارسول الله وان ابي اميرالمؤمنين، اور پهر  باقی اماموں میں سے ایک ایک کا نام لیا یهاں تک که اپنا نام بهی لیا اور پهر اپنے ظهور کے لئے دعا فرمائی.[1]

 حضرت امام عصر علیه السلام کا ایسا مقدس وجود هے که خداوندعالم آپ دست مبارک سے پوری دنیا کو عدل و انصاف سے بهر دے گا، ایسا مهربان امام که جس کے وجود کی برکت سے خداوندعالم اپنے بندوں کو اپنی تمام تر خیرات و برکات اور نعمتیں عطا کرتا هے، حضرت امام موسی کاظم علیه السلام نے امام عصر کی غیبت اور اس زمانه میں مومنین کے غم و اندوه کے سلسله میں فرمایا:

يغيب عن ابصار الناس شخصه ،ولا يغيب عن قلوب المومنين ذكره[2]

آپ کی ذات مومنین کی نگاهوں سے غائب رهے گی لیکن ان کی یاد مومنین کے دل سے نهیں جائے گی۔

اس امام مهربان کے ظهور کا زمانه پوری دنیا والوں کے لئے صلح و صفا اور امن و امان اور چین و سکون کا زمانه هوگا اور جس مذهب کو خداوندعالم پسند کرتا هے پوری دنیا میں اسی مذهب کی حکومت هوگی۔

 هم شیعوں کو آپ کے ظهور کے لئے خشوع و خضوع کے ساته دعا کرنا چاهئے اور همیشه آپ کی یاد میں رهنا چاهئے، اور همیں یه دهیان رکهنا چاهئے  که امام علیه السلام همارے اعمال و کردار پر ناظر هیں اور وه همارے نیک کاموں سے خوش هوتے هیں اور همارے برے کاموں اور گناهوں پر غمگین اور رنجیده خاطر هوتے هیں، لهذا ضروری هے که هم اپنے امام کو خوش کرنے کے لئے کوشش کرتے رهیں اور اپنے امام سے همیشه دعائے عهد او زیارت آل یس (که جو همارے پاس ایک عظیم الشان خزانه هے اور جس کی همیں قدر کرنا چاهئے) کے  ذریعه توسل کرتے رهیں ۔

حضرت امام عسکری علیه السلام نے اپنے عزیز فرزند امام عصر (عجل الله فرجه الشریف) سے خطاب کرتے هوئے فرمایا:

واعلم ان قلوب اهل الطاعه والاخلاص نزع اليك مثل الطيرالي اوكارها۔[3]



1 next