آیت الله مرعشی نجفی(علیه الرحمه) کی دینی خدمات



  

آیت الله مرعشی نجفی(علیه الرحمه)  نے عالم اسلام کی ایک طولانی زمانه تک شایان شان خدمت کی هے، موصوف کی ایک بهترین کارکردگی دینی مدارس کی بنیاد ڈالنا تھا، سن 1376هجری قمری میں مرحوم حاج مهدی ایرانی کے ذریعه مدرسه مهدیه کی داغ بیل ڈالی گئی لیکن اُس کی ناظر اور مسئول آیت الله مرعشی نجفی قرار پائے، خستگی ناپذیر فقیه نے مدرسه کی تکمیل میں انتهک کوششیں کی اور مدرسه کے کتابخانه کی بنیاد ڈالی جس میں دو هزار جلد کتابیں موجود تھیں، سن 1389 هجری قمری میں دو منزله عمارت پر مشتمل مدرسه مومنیه بنایا، اور اُس کے لئے بهی کتابخانه بنایا جس میں 3500 کتابیں موجود تهیں، سن 1400هجری قمری میں میں تین منزله عمارت پر مشتمل مدرسه شهابیه بنا اسی طرح سن 1383هجری قمری میں تین منزله عمارت پر مشتمل مدرسه مرعشیه بنایا گیا اور ان کی نظارت اور مسئولیت بهی موصوف کے ذمه رهی۔

آیت الله العظمی مرعشی نجفی کا کتابخانه ملک کے عظیم الشان کتابخانوں میں اور کتابخانه مجلس شورای اسلامی وکتابخانه آستانه قدس رضوی (مشهد) کی ردیف میں هے، اِس کتابخانه میں عالم اسلام کے بهت سے (نایاب) قلمی نسخے موجود هیں، جن میں سے متعدد کتابوں کے نسخے صدیوں پرانے تاریخ کے عظیم الشان اور بهت قیمتی نسخے هیں۔

آیت الله مرعشی نجفی نے اپنی جوانی کے عالم میں جب وه حوزه علمیه نجف میں مشغول تعلیم تھے، کتابوں کے قلمی نسخے جمع کرنے شروع کئے، کیونکه موصوف بهت سے اسلامی منابع اور قلمی نسخوں کو نابود اور غارت هوتے دیکھ رهے تھے، چنانچه وه بے چین هوگئے اور طلبگی کے بهت هی کم شهریه کے باوجود قلمی کتابوں کی خریداری شروع کردی، تاکه اسلامی ثقافت کے اِس عظیم سرمایه کو اغیار کے هاتھوں غارت هونے سے بچائیں، بعض اوقات موصوف راتوں کو ایک چاولوں کے کارخانه میں کام کرتے تھے، دن میں استیجاری روزه رکھتے تھے اور رات میں نماز استیجاری پڑھتے تھے تاکه قلمی کتابوں کو خرید سکیں، جیسا که موصوف اپنی ایک تحریر میں فرماتے هیں:

«هم ایک دن مدرسه سے (صحن علوی کے سامنے) بازار کی طرف چلے اور جیسے هی بازار میں قدم رکھا تو ایک انڈے فروخت کرنے والے خاتون پر نظر پڑی  جو دیوار کے پاس پاس بیٹھی هوئی تھی اوراُس کی چادر کے نیچے سے کتاب کا ایک حصه دکھائی دے رها تھا، هماری دل کو اتنا جھٹکا لگا که کچھ دیر تک کتاب پر نظریں جمائے دیکھتے رهے اور پهر صبر نه کرسکے، سوال کیا: یه کیا هے؟ اُس خاتون نے جواب دیا: بکنے والی کتاب هے، فورا هی میں نے کتاب لی اور تعجب کے ساتھ اُسے دیکھا تو معلوم هوا که وه علامه عبدالله افندی کی کتاب «ریاض العلماء» کا نایاب نسخه هے که جو کسی کے پاس نهیں تھا، یعقوب کو یوسف مل جانے کی طرح بهت هی تعجب اور حیرت سے سوال کیا: اِسے کتنے میں فروخت کرو گی؟  اُس نے کها: پانچ روپیه میں، هم چونکه خوشی سے پهولے نهیں سما رهے تھے فورا هی اُس سے کها: میری ساری پونجی سو روپیه هے کیا تم اِس کتاب کو سو روپیه میں  مجھے دے سکتی هو؟ چنانچه اُس عورت نے خوشی سے قبول کرلیا، اُسی موقع کاظم دجیلی آپهنچا جو  کتاب خریدنے میں برطانویوں کا دلال تھا، وه قدیمی کمیاب اور نادر کتابوں کو هر طریقه سے حاصل کرتا تھا اور نجف اشرف میں برطانوی حاکم «میجر» کے پاس لے جاتا تھا اور وه اِس طرح کی کتابوں کو لندن کتابخانه میں بھیج دیتا تھا، چنانچه کاظم نے زبردستی میرے هاتھ سے کتاب لے لی اور اُس خاتون سے کها: میں اِس سے زیاده میں یه کتاب خرید لوں گا اورپهر اُس نے هم سے زیاده قیمت لگائی، اُس موقع پر میں نے غم و اندوه کے عالم میں حضرت امیرالمومنین علیه السلام کے حرم کی طرف رخ کیا اور آهسته سے عرض کی:

«اے میرے مولا و آقا! میں اِس کتاب کو خرید کر آپ کی خدمت کرنا چاهتا هوں، لهذا آپ اِس بات پر راضی نه هوں که یه کتاب میرے هاتھ سےنکل جائے»۔

 ابهی میری گفتگو تمام نه هوئی تھی که اُس خاتون نے اُس دلال کی طرف رخ کرکے کها: یه کتاب میں نے انھیں فروخت کردی هے، اب تمهیں فروخت نهیں کرسکتی۔ یه سن کر کاظم دلال هار مان کر غصه میں وهاں سے چلا گیا۔۔۔ همارے پاس 20 روپیه سے زیاده نهیں تھے، هم نے اپنے پرانے کپڑے اور گھڑی کو فروخت کر ڈالا تاکه کتاب کے پیسه جمع کریں، لیکن کچھ هی دیر کے بعد کاظم دلال چند پولیس والوں کے ساتھ آیا اور انھوں نے مدرسه پر حمله بول دیا، اور همیں پکڑ کر اُس برطانوی «میجر» کے پاس لے گئے، اُس نے پهلے هم پر کتاب کی چوری کا الزام لگایا اوراُس نے بهت زیاده چیخ پکار سے کام لیا ۔۔۔ اُس کے بعد اُس نے حکم دیا که همیں قیدخانه میں بهیج دیا جائے، چنانچه اُس رات قیدخانه میں خداوندعالم سے راز و نیاز کیا تاکه وه کتاب جهاں چھپائی هے محفوظ رهے، دوسرے روز شیخ الشریعه  کے نام سے مشهور مرجع عظیم الشان مرزا فتح الله نمازی اصفهانی نے هماری آزادی کے لئے مرحوم آخوند خراسانی کے بیٹے مرزا مهدی کو چند لوگوں کے ساتھ حاکم شهر کے پاس بھیجا، آخرکار نتیجه یه هوا که همیں زندان سے آزاد کردیا گیا البته اِس شرط کے ساتھ که ایک ماه بعد کتاب برطانوی حاکم کو دیدیں۔

آزاد هونے کے بعد تیزی سے مدرسه کی طرف روانه هوئے اور اپنے طلباء احباب کو جمع کیا اور ان سے کها: ایک اهم کار انجام دینا هے جو اسلام اور شریعت کی خدمت هے! طلباء نے کها: کام کیا هے؟ هم نے کها: اِس کتاب کی نسخه برداری، چنانچه سب اِس کام میں مشغول هوگئے اور هم نے مهلت تمام هونے سے پهلے اِس کتاب کے چند نسخه تیار کرلئے۔۔۔»

آیت الله مرعشی نجفی نے جب قم کی طرف هجرت کی تو اپنے ساتھ وه قلمی نسخے بھی ایران لے آئے اور قم میں بھی نایاب اور قدیمی کتابوں کے نسخوں کی خریدار میں لگ گئے، ایک مدت بعد مکان میں جگه کم هونے کی وجه سے کتابوں کو مدرسه مرعشیه میں پهنچادیا، کچھ مدت بعد اِس مدرسه کی تیسری منزل پر  کتابخانه بنایا گیا، جو 15 شعبان سن 1386هجری قمری میں 10000 قلمی کتابوں کے ساتھ افتتاح هوئی۔

طلاب کرام اور علمائے عظام کی طرف سے کتابوں کے مطالعه کا شوق و ذوق، نیز کتابخانه میں جگه کی کمی نیز جدید کتابوں کی خریداری اِس بات کا سبب بنی که موصوف نے (موجوده کتابخانه) کی بنیاد ڈالی جو 15 شعبان سن 1394 هجری قمری میں 16000 مطبوعه اور قلمی کتابوں کے ساتھ افتتاح هوئی۔



1 next