آلِ محمد سے کیا مراد ہے؟



آلِ محمد سے کیا مراد ہے؟

ناصبی دعویٰ کہ "آلِ محمد" سے مراد "پوری امت" ہے

چونکہ درود سے بھی آلِ محمد کی فضییلت ثابت ہوتی ہے جس سے ہر انسان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اتنے افضل اور اعلیٰ لوگ موجود تھے تو پھر امت نے انہیں حکومت کیوں نہ دی؟ جبکہ علم شجاعت، زہد، تقویٰ اور عدل کے علاوہ حکومت چلانے کے لئے بیس فی صدی خمس لینے کے حقدار بھی یہی ہیں، جس سے حکومت کا خرچ چلتا ۔

مکتبِ صحابہ کے لیے یہ ایسا مشکل ترین اور پریشان کن سوال ہے جس کی وجہ سے انہیں لفظ آل میں مغالطہ پیدا کرنا لازمی ہو گیا اور انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ “آلِ محمد” سے مراد پوری امت ہے ۔ اور ثبوت کے طور پر یہ دلیل دی کہ:

o        قران میں لفظ "مومن آلِ فرعون" آیا ہے ۔

o        مگر فرعون کی کوئی اولاد نہیں تھی

o        اس سے ثابت ہوا کہ وہ شخص فرعون کا بیٹا نہیں تھا، بلکہ اُس کی قوم کا ایک شخص تھا ۔

o        اور قران نے اُس قوم کے شخص کے لئے "آل" کا لفظ لگا کر ثابت کر دیا ہے کہ "آل" سے مراد "پوری امت" ہے ۔

آئیے اللہ کے بابرکت نام سے ابتدا کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس ناصبی دعویٰ میں کتنی صداقت ہے ۔

قران میں آّل سے مراد "اولاد/ نسل/خاندان" ہے

قران میں "آل" سے مراد کہیں بھی "پوری امت" نہیں ہے، بلکہ صرف اور صرف "اولاد/نسل/خاندان"ہے ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 next