امامت کی معرفت



 

           خداوند عالم پر انبیاء کا لوگوں کی سعادت و نیک بختی کے لئے قانون کے ساتھ بھیجنا واجب ھے، اور جس طریقہ سے نبی نے امانت و دیانت کے ساتھ اسلام کے احکام کو بغیر کمی و زیادتی کے لوگوں تک پھنچانے میں کوشش کی ایسے ھی رسول کے بعد ایسے شخص کا ھونا ضروری ھے جو احکام کو بغیر کمی و زیادتی کے لوگوں تک پھنچائے ، یعنی دین کی حفاظت اور لوگوں کے دینی و دنیاوی امور کو انجام دے تاکہ انسان کے لئے کمال و سعادت کی راھیں وا رھیں، اللہ اور اس کے بندوںکے درمیان ایک لمحہ کے لئے فاصلہ و جدائی نہ ھو سکے ایسے شخص کو امام اور خلیفہٴ رسول(ص) کھتے ھیں۔

             تمام ائمہ اطہار (ع) نبی کے علوم کے محافظ اور انسان کی کامل ترین فرد اور نمونہ عمل اور اسلام کے لئے مشعل راہ ھوتے ھیں خود کامل اور سعادت کی راھوں میں سیر کرتے ھوئے لوگوں کی ھدایت کرتے ھیں ۔

 

 

امام کے صفات

 عصمت

            نبی کی طرح امام کو بھی احکام دین اور اس کی تبلیغ و ترویج میں خطا و غلطی، سھو و نسیان سے منزہ ھونا ضروری ھے ، تاکہ دینی احکام کسی کمی اور زیادتی کے بغیر کامل طور پر اس کے پاس موجود رھے اور لوگوں کو سیدھے راستے پر چلنے اور حق تک پھنچنے کا جو فقط ایک راستہ ھے اس کو مخدوش نہ ھونے دے ، پس امام کا گناھوں سے محفوظ رھنا اور جو کچھ کھے اس پر عمل پیرا ھونا ضروری ھے تاکہ اس کے قول کی اھمیت اور ، بات کا بھرم باقی رھے اور لوگوں کا اعتماد اس سے زائل نہ ھو اگر امام گناہ کا مرتکب ھوگا تو اس کی یہ سیرت لوگوں کے لئے سر مشق عمل ھوگی جس سے نبی اور امام کے بھیجنے کا مقصد فوت ھوجائے گا نیز ان کا یہ کردار لوگوں کو اللہ کی معصیت پر ابھارنے کا باعث بنے گا ، لہذا امام کے لئے ضروری ھے احکام اسلام پر سختی سے عمل کرے اپنے ظاھر و باطن کو اسلام کے سانچے میں ڈھالے تاکہ اس سے خطا اور غلطی کا امکان نہ رہ جائے ۔

            مختصر یہ کہ امام کا معصوم ھونا ضروری ھے نیز امام کا دین کے تمام احکام سے واقفیت اور ھر وہ مطالب جو لوگوں کی راھنمائی اور رھبری کے لئے سزاوار ھیں اس کا جاننا ضروری ھے تاکہ انسان کے لئے سعادت و ھدایت کی شاہ راہ ھمیشہ کھلی رھے ۔

کمال اور فضیلت

            پھلی بحث میں ذکر ھوا ، امام بھی نبی کی طرح دین کے تمام احکام پر عمل اور اس کے جملہ اصول پر چل کر ایک نمایاں فرد اور کامل انسان ھوتے ھیں ، لہذا وہ سیدھے راستے پر خود بھی چلتے اور دوسروں کو بھی ساتھ میں راھنمائی و ھدایت کرتے ھیں ،یہ الٰھی معارف و حقائق کی گھٹیوں کو بخوبی درک کرتے ھیں دین کا شاھکار اور کامل ترین نمونہ ھوتے ھیں ۔

معجزہ

             اخبار و احادیث سے استفادہ ھوتا ھے کہ ائمہ طاھرین (ع) بھی تمام انبیاء کی طرح صاحب اعجاز ھوتے ھیں، فرد بشر جس کام سے عاجز ھو اس کو یہ با آسانی انجام دے سکتے ھیں ،نبی کی طرح ان کے لئے بھی امکان پایا جاتا ھے کہ اپنی عصمت و امامت کو ثابت کرنے کے لئے معجزہ کو بروئے کار لائیں اور اپنی حجت لوگوں پر تمام کریں ۔

            ہاں اگر کوئی مزید تحقیق کرنا چاھے تو حدیث اور تاریخی کتابوں کی طرف رجوع کرے، اس پر حقیقت کھل کر آشکار ھو جائے گی کہ ائمہ اطہار (ع) نے کتنے مقامات پر معجزہ سے کام لیا ھے ، البتہ جتنے معجزات و مطالب ائمہ (ع) کی طرف منسوب کئے گئے ھیں ھم ان سب کی حقیقت کا دعویٰ نھیں کرتے کیونکہ مجھول مطالب کا بھی امکان پایا جاتا ھے ۔

امام کی پہچان

             امام کو دو راستوں سے پہچانا جا سکتا ھے :



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 next