حجة الوداع کی تفصیل



 

جب نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو حضیرة القدس ”جنت “میں منتقل ھونے کا یقین ھو گیا توآپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے بیت اللہ الحرام کا حج اور امت کے لئے ایک سیدھے راستہ کا معین کرنا لازم سمجھا،آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)  ۱۰   سن ھ میں آخری حج کر نے کی غرض سے نکلے اور آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے امت کے لئے اپنے اس دنیا سے آخرت کی طرف عنقریب کو چ کرنے کے سلسلہ میں یوں اعلان فرمایا :”اِنِّی لَا اَدْرِي لَعَلِّي لَااَلْقَاکُمْ بَعْدَ عَامِیْ ھٰذَا بِھٰذا الْمَوْقِفِ اَبَداً۔۔“”مجھے نھیں معلوم کہ میں اس سال کے بعداس جگہ تمھیں دیکھ سکوں گا “۔

حجاج خوف و گھبراہٹ کے ساتھ چل پڑے وہ بڑے ھی رنجیدہ تھے اور یہ کہتے جا رھے تھے : نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنی موت کی خبر دے رھے ھیں ،نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ان کے لئے ھدایت کا ایسا راستہ معین فرمادیا تھا جس سے وہ فتنوں سے دور رھیںاور یہ فرماکر ان کی اچھی زندگی گذرنے کی ضمانت لے رھے تھے : ”ایھا النَّاسُ، اِنِّیْ تَرَکْتُ فِیْکُمُ الثَّقَلَیْنِ،کِتَابَ اللّٰہِ وَعِتْرَتِيْ اَھْلَ بَیْتِي ۔۔۔“ ۔

”اے لوگو! میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رھا ھوں ،کتاب خدا اور میری عترت میرے اھل بیت(ع) ھیں ۔۔۔“۔

کتاب اللہ سے متمسک رھنا ،اس میں بیان شدہ احکام پر عمل کرنااور اھل بیت نبوت سے محبت دوستی کرناکہ اسی میں امت کی گمرا ھی سے نجات ھے حج کے اعمال تمام کرنے کے بعد نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے ایک بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا جس میںآپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)نے اسلامی تعلیمات اوراس کے احکام بیان فرمائے اورآخرمیں فرمایا :”لاترجعوا بعدی کفّاراً مُضَلِّلِیْنَ یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ اِنِّي خَلَّفْتُ فِیْکُم ْ مَااِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِہِ لَنْ تَضِلُّوْا:کِتَابَ اللّٰہِ وَعِتْرَتيْ اَھْلَ بَیْتِي،اَ لَاھَلْ بَلَّغْتُ؟“۔

”میرے بعد کا فر نہ ھو جانا ،لوگوں کو گمراہ نہ کرنا ،ایک دوسرے سے جنگ نہ کرنا ،میں تمھارے درمیان وہ چیزیں چھوڑ کر جا رھا ھوں اگر تم اُن سے متمسک رھوگے تو ھر گز گمراہ نہ ھو گے :اللہ کی کتاب اور میری عترت ،میرے اھل بیت(ع) ھیں ،آگاہ ھو جاؤ کیا میں نے(احکام الٰھی ) پھنچا دیا؟“

سب نے ایک ساتھ مل کر بلند آواز میں کھا : ھاں ۔

آنحضرت(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے فرمایا :”اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ ۔۔اِنَّکُمْ مَسْؤُلُوْنَ فَلْیَبْلُغِ الشَّاھِدُ مِنْکُمُ الْغَائِبَ“۔[1]

”خدایا ! گواہ رھنا ۔۔تم حاضرین کی ذمہ داری یھے کہ اس پیغام کو غائبین تک پھنچادیں “۔ھم اس خطبہ کا کچھ حصہحیاة الامام امیر المومنین(ع) میں ذکر چکے ھیں ۔

غدیر خم

حج کے ارکان بجالانے کے بعد نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ حج کے قافلے مدینہ کی طرف واپس آرھے تھے ،جب غدیر خم کے مقام پر پھنچے تو جبرئیل اللہ کے حکم سے نازل ھوئے کہ آپ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنے قافلہ کو اسی مقام پر روک کر حضرت علی(ع) کو اپنے بعد اس امت کا خلیفہ اور امام بنا دیجئے اور اس کے انجام دینے میں بالکل تاخیر نہ فرما ئیںچنانچہ اس وقت یہ آیت نازل ھو ئی :< یَااٴَیُّہَاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللهُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاس۔۔>۔[2]



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 next