حضرت امام حسین علیہ السلام کی حیات مبارکه



حضرت امام حسین علیہ السلام

آپ اسلام کی بنیاد اور اس دنیائے اسلام کو نجات دلانے وا لے تھے جو امویوں کے ھاتھوں گرفتار ھوچکی تھی جو اس کو بدترین عذاب دے رھے تھے، اس کے بچوں کو قتل اور عورتوں کوزندہ رکھتے تھے، انھوں نے اللہ کے مال کواپنی بزرگی کا سبب بنایا، اس کے بندوں کو اپنا نوکر بنایا،نیک اور صالح افراد کو دور کر دیا، مسلمانوں کے درمیان خوف و دھشت پھیلائی ،عام شھروں میںقیدخانوں، جرائم،فقرو تنگدستی اور محرومیت کو رواج دیا،رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی آرزوحضرت امام حسین(ع)نے ان کامحکم عزم و ارادہ سے جواب دیا،آپ نے ایساعظیم انقلاب برپا کیا جس کے ذریعہ آپ(ع) نے کتاب خدا کی تشریح فرمائی اور اس کوصاحبان عقل کےلئے ما یہ  عبرت قرار دیا،ان کے محلوں کوجڑسے اکھاڑ پھینکا ، اُن کی عظمت و شوکت کی نشانیوں کو ختم کردیا، مسلمانوں کے درمیان سیا سی اور دینی شعور بیدار کیا، ان کو غلامی اور ذلت کے خوف سے آزاد کرایا،ان کو ان تمام منفی چیزوں سے آزاد کرایا جو ان کےلئے نقصان دہ تھیں،مسلمان پردے میں بیٹھنے کے بعد آن بان کے ساتھ چلنے لگے ،انھوں نے اس انقلاب کے پرتو میں اپنے حقوق کا نعرہ بلند کیا جن کاامویوں کے حکم سے خا تمہ ھو چکا تھاجنھوں نے ان کو ذلیل و رسوا کیا اور وہ کام انجام دیا جس کو وہ انجام نھیں دینا چا ہتے تھے ۔۔۔ھم اس امام عظیم کے کچھ اوصاف بیان کررھے ھیں جن کی قربانی ، عزم محکم ،صبراور انکار کے چرچے خاص و عام کی زبان پر ھیں ۔

نبی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی حسین(ع) سے محبت

حضرت رسول خدا(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اپنے فرزند ارجمند امام حسین علیہ السلام سے بے انتھا محبت کیا کرتے تھے آپ کے نزدیک امام حسین علیہ السلام کی شان و منزلت اور کیا مقام تھا اس سلسلہ میں آپ کی بعض احادیث مندرجہ ذیل ھیں :

۱۔جابر بن عبداللہ سے مروی ھے کہ رسول کا فرمان ھے :”من اراد ان ینظرالیٰ سید شباب اھل الجنة فلینظرالیٰ الحسین بن علی“۔[1]

”جوشخص جنت کے جوانوں کے سردار کو دیکھنا چا ہتا ھے وہ حسین بن علی کے چھرے کو دیکھے“۔

۲۔ابو ھریرہ سے روایت ھے :میں نے دیکھا ھے کہ رسول اللہ(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) امام حسین(ع) کو اپنی آغوش میں لئے ھوئے یہ فرما رھے تھے :”اللھم انی احِبُّہ فاحبّہ “۔[2]

”پروردگار میں اس سے محبت کرتا ھوں تو بھی اس سے محبت کر “۔

۳۔یعلی بن مرہ سے روایت ھے :ھم نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے ساتھ ایک دعوت میں جا رھے تھے تو آنحضرت نے دیکھا کہ حسین(ع) سکوں سے کھیل رھے ھیں تو آپ نے کھڑے ھوکر اپنے دونوں ھاتھ امام(ع) کی طرف پھیلادئے ،آپ مسکرارھے تھے اور کہتے جا رھے تھے، بیٹا ادھر آؤ ادھرآؤیھاں تک کہ آپ نے امام حسین(ع) کو اپنی آغوش میں لے لیاایک ھاتھ ان کی ٹھڈی کے نیچے رکھا اور دوسرے سے سر پکڑ کر ان کے بوسے لئے اور فرمایا:”حسین منی وانامن حسین،احب اللّٰہ من احب حسینا،حسین سبط من الاسباط“[3]۔

”حسین(ع) مجھ سے ھے اور میں حسین(ع)سے ھوںخدایاجو حسین(ع)محبت کرے تو اس سے محبت کر ، حسین(ع) بیٹوں میں سے ایک بیٹا ھے “

یہ حدیث نبی اکرم(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور امام حسین علیہ السلام کے درمیان عمیق رابطہ کی عکا سی کرتی ھے، لیکن اس حدیث میں نبی کا یہ فرمان کہ ”حسین منی “حسین مجھ سے ھے “اس سے نبی اور حسین(ع) کے مابین نسبی رابطہ مراد نھیں ھے چونکہ اس میں کو ئی فا ئدہ نھیں ھے بلکہ یہ بہت ھی گھری اور دقیق بات ھے کہ حسین(ع) نبی کی روح کے حا مل ھیںوہ معاشرئہ انسا نی کی اصلاح اور اس میں مسا وات کے قا ئل ھیں۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 next