خدا کی پہچان



 

 

            خدا وند عالم نے دنیا کو پیدا کیا اور اسے منظم طریقہ سے چلا رھاھے ، کوئی بھی چیز بغیر سبب کے وجود میں نھیں آتی ھے مثال کے طور پر اگر ھم کسی نئے گھر کو دیکھیں تو یقین کریں گے کہ اس کا بنانے والا ، کار گر و مزدور اور نقشہ کھینچنے والا انجینیرکوئی ضرور ھوگا ، یعنی یہ گھر انھیں افراد کی زحمات کا نتیجہ ھے کسی کے خیال میں بھی نھیں آئے گا کہ یہ خودبخود تیار ھو گیا ھوگا ۔

            اگر ھم ٹیبل پر قلم اور سفید کاغذ رکھ کر چلے جائیں اور واپسی پر دیکھیں کہ اس پر کسی نے لکھا ھے تو دیکھ کر ھمیں اطمینان سا ھوجائے گا کہ ھماری غیر موجودگی میں کوئی آیا تھا ، اور اس پر اپنے آثار چھوڑ گیا ھے اگر کوئی کھے بھائی صاحب آپ کی غیر موجودگی میں یہ قلم خود ھی اس پر رواں ھو گیا اوراس نے یہ تمام چیزیں لکھ دی ھے تو ھم اس کی باتوں پر تعجب کریں گے اور اس کی بات غیر معقول قرار دینگے ، اگر ھم کسی مقام پر خوبصورت تصویر بھترین پارک میں بنی ھوئی دیکھیں جو ھر ایک کا دل اپنی طرف لبھا رھی ھو تو کیا ھمارے ذھن میں یہ بات آئے گی کہ ھو نہ ھو یہ خود بخود بن گئی ھو گی ۔

            ھم گاڑی میں باتیں کرتے ھوئے چلے جا رھے تھے اتفاق سے گاڑی رک گئی ڈرائیور کو اطمینان ھے کہ گاڑی بغیر وجہ کے نھیں رکے گی ، کوئی نہ کوئی ضرور موٹر میں خرابی آئی ھے ، اور بنانے کے لئے تمام کوششیں کر رھاھے ھم کھیں بھائی ٹھھرو ابھی گاڑی خود بخود صحیح ھوکر چلنے لگے گی !

            ھمارے ہاتھ کی گھڑی چلتے چلتے رک گئی ھم نے بنانے والے کو دیا، کیا وہ کہہ سکتا ھے کہ یہ ابھی خود ھی سے ٹھیک ھوجائے گی ۔

            آپ کو اچھی طرح معلوم ھے کہ کسی چیز کا وجود بغیر علت کے نھیں ھوتا ھے ، اور اس کی تلاش ھر شخص کو ھوتی ھے ، اب میں آپ سے سوال کروں یہ اتنی بڑی طویل و عریض دنیا بغیر کسی پیدا (بنانے والے) کرنے والے کے پیدا ھوگئی ھے ؟ ھرگز ایسا نھیں ھے ، اتنی بڑی اور منظم دنیا پھیلے ھوئے دریا ، چمکتے ھوئے ستارے اور دمکتا ھوا سورج یہ رات دن کا آنا جانا ، فصلوں کی تبدیلی ، درختوں کے شباب ، گلوں کے نکھار بغیر کسی بنانے والے کے نھیں ھو سکتا ۔

دنیا میں نظم و ترتیب

            اگر ھم ایک ایسی عمارت دیکھیں جو نہایت منظم اور با ترتیب بنی ھوئی ھو کہ اس کے اجزاآپس میں اچھی طرح خوب ملے ھوئے ھوںاوراس میںرھنے والوںکیلئے تمام ممکن ضروریات کی چیزیںبھی باقاعدہ اپنی اپنی جگہ پرفراھم ھو یعنی اس میںکسی طرح کا کوئی عیب ونقص نظرنہ آرھاھواُجالے کے لئے بجلی، پینے کے لئے بھترین پانی، سونے کے لئے کمرہ، کچن ،مھمان خانہ ،حمام ،پیشاب خانہ اورجاڑے میں گرم کرنے کے لئے ھیٹر، گرمی میں سرد کرنے کے لئے (AC )اورکولربھت ھی نظافت سے پانی کے پائپ اوربجلی کے تار پھےلے ھوئے ھوں، اور اس کی بناوٹ میں ڈاکٹری پھلوؤں پر خاص توجہ دی گئی ھو، سورج کی ٹکیا پورے طور پر اس گھر میں نور چھڑک رھی ھو، جب  ھم یہ ملاحظہ کرتے ھیں تو ھماری عقل فیصلہ کرنے پر مجبور ھو جاتی ھے کہ یہ ھر لحاظ سے منظم گھر خود بخود نھیں بنا ھوگا، بلکہ اس کے بنانے اور سنوارنے والا کوئی با ھوش مدبر ، دقت بیں ، نہایت ظرافت سے نقشہ کے مطابق بنایا ھے ۔

            اس مثال کے ذکر کے بعد چاھتا ھوں کہ اپنی روزانہ کی زندگی پر آپ لوگوں کی توجہ مبذول کراؤں انسان اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے پانی اور کھانے کا محتاج ھے کہ کھانا کھائے اور پانی پئے اور بدن کے خلیوں (CELLES)کی ضروریات کو پورا کرے تاکہ بدن کے تمام خلیہ زندہ اور اپنے کاموں میں مشغول رھکر ھماری زندگی کو اچھی طرح قائم و دائم رکھیں ، ضروری ھے کہ مختلف انواع کے کھانے کھائیں اور ان کو فوت ھونے سے بچائیں ورنہ انھیں کے ساتھ زندگی کے چراغ مدھم ھونا شروع ھوجائیں گے ۔

            انسان اپنی زندگی کے لئے مفید ھوا کا نیاز مند ھے تاکہ اس کو جذب کرے اور داخلی جراثیم کو باھر نکال کر حیات کو تازگی بخشے ، آپ ملاحظہ کریں، کس طرح ھماری زندگی کو بھترین بنانے کے لئے ضروریات کی تمام چیزیں خارج میں موجود ھیں اگر کھانا تلاش کریں تو مختلف انواع و اقسام کے کھانے موجود ھیں اگر زندگی کے لئے گیھوں، چاول، سبزی، پھل اور گوشت وغیرہ کی تلاش ھوتو تمام کی تمام چیزیں خارج میں موجود ھیں، اگر پانی یا ھوا کی ضرورت ھوتو باھر موجود ھے پاؤں ھوں تو کھانے کی تلاش میں نکل سکتے ھیں آنکھیں ھوں تو مناسب اچھی غذائیں دیکھ سکتی ھیں اور ہاتھ ھوں تو اٹھا سکتے ھیں، اور پیدا کرنے والے نے ہاتھ کو بھی کیا خلق کیا ھے کہ پورے طور پر ھمارے اختیار اور ھماری ضروریات کو مختلف انداز میں پورا کرنے کے لئے تیار ھے جس طرح اور جس وقت چاھیں اٹھائیں بیٹھائیں فقط ھمارے ارادہ کے محتاج ھیں، جیسا ارادہ ھو ویسا کریں، بند کرنا چاھیں تو کھلے نہ ،اور کھولنا چاھیں تو بند نہ ھو ،کس قدر تعجب خیز ھے ہاتھوں کی بناوٹ اور اس میں انگلیوں اور ھتھیلیوں کی ظرافت ، ھونٹوں کو پیدا کیا تاکہ منھ کو بند رکھیں لقمہ باھر آنے سے محفوظ رھے ۔

            مشکل ترین مسئلہ یہ ھے کہ بدن کی ضروری غذائیں جو رنگ برنگ اور مختلف اقسام کے ساتھ پائی جاتی ھیں کیا یہ اتنی آسانی سے بدن کے خلیوں کے لئے لائقِ استفادہ ھو سکتی ھیں ؟ ھر شخص کہہ سکتا ھے ، نھیں بلکہ اس میں بھترین طریقہ سے تغیر و تبدیلی واقع ھو، تاکہ وہ بدن کے استفادہ کے مطابق ھو سکے، انسان کی داخلی مشینری (Machinery)غذا کو چار مرحلہ کے بعد ہضم کے لائق بناتی ھے لہذا (بطور عبرت) خلاصة ً قارئین کے پیش خدمت ھے ۔

            پھلا مرحلہ : خدا وند عالم نے ھمارے منھ میں دانت جیسی نعمت دی جو غذا کے مطابق لقمہ کو چبا کر ریزہ ریزہ کرنے کے کام آتے ھیں ، اور زبان میں حرکت عطا کی تاکہ لقمہ کو مناسب دانتوں کی طرف ھدایت کرے اور منھ کے اندر بعض حصوں کو ایسا منزہ بنایا جو کھانے کے ذائقہ اور اس کی اچھائی و خرابی، مٹھاس اور تلخی کو دماغ کی طرف منتقل کرتے ھیں ، اور اسی لقمہ (غذا ) کے مطابق، مرطوب اور نرم کرنے کے لئے مخصوص پانی چھوڑتے ھیں، تاکہ وہ لقمہ آسانی سے چبانے اور نگلنے کے لائق ھو جائے اس کے علاوہ یہ منھ کے پانی غذا کو ہضم کرنے میں کافی مدد کرتے ھیں اور خود اس کے اندر شیمیائی اور کیمیائی طاقتیں بھر پور پائی جاتی ھیں ۔



1 2 next