خدا کے صفات



 

 

            خدا کے صفات : اللہ کے صفات کو کلی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ھے [1] صفات ثبوتیہ یا جمالیہ [2]صفات سلبیہ یا جلالیہ ۔

صفات ثبوتیہ:

             ھر وہ صفت جو اصل وجود کے کمال اور اس کی اھمیت میں اضافہ اور اس کی ذات کو کامل کرنے کے لئے لائی جائے اس شرط کے ساتھ کہ موصوف اور ذات میں کوئی تغیر و تبدیلی لازم نہ آئے ، ان صفات کو جمالیہ یا صفات ثبوتیہ کھتے ھیں جیسے علم و قدرت حیات و تکلم ۔

            ان صفات کی اھمیت کو سمجھنے کے لئے آسان سی مثال دیتے ھیں ،اگر ھم دو آدمیوں میں علم و جھل کے عنوان سے تقابل کریں تو اس مطلب کو بخوبی درک کر سکتے ھیں کہ جاھل کے مقابلے میں عالم پُر اھمیت اور فائدہ بخش ھے ، لہٰذا یہ عالم جاھل کے مقابلے میں برتری و فضیلت کا پھلو رکھتا ھے لہذا ھم فیصلہ کریں گے کہ کمالات کے صفات میں ایک علم بھی ھے ، اور ایسے ھی دوسری صفتوں کو مقایسہ کرنے پر حقیقت و برتری صفات جمالیہ کی کھل کر روشن ھوجائیگی اور یہ تمام صفات اس کے لئے ثابت ھیں، اس مطلب کو مزید واضح کرنے کے لئے ھم دو دلیلوں پر اکتفا کرتے ھیں ۔

            پھلی دلیل : خداوند عالم نے خیر و خوبی اور اچھائیوں کو لوگوں کے لئے پیدا کیا ھے کیونکہ انسان اپنے وجود میں خدا کا محتاج ھے ایسے ھی اپنے صفات اور وجودی کمالات میں بھی اسی کا محتاج ھوتا ھے، خداوند عالم نے انسان کو پیدا کیا، لیکن اپنی بقا میں انسان مستقل وجود نھیں رکھتا ھے ، تمام خیر و خوبیوں کو خدا نے انسان کے لئے پیدا کیا، مگر خود یہ خوبیاں اپنی بقا میں مستقل وجود نھیں رکھتی ھیں معلوم ھوا خواہ ذات ھوں اور خواہ صفات ھر حال میں اسی کی محتاج ھیں (بے نیاز نھیں ھیں) لہٰذا خدا ھی ان صفات کمال و جمال کا پیدا کرنے والا ھے ۔

اگر ھم تھوڑا دھیان دیں تو یہ حقیقت کھل کر آشکار ھوجائے گی کہ خدا نے انسان کے لئے تمام کمالات کو پیدا کیا ھے یہ کیسے ممکن ھے کہ ان کمالات سے اپنے کو خالی رکھے ، یا اس کے پاس موجود نہ ھو اگر اس کے پاس نہ ھوگا تو دوسروں کو کیسے دے سکتا ھے ( فاقد الشیء لا یعطی الشی ء) لہذا ماننا پڑے گا کہ خدا کے پاس تمام کمالات و خوبیاں موجود ھیں ، اور اسی نے لوگوں کے لئے ان صفات کو قرار دیا ھے، جب تک چراغ روشن نہ ھو ، دوسروں کو روشن نھیں کر سکتا جب تک پانی خود تر نہ ھو دوسری چیزوں کو تر نھیں کر سکتا ھے ۔

            دوسری دلیل :  ذات پروردگار عالم مطلق ھے یعنی اس کی ذات میں کسی طرح کی قید و حد اور نقص نھیں پایا جاتا ھے جب وہ محدود و ممکن نھیں ھے تو وہ کسی کا محتاج بھی نھیں اور نہ ھی اپنے وجود کو کسی دوسرے سے لیا ھے اس لئے کہ محتاج و ضرورت مند وہ ھوتا ھے جو محدود ھو یا جس میں کمی پائی جاتی ھو لیکن خدا کی ذاتِ مطلق تام و کامل و واجب الوجود ھے لہٰذا جو صفت بھی کمال کے اوپر دلالت کرے گی خدا وند عالم کے لئے ثابت ھے اس سے خدا کی ذات محدود یا مقید نھیں ھوتی، بلکہ اس صفات کا خدا میں نہ پایا جانا اس کی ذات میں نقص کا باعث ھے کیونکہ ان صفات کمالیہ کا خداوندعالم میںنہ پایا جانا ضرورت اور احتیاج کا سبب ھے ، جب کہ خدا کی ذات واجب الوجود اوربالذات بے نیاز ھے ۔

صفات ثبوتیہ : خداوند عالم میں پائی جانے والی صفتیں یہ ھیں :

            ۱۔ قدرت : خدا قادر ھے یعنی جس کام کو انجام دینا چاھے انجام دیتا ھے کسی کام کے کرنے پر مجبور اور عاجز نھیں ھے اور نہ ھی اس کی قدرت کے لئے کوئی جگہ مخصوص ھے بلکہ اس کی قدرت حد بندی سے خالی ھر جگہ موجود ھے ۔

            ۲۔ علم : خدا عالم ھے یعنی تمام چیزوں کو جاننے والا اور تمام موجودات پر احاطہ و قدرت رکھنے والا ھے اس سے کوئی چیز پوشیدہ نھیں ھے یہاں تک کہ بندوں کے افکار و خیالات سے بھی واقف ھے اور ھر چیز اس کے سامنے ھے ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 next