خلافت کی امانتیں اور دوسرے آثار جو ”تاپ قاپی“ میوزیم میں موجود ھیں



 

دوسری مشهور بات یہ ھے کہ مصر کے عباسی خلیفہ نے خلافت کی امانتیں اور حضرت رسول اکرم   صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کچھ چیزیں (یا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب چیزیں) سلطان سلیم کے سپرد کردیں یا سلطان سلیم نے اس سے لے لیں، مذکورہ چیزوں کے بارے میں یہ وضاحت کردینا ضروری ھے کہ شام میں خلافت بنی امیہ اور بغداد میں بنی العباس اور مصر میں خلافت عباسی کے تمام خلفاء اس بات کا دعویٰ کرتے آئے ھیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفاء اربعہ سے متعلق کچھ چیزیں ان کے پاس ھیں ،اور اس وقت خلافت کی یھی پہچان تھی جو شخص بھی خلیفہ بنے یہ مذکورہ چیزیں اس کے پاس هونی چاہئیں۔

موٴلف کی نظر میں سب سے پھلی دلیل مسعودی کی وہ تحریر ھے جس میں بنی امیہ سے بنی عباس کی طرف خلافت جانے کے بارے میں بیان کیا گیا ھے اور وہ یہ کہ جب مروان (بنی امیہ کا آخری خلیفہ) قتل هوا، عامر بن اسماعیل جو مروان کا قاتل تھا، وھاں پهونچا جھاں مروان کی لڑکیاں اور عورتیں تھیں کیا دیکھا کہ وھاں پر ایک خادم تلوار لئے کھڑا ھے۔

 اسماعیل کے ساتھیوں نے اس (خادم) کو گرفتار کرلیا ، اور جب اس سے اس بات کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کھا کہ مجھے مروان نے حکم دے رکھا ھے کہ اگرکبھی میرا قتل هوجائے تو اس کی بیویوں اور لڑکیوں کو قتل کردوں، اس کے بعد اس خادم نے کھا کہ اگر تم مجھے قتل کردو گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی میراث سے محروم هوجاؤ گے، اس کے بعدوہ خادم ان کو ایک جگہ لے کر آیا او روھاں سے مٹی (ریت) ہٹا کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ”بُردَہ“[1](ایک خط دار عبا) اور عصا نکالا جس کو مروان نے دفن کر رکھا تھا ،

عامر بن اسماعیل نے ان کو عبد اللہ بن علی کے سپرد کیا او راس نے سفاح کو دیدیا۔ [2]

ان کے علاوہ کچھ دوسری چیزیں بھی تھیں جن کو عباسی خلفاء محفوظ رکھتے تھے منجملہ پیغمبر اکرم  کی ریش مبارک کے بال، حضرت عثمان کا قرآن ،جن کے بارے میں مصر کے خلفائے عباسی یہ ادعا کرتے تھے کہ یہ چیزیں مغلوں کے حملوں سے محفوظ ر ھیں، اور انھیں چیزوںاور دیگر قیمتی اشیاء کو سلطان سلیم مصر سے اسلامبول لے گیا یا ایک قول کے مطابق [3] المتوکل علی اللہ نے ”بُردہ“ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ریش مبارک کے چند بال اور حضرت عمر کی تلوار سلطان سلیم کو دئے ، [4] اس سامان میں ایک شمشیر بھی تھی جس کو خلفاء حضرت رسول اللہ کی تلوار بتاتے تھے، چنانچہ اسی قول کے مطابق قاضی رشید بن الزبیر کھتے ھیں کہ خلیفة الراضی کے پاس مذکورہ سامان میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شمشیر بھی تھی[5] پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بعض منسوب چیزیں غیر خلفاء کے پاس بھی پائی گئی ھیں، منجملہ یہ کہ (ابن طولون کی تحریر کے مطابق) ۱۶ ربیع الآخر  ۹۲۱ھ میں چند لوگ بیت المقدس سے دمشق میں داخل هوئے جن کے پاس رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب کچھ چیزیں تھی منجملہ ایک کاسہٴ آب، اور عصاء کا کچھ حصہ اور یہ دونوں چیزیں ٹوٹی هوئی تھیں، اور ایک شخص ان کو اپنے سر پر رکھے هوئے تھا، اور ان کے سامنے علم اٹھائے هوئے تھے اور طبل بجارھے تھے، ملک الامراء ، قضات، صوفی لوگ اور دوسرے لوگ ان کے پیچھے پیچھے چل رھے تھے، اور بھت سے لوگ ان چیزوں کو دیکھنے کے لئے جمع هوجاتے تھے۔

میں (ابن طولون) نے ان چیزوں کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ پانی کا ظرف اور عصا کا ایک حصہ ابن ابی اللطف کے باپ کے پاس تھے اور یہ چیزیں قلقشندی خاندان سے ان کے پاس پهونچی تھیں، چنانچہ ملک الامراء نے ان چیزوں کوبطور عاریہ مانگا تاکہ ان کے ذریعہ متبرک هوسکے، لیکن بعد میں معلوم هوا کہ یہ سب چیزیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نھیں تھی بلکہ لیث بن سعد کی تھیں۔ [6]

اسی طرح ابن ایاس کی تحریر کے مطابق جس وقت سلطان مصر ”حلب“ سے سلطان سلیم کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلاتو خلیفہ اس کے داھنی طرف کھڑا تھا، اور اس کے چاروں طرف چالیس اھم شخصیات کھڑی تھیں جن کے پاس حریر کے کپڑے سے بنے غلاف میں ایک ایک قرآن مجید تھا، جس کو وہ اپنے سر پر رکھے هوئے تھے جن میں ایک قرآن مجید حضرت عثمان کے ھاتھ کا لکھا هوا بھی تھا۔ [7]

اسی طرح ا بن طولون صاحب کھتے ھیں کہ سلطان سلیم جس وقت دمشق پهونچے اور ”جامع اموی“ میں اور ” مقصورہ“ (مسجد کی وہ جگہ جھاں پر سلطان یا امام نماز پڑھا کرتے تھے) میں جاکر نماز پڑھی توانھوں نے حضرت عثمان کے ( ھاتھوں کے لکھے هوئے) قرآن کی بھی تلاوت کی۔ [8]

خلاصہ یہ ھے کہ سلطان سلیم نے مذکورہ چیزوں کو جمع کیا چاھے وہ خلفاء کے پاس هوں یا دوسرے افراد کے پاس، اور اس کے بعد یہ چیزیں عثمانی سلاطین کے پاس موجود رھیں، اور جب عثمانی حکومت کا خاتمہ هوا اور ”ترکی جمهوریت“ کا آغاز هواتو یہ تمام چیزیں شھر اسلامبول میں (بسفور کے کنارے جامع یاصوفیہ کے نزدیک) ” توپ قاپی قلعہ “ میں رکھ دی گئیں، جو شخص بھی ان کو دیکھناچاھے وہ دیکھ سکتا ھے۔ [9]

 



1 2 next