شفا عت کا مسئله



مقدمہ:

 

جو ذیل کی بحثو ں پر مشتمل ھے

 

شفا عت کا مفھوم

 

شفا عت کے اصول

 

مقدمہ:

من جملہ ان خصو صیا ت میں سے ایک ایسی خصوصیت کہ جس کو خدا وند عا لم نے مو منین سے مخصوص کر دیا ھے وہ یہ ھے کہ اگر کو ئی مو من شخص مر تے دم تک اپنے ایما ن کی حفا ظت کر لے جا ئے اور ایسے گنا ھو ں کا ارتکا ب نہ کر ے، جو اس کی تو فیقات کے سلب ھو جا نے کا با عث بنے اور اس کی  عا قبت کی بد بختی شک و شبہ یا انکا ر جحو د کی منز ل تک پھنچا دے، اور ایک جملہ میں یوں خلاصہ کر دیا جائے کہ اگر ایمان کے سا تھ اس دنیا سے اٹھا ئے تو وہ ھر گز ابدی عذا ب میں مبتلا نھیں ھو گا اس لئے کہ اس کے  چھوٹے گناہ ، بڑے گنا ھوں سے پرھیز کرنے کی وجہ سے بخش دئے جائیں گے، اور اُس کے بڑے گنا ہ تو بہ و استغفار کے وسیلہ سے معا ف کر دئے جا ئیں گے، اور اگر اُسے ایسی تو بہ کی تو فیق حا صل نہ ھو سکی، تو دنیا کی مصیبتیں اور پر یشا نیاں اُس کے گنا ھو ں کے بو جھ کو ھلکا کر دیں گی نیز بر زخ اور قیا مت کی ابتدا ئی سختیا ں اس کے اعما ل کے نقا ئص اور آلو دگیوں کو دو ر کر دیں گی اور اگر اس کے   با وجود اسکے گنا ھو ں کی آلو دگی پا ک نہ ھو سکی تو شفا عت کے وسیلہ سے جو اولیا ء خدا خصو صاً حضو ر سر ور  کا ئنا ت اور ان کے اھل بیت  (علیہم السلام)جو خدا کی وسیع و عظیم رحمت کی جلو ہ نما ئی کرتے ھیں،کے ذریعہ       



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 next