مذموم دنیا اور ممدوح دنیا



۱۔ مذموم دنیا

اس سے قبل ھم نے ذکر کیا تھا کہ دنیا کے دو چھرے ھیں:

(۱)ظاھری

(۲)باطنی

دنیا کا ظاھر ی چھرہ فریب کا سر چشمہ ھے ۔یہ چھرہ انسانی نفس میں حب دنیا کا جذبہ پیدا کرتا ھے جبکہ باطنی چھرہ ذریعہٴ عبرت ھے یہ انسان کے نفس میں زھدکا باعث ھوتا ھے روایات کے مطابق دنیا کا ظاھری چھرہ  مذموم ھے اور باطنی چھرہ ممدوح ھے ۔

ایسا نھیں ھے کہ واقعاً دنیا کے دو چھرے ھیں یہ فرق در حقیقت دنیا کو دیکھنے کے انداز سے پیدا ھوتا ھے ورنہ دنیا اور اسکی حقیقت ایک ھی ھے ۔فریب خور د ہ نگاہ سے اگر دنیا کو دیکھا جائے تو یہ دنیا مذموم ھوجاتی ھے اور اگر دیدئہ عبرت سے دنیا پر نگاہ کی جائے تو یھی دنیاممدوح قرار پاتی ھے ۔ دلچسپ بات یہ ھے کہ لذات وخواھشات سے لبریز دنیا کا ظاھری چھرہ ھی مذموم ھے ۔

یھاں پر دنیا کے مذموم رخ کے بارے میں چند روایات پیش کی جارھی ھیں ۔

امیر المومنین حضرت علی (علیه السلام) نے فرمایا:

<الدنیا سوق الخسران>[1]

”دنیا گھاٹے کا بازار ھے “

آپ ھی کا ارشاد ھے :



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 next