مومنین کے امتيازات



 

مقدمہ :

 ھم خدا شناسی [1]کے باب میں يه جان چکے ھیں، کہ خدا کے ارادہ کا اصل تعلق نیکےوں اور کمالات سے ھوتا ھے،اور برائےوں اور نقائص کا تعلق ارادہٴ الٰھی سے با لتبع ھوتا ھے اسی کو دیکھتے ھوئے انسان کے متعلق بھی خدا کا اصلی ارادہ اس کی ترقی و تکامل اور ابدی خوشبختی تک رسائی اور وھاں کی ابدی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے سے تعلق رکھتا ھے اور تباھکاروں اور گنھگاروں کا عذاب اور اُن کی بد بختی جو ان کے برے انتخاب کے نتیجہ میں انھیں حاصل ھوئی ھے با لتبع خدا کے حکیمانہ ارادے میں شامل ھے او ر اگر عذاب و اخروی  بد بختی میں مبتلا ھونا خود انسان کے برے انتخاب کا نتیجہ نہ ھوتا، تو خدا کی بے پايان رحمت اس بات کا تقاضا کرتی ھے، کہ اس کی ایک بھی مخلوق عذاب میں مبتلا نہ ھو[2]لیکن يه وھی خدا کی ھمہ گیر رحمت ھے کہ جس نے انسان کی آفرینش کا اقتضاء اس کے اختيارات و انتخاب کی خصوصیت قرار دیا ،اور ایمان و کفردونوں راستوں میں سے ھر ایک کے انتخاب اور اختيارات کا لازمہ ایک اچھے يا برے انجام تک پھنچ جانا ھے اس فرق کے ساتھ کہ نیک انجام تک پھنچ جانا، خدا کے اصلی ارادہ سے متعلق ھے اور دردناک عاقبت تک پھنچ جانا خدا کے تبعی ارادہ سے متعلق ھے اور ےھی فرق اس بات کا تقاضا کرتا ھے کہ تکوین میں بھی اور تشریع میں بھی(ےعنی خلقت میں بھی اور دستور العمل میں بھی)نیکی کے پھلو کو ترجیح دی جائے ےعنی انسان فطری طور سے ایسا خلق کيا گيا ھے کہ نیک کام اس کی شخصیت کو بنانے میں گھرا اثر رکھیں اور تشریعی اعتبار سے مکلف کے لئے سھل و آسان ھو تاکہ سعادت کے راستہ کو طے کرنے اور ابدی عذاب سے نجات پانے میں سخت اور جان لےوا تکلیفوں کا سامنا نہ کرنا پڑے[3]اور جزا وسزا کے موقع پر بھی اس کی جزا کے پلّے کو بھاری کرديا جائے اورخدا کی رحمت اس کے غضب پر سبقت کرجائے[4]اور خدا رحمت کا یہ تقدم و رجحان بعض امور میں مجسم ھوکر سامنے ظاھر ھوجاتا ھے کہ جس کے بعض نمونے ھمیھاں پر آپ کے سامنے ذکر کررھے ھیں۔

ثوا ب میں اضا فہ

خدا وند عالم راہ سعاد ت کے طلبگا روں کے لئے مقام انعام میں سب سے پھلی جس جزاکا قائل ھوا ھے وہ يه ھے کہ صرف عمل کے برابر ثواب اپنے بندوں کو نھیں دیتا، بلکہ اس کو بڑھا کے عطا کرتا ھے ،يه مفھوم قرآن مجید کی بعض آیتوں میں بالکل صاف بيان کيا گيا ھے ،من جملہ سورہ نمل کی آیت نمبر (۸۹) میں ارشاد ھورھا ھے،<مَن جَاءَ بَالحَسَنَةِ فَلَہُ خَیرٌ مِنہَا>جو کوئی بھی نیکی انجام دے گا اس سے بہتر اس کی جزا پائے گا۔

اور سورہٴ شوریٰ کی آیت نمبر(۲۳)میں ارشاد ھے <وَمَن ےَقتَرِف حَسَنَةً نَزِدلَہُ فِیہَا حُسناً>، جو کوئی بھی نیک کام انجام دے گا ھم اس کی نیکی کو بڑھا دیں گے۔

اور سورہٴ يونس کی آیت نمبر(۲۶) میں فرما رھا ھے<لِلَّذِ ینَ اَحسَنُوا الحُسنیٰ و زِيادَةٌ>، ان لوگوں کے لئے جنھوں نے نیکی کی ھے ،نیکی بھی ھے اور اضافہ بھی ھے۔

اور سورہٴ نساء کی آیت نمبر(۴۰) میں اس طرح آيا ھے کہ، <اِنَّ اللّہَ لَا ےَظلِمُ مِثقَالَ ذَرَّةٍ وَاِن  تِلکَ حَسَنَةً ےُضَاعِفہَا وَےُوٴتِ مِن لَدُنہُ اَجراً  عظیماً>،

اللہ کسی پر ذرہ برابر ظلم نھیں کرتا انسان کے پاس نیکی ھوتی ھے تو اسے دوگنا کردیتا ھے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا کرتا ھے اور سورہٴ انعام کی آیت نمبر(۱۶۰)میں ارشاد الھی ھے:                  <مَن جَاءَ بِا لحَسَنَةِ فَلَہُ عَشرُ اَمثَالِہَا وَمَن جَاءَ بِالسَّےئَةِ فَلَا ےُجزَیٰ اِلَّا مِثلَہَا وَہُم لَاےُظلَمُونَ>، جو شخص بھی نیکی کرے گا، اسے دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کرے گا اسے صرف اتنی ھی سزا ملے گی اور کوئی ظلم نہ کیا جا ئے گا ۔

گناھان صغیرہ کی بخشش

سعادت کی راہ پر چلنے والوں کےلئے ایک دوسرا امتياز يه ھے کہ اگر مومنین بڑے گناھوں سے پرھیز کرنے لگیں تو خدا اتنا مھربان ھے کہ وہ ان کے چھوٹے گناہ بھی معاف کردیگا اور اس کے اثر کو محو کردیگا،جیسا کہ سورہٴ نساء کی آیت نمبر(۳۱) میں ارشاد ھورھا ھے <اِن تَجتَنِبُوا کَبائِرَ مَاتُنہَونَ عَنہُ نُکَفِّر عَنکُم سَياتِکُم وَنُدخِلکُم مُدخَلاً کَرِیماً>،اگر تم بڑے بڑے گناھوں سے کہ جن سے تمھیں روکا گيا ھے پرھیز کر لوگے تو ھم دوسرے گناھوں کی پردہ پوشی کردیں گے اور تمھیں با عزت منزل تک پھنچا دیں گے۔

واضح ر ھے کہ ایسے لوگوں کے چھوٹے گناھوں کو بخشے جانے کے لئے توبہ کی شرط نھیں ھے کےونکہ توبہ بڑے بڑے گناھوں(گناہ کبیرہ) کے بخشنے کا بھی سبب ھے۔



1 2 next