بدزبانى كرنے والوں سے درگزر



 عفو،درگذر، معافى اور چشم پوشى كے حوالے سے رسول اكرم، اور اءمہ اطہار عليہم السلام كا سبق آموز برتاؤ وہاں بھى نظر آتاہے جہاں ان ہستيوں نے ان لوگوں كو معاف فرماديا كہ جو ان عظيم و كريم ہستيوں كے حضور توہين، جسارت اور بدزبانى كے مرتكب ہوئے تھے، يہ وہ افراد تھے جو ان گستاخوں كو معاف كركے ان كو شرمندہ كرديتے تھے اور اس طرح ہدايت كا راستہ فراہم ہوجايا كرتا تھا_

اعرابى كا واقعہ

ايك دن ايك اعرابى رسول خدا (ص) كى خدمت ميں پہونچا اس نے آنحضرت(ص) سے كوئي چيز مانگى آپ (ص) نے اس كو وہ چيز دينے كے بعد فرمايا كہ : كيا ميں نے تم پر كوئي احسان كيا ہے ؟ اس شخص نے كہا نہيں آپ (ص) نے ہرگز مجھ پر كوئي احسان نہيں كيا ہے _ اصحاب كو غصہ

 

155

آگيا وہ آگے بڑھے تو آپ (ص) نے ان كو منع كيا ، پھر آپ(ص) گھر كے اندر تشريف لے گئے اور واپس آكر كچھ اور بھى عطا فرمايا اور اس سے پوچھا كہ كيا اب ميں نے تم پر كوئي احسان كيا ہے ؟ اس شخص نے كہا ہاں آپ (ص) نے احسان كيا ہے خدا آپ كو جزائے خير دے_ رسول خدا (ص) نے فرمايا : تم نے جو بات ميرے اصحاب كہ سامنے كہى تھى ہوسكتاہے كہ اس سے ان كے دل ميں تمہارى طرف سے بدگمانى پيدا ہوگئي ہو لہذا اگر تم پسند كرو تو ان كے سامنے چل كر اپنى رضامندى كا اظہار كردو تا كہ ان كے دل ميں كوئي بات باقى نہ رہ جائے، وہ اصحاب كے پاس آيا پيغمبر (ص) نے فرمايا: يہ شخص مجھ سے راضى ہوگيا ہے،كيا ايسا ہى ہے ؟ اس شخص نے كہا جى ہاں خدا آپ (ص) كو اور آپ(ص) كے خاندان كو جزائے خيردے، پھر آنحضرت(ص) نے فرمايا ميرى اور اس شخص كى مثال اس آدمى جيسى ہے جسكى اونٹنى كھل كر بھاگ گئي ہو لوگ اس كا پيچھا كررہے ہوں اور وہ بھاگى جارہى ہو،اونٹنى كا مالك كہے كہ تم لوگ ہٹ جاو مجھے معلوم ہے كہ اس كو كيسے رام كيا جاتا ہے پھر مالك آگے بڑھے اور اس كے سر اور چہرہ پر ہاتھ پھيرے اس كے جسم اور چہرہ سے گرد و غبار صاف كرے اور اسكى رسى پكڑلے، اگر كل ميں تم كو چھوڑ ديتا تو تم بد زبانى كى بناپر اس كو قتل كرديتے اور يہ جہنم ميں چلاجاتا_


1)(سفينةا لبحار ج1 ص416)_

 

156

امام حسن مجتبى اورشامى شخص



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 next