حضرات معصومین علیهم السلام کے منتخب اخلاق کے نمونے (1)



  

پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کے منتخب اخلاق

سب سے زیادہ برکت والا مال

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ھیں: رسول اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کا لباس بوسیدہ ھوچکا تھا، ایک شخص رسول خدا (صلی الله علیه و آله و سلم) کی خدمت میں حاضر ھوا اور آپ کو بارہ درھم ہدیہ کے طور پر دئے، آنحضرت (ص) نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: ان بارہ درھموں کا میرے لئے ایک پیراہن خرید لاؤ تاکہ میں پہن سکوں۔

علی علیہ السلام فرماتے ھیں کہ: میںایک روز بازار گیا اور بارہ درھموں کا ایک پیراہن آنحضرت (ص)  کے لئے خریدا، اس کو آپ کی خدمت میں لے گیا، پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) نے اس پر ایک نگاہ ڈالی اور فرمایا: میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا پیراہن چاہتا ھوں، میرا خیال ھے کہ دکان والا اس کو واپس لے سکتا ھے جاؤ اور اس سے درخواست کرو کہ واپس کرلے، میںنے کہا: نھیں معلوم، پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) نے فرمایا: جاؤ اور اگر واپس کرلے تو بہتر ھے۔

میں دکان والے کے پاس گیااور اس سے کہا: پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) کو یہ پیراہن پسند نھیں آیاوہ کوئی کم قیمت کا پیراہن چاہتے ھیں، لہٰذا اگر ممکن ھو تو اسے واپس لے لے۔

چنانچہ دکاندار نے وہ پیراہن واپس کرلیا اور بارہ درھم واپس دیدئے، اور میں وہ درھم حضرت رسول خدا (صلی الله علیه و آله و سلم) کی خدمت میں لے گیا، اس کے بعد آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) پیراہن خریدنے کے لئے میرے ساتھ بازار کی طرف روانہ ھوئے ، راستہ میں آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) کی نگاہ ایک ایسی کنیز پر پڑی جو راستہ میں بیٹھی ھوئی رو رھی تھی، یہ دیکھ کر آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) نے اس سے کہا: تجھے کیا ھوگیا ھے؟ اس نے کہا: میرے مالک نے مجھے چار درھم دئے تاکہ اس کے لئے ضروری اشیاء خریدوں، لیکن وہ میرے چار درھم گم ھوگئے ھیں، اور مجھ میں گھر واپس جانے کی جرائت نھیں ھے۔

آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) نے چار درھم اس کو دئے اور حکم دیا کہ گھر واپس جاؤ، اور پھر چار درھم میں ایک پیراہن خریدا اور اس کو پہن کر خدا کا شکر ادا کیا۔

پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) بازار سے واپس چلے تو اچانک ایک برہنہ شخص کو دیکھا جو کہہ رہا تھا: اگر کوئی مجھے لباس عطا کرے تو خداوندعالم اس کو بہشتی لباس عطا کرے گا! یہ دیکھ کر آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) نے اس نئے پیراہن کو اتارا اور اس غریب کو دیدیا، اور پھر بازار میں گئے اور باقی بچے چار درھموں سے ایک دوسرا پیراہن خریدا اور اس کو پہن کر خدا کا شکر ادا کیا اور اپنے بیت الشرف کی طرف روانہ ھوگئے۔

راستہ میں اسی کنیز کو دوبارہ دیکھا جو پھر بھی اسی طرح بیٹھی ھوئی تھی، آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) نے اس سے فرمایا: تو کیوں ابھی تک اپنے گھر واپس نھیں گئی ؟ اس نے کہا: مجھے جانے میں بہت دیر ھوگئی ھے ڈرتی ھوں کہ کھیں مجھے سزا  نہ دی جائے، پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) نے فرمایا: میرے ساتھ چل میں تیرے گھر پہنچا دوں اور تیری سفارش کردوں۔

پیغمبر اکرم (صلی الله علیه و آله و سلم) اس کے گھر کے دروازہ پر تشریف لائے اور فرمایا: اے اھل خانہ! تم پر درود ھو! لیکن کوئی جواب نھیں آیا! آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) نے د وبارہ سلام کیا لیکن پھر بھی کوئی جواب نھیں آیا، تیسری بار آنحضرت نے سلام کیا تو جواب ملا، آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) نے فرمایا: تم نے پھلی اور دوسری مرتبہ میرا جواب کیوں نھیں دیا، تو انھوں نے کہا: یا رسول الله! ھم نے آپ کے سلام کو سنا لیکن ھم  آپ کی آواز کو کئی بار سننا چاہتے تھے، تب آنحضرت (صلی الله علیه و آله و سلم) نے فرمایا: یہ کنیز جس کے آنے میں تاخیر ھوگئی ھے اس کو تنبیہ نہ کرنا، انھوں نے کہا: یا رسول الله! ھم اس کو اس وجہ سے راہ خدا میں آزاد کرتے ھیں کہ اس کی خاطر آپ کے قدم مبارک ھمارے دروازے تک آگئے ۔



1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26 27 28 29 30 31 32 33 34 35 36 37 38 39 40 41 42 43 44 45 46 47 48 49 50 51 52 53 54 55 56 57 58 59 60 61 62 63 64 65 66 67 68 69 70 71 72 73 74 75 76 77 78 79 80 81 82 next